علامہ حسین الوانی۔۔مفسر ومدبرقرآن۔۔اصلاح امت کیلیے ان کی زندگی کی چند کرنیں۔۔
مولانا حسین علی الوانی چودھویں صدی ہجری کے ممتاز عالم دین، مصلح، مفسر قرآن، داعئ توحید و سنت اور شیخ طریقت تھے۔[1]
**ولادت اور تعلیم ترميم:-
مولانا حسین علی الوانی 1283ھ / 1866ء یا 1867ء میں واں بھچراں ضلع میانوالی کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے قریب موضع شادیہ اور بندیال میں مولانا سلطان محمود نامی سے حاصل کی بعض کتابیں اپنے والد ماجد سے پڑھیں۔ 1302ھ میں رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ان سے سندِ حدیث حاصل کی۔ کچھ عرصہ محمد مظہر نانوتوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے تفسیر قرآن کا درس لیا۔ 1304ھ میں احمد حسن کانپوری رحمۃ اللّٰہ علیہ سے منطق و فلسفہ کی تکمیل کرکے وطن لوٹے۔[2]
**درس و تدریس ترميم:-
واپس آکر انہوں نے اپنے قصبہ واں بھچراں میں تدریس کا آغاز کیا۔ابتداء میں درسی کتب صرف و نحو فقہ وغیرہ فنون کی کتابیں پڑھائیں۔دور دور سے طلباء پڑھنے کے لیے آتے تھے۔[3]
**آغاز تدریس قرآن ترميم:-
پھر انہوں قرآن مجید کی تدریس کا آغاز کیا۔وہ بڑے مدلل اور پرمغز طریقے سے تفسیر پڑھاتے تھے۔ان کی تفسیری مہارت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا.[4] وہ نظم قرآن پر خصوصی توجہ دیتے اور قرآن کا مغز اور خلاصہ بیان کرتے۔ان کے نزدیک قرآن کا اصل موضوع توحید ہے جس کی وضاحت ان کے شاگردوں نے اپنی بعض کتب میں کی ہے۔ان کا یہ طریقہ تدریس ہم عصر علماء سے منفرد حیثیت کا حامل رہا یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس ایسے علماء بھی تفسیر پڑھنے کیلئے آتے تھے جن کی زندگیاں درس و تدریس میں گزر چکی تھیں۔ان کے اس سلسلہ تفسیر کو ان کے تلامذہ نے آگے بڑھایا اور بڑی حد تک کامیاب ہوئے۔
**تبلیغی مساعی ترميم:-
انہوں نے بیعت کرنے کے بعد عوام کی اصلاح کا آغاز کیا۔پہلے معاشرے کا بغور مطالعہ کیا جوکہ شرک و بدعت کے اندھیروں میں لپٹا ہوا تھا۔بعض خانقاہوں میں خود جا کر بچشم خود بدعات کا مشاہدہ کیا۔خانقاہی مسند نشینوں سے تبادلہء خیال کیا جو قرآن و سنت کے دلائل سن کر وقتی طور پر تو متاثر ہو جاتے لیکن مشرکانہ رسومات کو بالکلیہ ترک کر دینے میں انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگتا۔زوال اقتدار کا اندیشہ انہیں تعلیم حق سے روک دیتا۔ جب وہ ان کی اصلاح سے مایوس ہوئے تو براہ راست عوام سے مخاطب ہو کر ان کی اصلاح کرنا چاہیی۔انہوں نے دو اصلاحی شعبے قائم کیے ایک شعبہ درس و تعلیم اور دوسرا شعبہ وعظ و تبلیغ۔ اکثر و بیش تر وہ اپنے شاگردوں کو ساتھ لے کر تبلیغ کے لیے نکل جاتے اور بڑے بڑے مجمعوں میں خود درس قرآن دیتے۔[5] مولانا کا اصل ذوق توحید تھا جو ان کے شاگردوں میں بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔وہ جہاں جاتے اسی طرز پر توحید بیان کرتے۔اسی بناء پر انہیں معاصرین متشدد کہا کرتے تھے۔
**رد عمل ترميم:-
رد عمل کے طور پر انہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے شرک و بدعت کی مخالفت میں ماریں کھائیں۔جیلوں میں مبحوس ہوئے۔معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ان کو شہر چھوڑ کر اپنی مزروعہ زمین پر آباد ہونا پڑا۔[6] دوسری جانب کئی لوگوں کی اصلاح ہوئی۔شرک و بدعت سے توبہ تائب ہوکر توحید و سنت کے رکھوالے بنے۔
