وفاقی وزیر خوراک و زراعت، سید فخر امام شاہ کی کسانوں کیلئے خصوصی کاوشیں ۔
کھاد پر زرتلافی پیکج پر عمل درآمد کے طریقوں پر صوبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ سید فخر امام
اسلام آباد کھاد پر زرتلافی پیکج پر عمل درآمد کے طریقوں پر صوبوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔یہ بیان وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ وتحقیق، سید فخر امام نےبروز بدھ زرعی مصنوعات کی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاوس میں دیا۔اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ زرعی پیکج کے تحت کسانوں کوکھاد پر زرتلافی دیا جائے گا۔ اس سلسے میں صوبوں اور کھاد کے مینوفیکچررز کے ساتھ 2 میٹنگیں کی گئی ہیں۔ہر صوبہ شفاف طریقہ کار بناۓ جس کے ذریعے کسانوں کو کھادوں کی خریداری پر37 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔اس اجلاس کے دوران سید فخر امام نے وفاقی وزیر غلام سرور خان اور پی آئی اے کا شکریہ ادا کیا کہ آم کی برآمد کے لیۓ نہایت مناسب فریٹ ریٹ رکھے گئے۔انکا مزید کہنا تھا کہ آم کو زمینی راستہ سے ایران برآمد کرنے کے لیۓ ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے سال 28 ہزار ٹن آم برآمد کیا گیا۔جب کہ اس سال ابھی تک 4 ہزار ٹن آم برآمد کیا گیا ہے۔برآمد کو اس سال زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائیگا۔اس کے علاوہ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹیوب ویل کو شمسی انرجی پر لے جایا جاۓ۔اس سلسلے میں وزارت ومی غذائی تحفظ فزییلیٹی بناۓ گی۔












