قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے جناب حضرت محمد الرسول اللہﷺ کے نام کے ساتھ خاتم النبیین کا لفظ لازمی قراردینے کی قراردادپیش کی جس کو تمام پارلیمانی جماعتوں نے متفقہ طور پر منظورکرلیاہے ۔اس سے قبل پنجاب اسمبلی میں بھی رسالت مآب ﷺ صحابہ کرام واہل بیت عظام رضوان اللہ اجعمین کے ناموس کے تحفظ اور نصاب سے گستاخانہ مواد خارج کرنے اور آئندہ نصاب علماء کی زیرنگرانی بنانے کی قرارداد منظور ہوچکی ہے ۔اس کے بعد سندھ اسمبلی سے بھی یہ قرارداد منظورہوچکی ہے۔
ضیغم اسلام مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کی سرزمین ہزارہ سے منتخب ہونے والے حاجی سردارصالح محمد نے قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوۓ جس دکھ اور کرب کے ساتھ یہ الفاظ کہے ہیں اور ایوان سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیاپر حضرت محمد ﷺ اور اہل بیت عظام و صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی گستاخی کی جارہی ہے یہ ایک مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔گستاخانہ لٹریچر پرپابندی اور اس کو لکھنے اور شائع کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جاۓ۔اس ایوان میں تحفظ ناموس صحابہؓ بل منظور کرکے ایسی قانون سازی کی جاۓ۔جس سے گستاخ صحابہؓ کو عبرت ناک سزا ہوسکے۔خلفاء راشدین کے ایام ہاۓ وفات و شہادت کو سرکاری سطح پر منایا جاۓ۔
الحمد للہ جس مطالبہ اور نظریہ پر اہلسنت والجماعت کی بنیاد رکھی گئی تھی آج اس کی بنیاد رکھنے والے دنیا میں تو موجود نہیں ہیں لیکن ان کی زبان سے نکلے ہوۓ الفاظ اور ان کے دیکھے ہوۓ خواب شرمندہ تعبیر ضرورہورہے ہیں۔آج میرے قائدین امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید،علامہ ایثار القاسمی شہید،علامہ ضیاءالرحمن فاروقی شہید،تحفظ ناموس صحابہ بل کے لیے سرگرداں رہنے والےجرنیل اہلسنت علامہ اعظم طارق شہید،حضرت علامہ علی شیر حیدری شہید کی روحیں ضرور خوش ہورہی ہوں گی۔تحفظ ناموس صحابہؓ کے لیے دس ہزار قربان ہونے والے کارکنان کا لہو رنگ لارہاہے۔پاکستان کے اہم ترین ایوان میں آج حق نواز کی آواز گونج رہی ہے۔ان شاء اللہ اب وہ وقت دور نہیں جب مرشد کامل علامہ علی شیرحیدری شہید کی دعائیں رنگ لائیں گی اور تحفظ ناموس صحابہ بل منظور ہوکر گستاخ صحابہ کے لیے عبرت ناک سزا کا اعلان کیا جاۓ گا۔گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں گستاخ صحابہ کے خلاف مقدمات درج ہوچکے ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ اولامقدمات ہی درج نہیں ہوتے اگر ہوبھی جائیں تو ایسی کمزور دفعات لگائی جاتی ہیں جو فوری قابل ضمانت ہوتی ہیں ۔کمزور دفعات واقعات میں مزید اضافے کاسبب بنتی ہیں
ہم امید کرتے ہیں کہ ارباب حل و عقد اس پر ضرور غور کریں گے۔
محمد احمد لدھیانوی