**تصانیف ترميم:-
انہوں نے وعظ و تدریس کے علاوہ تصنیف و تالیف کے ذریعے بھی شرک و بدعت کے خاتمہ کے لیے بڑا کام کیا۔ آپ نے ہر موضوع پر کتابیں لکھیں جن میں:
؎بلغة الحیران فی ربط آیات القرآن،
؎تفسیر بے نظیر،
؎تلخیص الطحاوی،
؎تحریرات حدیث علی اصول التحقیق،
؎تقریر الجنجوہی علی صحیح البخاری،
؎تقریر الجنجوہی علی صحیح المسلم،
؎برہان التسلیم،
؎خلاصہ فتح التقدیر،
؎تحفہ ابراہیمیہ اور
؎حواشی فوائد عثمانی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
2008ء میں اول الذکر کتاب پر ڈاکٹر سراج الاسلام حنیف نے تحقیقی کام کر کے اسے دوبارہ شائع کیا جس سے کتاب کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔تفسیر بے نظیر پر مولانا محمد حسین نیلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے بدر منیر کے نام سے تحقیقی حاشیہ لکھ کر شائع کیا۔ تحریرات حدیث پر شیخ نیلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فتح المغیث کے نام سے حاشیہ اور تدوین نو کا آغاز کیا تھا لیکن ابھی صرف سو صفحات تک ہی کام مکمل ہو پایا تھا کہ شیخ نیلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ حوادث زمانہ کی نظر ہو گئے۔
**بیعت ترميم:-
آپ خواجہ محمد عثمان دامانی سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور خواجہ دامانی کے اصحاب خاص میں شمار ہوتے۔ اُن کی وفات کے بعد خواجہ سراج الدین کی طرف رجوع کیا اور ان ہی سے خلافت حاصل کی۔ بعد از اں آپ سلوک و تصوف کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے اور متعدد ممتاز علماء کو خلعت خلافت سے نوازا۔
**تلامذہ ترميم:-
آپ نے ریت کے ٹیلوں پر بیٹھ کر بہت سے قابل شاگرد پیدا کیے۔آپ کے قابل قدر تلامذہ میں:
* مولانا سراج الدین دامانی،
* مولانا غلام رسول انّہوی،
* مولانا ولی اللہ انہوی،
* مولانا عبدالعزیز سہالوی،
* مولانا نصیر الدین غورغشتوی،
* مولانا غلام اللہ خان،
* مولانا قاضی نور محمد،
* مولانا محمد امیر بندیالوی،
* مولانا قاضی شمس الدین،
* مولانا محمد سرفراز خان صفدر،
* مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاری،
* مولانا محمد طاہر پنج پیری،
* مولانا محمد شاہ جہلمی،
* مولانا عبدالرؤف بوچھالوی،
* مولانا محمد زمان سنگوالوی،
* مولانا یار محمد ملتانی،
* مولانا عبداللہ بہلوی وغیرہ شامل ہیں۔
**وفات:-
آپ نے رجب 1363ھ/25 جون 1944ء میں رحلت فرمائی۔ جنازہ میں کئی افراد نے شرکت کی اور اپنے ڈیرہ پر ہی سپرد خاک کیے گئے۔
**حوالہ جات ترميم:-
(1)؎ ماہنامہ ضیائے توحید سرگودھا،شمارہ:6،جولائی 2012ء،صفحہ 28
(2)؎ مرشد کامل،مولانا خلیل احمد،صفحہ 10 و 11
(3)؎ ایضا ص 12 و 13
(4)؎ ایضا ص 16
(5)؎ ایضا ص 16
(6)؎ ایضا ص 17
مزید مطالعہ ترميم
آپ کے حالات زندگی پر کئی کتب شائع ہو چکی ہیں جن میں
*؎مولانا حسین علی حیات تعلیمات کردار از میاں محمد الیاس محمود
*؎ذکر الوانی،مرتب:میاں محمد الیاس محمود
*؎سوانح مولانا حسین علی الوانی از مولانا محمد یعقوب فیصل آبادی
*؎ناشرالقرآن از مولانا محمد حسین شاہ نیلوی
*؎مرشد کامل از مولانا خلیل احمد واں بچھروی
وغیرہ اہم تصور کی جاتی ہیں۔












