شور مچا کہ ایک تاریخی ڈراما دیکھنا چھوڑ کر اپنے ڈرامے دیکھو اپنا کلچر دیکھو ۔

اے آر وائے لگایا ”
جَلن” میں بہن اپنے بہنوئی پر فدا ،

“عشقیہ ” بہنوئی سالی پر فدا ۔۔

جیو لگایا ” دیوانگی ” باس اپنے ملازم کی بیوی پر فدا ،

ہم لگایا ” پیار کے صدقے ” سسر اپنی بہو پر فدا ،

دلربا میں لڑکی کا ایک ساتھ چار افراد کے ساتھ عشق ،

آپ سب دیکھ لو اب یہ ہمارا کلچر ہے۔

رائیٹرز۔
پروڈیوسر۔
ڈاٸریکٹر ز
کے اپنے گھروں کا کلچر ھے یہ یا انکے خاندان کا سمجھ سے بالاتر ھے

ہم سب کو ایسے ڈراموں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے ہے ۔
ورنہ آنے والا کل ہر گھر کی یہی کہانی ہوگی ۔اور ہماری آنے والی نسلیں کفر سے بھی زیادہ بدتر کہلاٸیں گی ۔
پھر ہمیں کوٸی صحیح نہیں کر سکتا ۔
بات غور طلب تو ہے اگر سمجھی جائے۔
اب اس پوسٹ پے فتوے آ جائیں گے اور موجودہ وقت کے انٹیلیکچولز بے ہد کمینٹس بھی کریں گے۔