وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کراچی طیارہ حادثہ کی عبوری رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائلٹ کی توجہ جہاز سنبھالنے کے بجائے کورونا وائرس پر تھی ،جہاز بالکل تکنیکی طورپر درست تھا ، پائلٹ ، معاون پائلٹ اور ائیر کنٹرولر ذمہ دار ہیں ، 29گھر حادثے میں مکمل طورپر تباہ ہوئے 19افراد کو فی کس دس لاکھ روپے فراہم کئے گئے ،ایک گھر کی شہید بچی کو بھی معاوضہ دیا ہے ،بالکل شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہورہی ہے ،عبوری رپورٹ پیش کررہا ہوں ، مکمل انکوائری رپورٹ میں تمام تر معاوضہ جات ، محرکات اور حقائق سامنے لائیں گے، طیارہ حادثے کی مکمل رپورٹ تیار ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا،سابق تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی اورنہ حقائق عوام تک پہنچے، پائلٹ کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کروایا
جاتا ہے جو دکھ کی بات ہے ، بد قسمتی سے پی آئی اے کے پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں ،چالیس فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، کارروائی کا آغاز کر دیا ہے کسی کو معاف نہیں کیا جائیگا ،بھرپور ایکشن ہوگا ، معاملے کو بلا تفریق آگے بڑھائیں گے، اسے سیاسی رنگ ہرگز نہ دیا جائے، پی آئی اے کی نجکاری نہیں کریں گے ،اس کی تنظیم نو کریں گے ،اسے ساٹھ کی دہائی والا ادارہ بنائیں گے۔
بدھ کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے ایوان میں طیارہ حادثہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہاکہ بدقسمتی سے یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ،بہتر سالوں میں بارہ واقعات ہوئے ہیں ،ان بارہ واقعات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی ،ذمہ داروں کا تعین اور سزا بارے کوئی نہیں جان سکا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ کراچی میں طیارہ حادثہ میں 97 افراد شہید ہوئے، اسی رات ایک ٹیم تشکیل دی جو سینئر ترین افراد پر مشتمل بورڈ تھا ،اسی رات یہ بورڈ کراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا ۔
انہوںنے کہاکہ سابق تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی نہ حقائق عوام تک پہنچے ،آج تک عوام اور مرنے والوں کے لواحقین میں تشنگی جاری رہی کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون تھے ،وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی اور کورونا کی صورتحال کے باوجود انکوائری بورڈ نے احساس ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی ادا کئے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ بائیس تاریخ کا واقعہ اور چھبیس تاریخ کو فرانسیسی ٹیم موقع پر آئی ،دس لوگ اٴْنکے اور چار لوگ ہمارے تھے ،ایک عوامی رائے سامنے آئی کہ پائلٹس کو بھی انکوائری کمیٹی کا حصہ بنایا جائے ۔
انہوںنے کہاکہ ائیر بلیو کے دو پائلٹس کو کمیٹی کا حصہ بنایا ،بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کہتا ہوں ایک شفاف انکوائری ہو رہی ہے ،یہ ایک عبوری رپورٹ ہے ،مکمل انکوائری رپورٹ میں تمام تر معاوضہ جات ، محرکات اور حقائق سامنے لائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ جس کمپنی نے جہاز بنایا وہحکومت فرانس کا نمائندہ تھا اور ایک امریکن بھی اس میں موجود تھا ۔
انہوںنے کہاکہ دس غیر ملکی افراد میں سے چار افراد ملکی افراد تھے ، پائلٹ بھی سٹیک ہولڈرز تھے اس لیے اس بورڈ کو بڑھایا ،اس انکوائری بورڈ میں ایئر بلیو کے دو پائلٹ جو اے تھری جہاز اڑاتے تھے انہیں شامل کیا گیا ،بین الاقوامی پائلٹ ایسوسی ایشن کو خط لکھا ایک اے تھری پائلٹ اور ٹیکنیشن بھجوایا جائے تاکہ اس کی شفاف تحقیقات ہوسکیں ،اے تھری کا سب سے بڑا نیٹ ورک ترکش کمپنی کے پاس ہے اسے شامل کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔
انہوںنے کہاکہ جب مکمل رپورٹ اس ایوان کی سامنے پیش کی جائے گی تو تمام تر وجوہات، محرکات اور معاوضے کی تفصیلات اس میں شامل ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ 29 گھر اس حادثہ میں مکمل تباہ ہوئے کا ازالہ بھی کیا جائے گا، متاثرہ افراد کو متبادل رہائش گاہیں بھی فراہم کی گئی ہیں،کسی کے دکھوں کا مداوا اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا مگر جس حد ہم کرسکتے تھے ہم نے متبادل دینے کی کوشش کی،جو افراد جاں بحق ہوئے ان میں 90افراد کو فی کس 10 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں ،ایک گھر کی بچی بھی شہید ہوئی اس کو بھی معاوضہ دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ دو اہم شواہد ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر کے آخری الفاظ بھی میں نے سنے ہیں ،اس کے علاوہ مستند ریکارڈ کوئی نہیں ہوسکتا ۔ انہوکںنے کہاکہ یکم جون کو ریکارڈر فرانس گیا ،دو جون کو دس لوگوں کی موجودگی میں سنا گیا ،وہ سارا رپورٹ کا حصہ ہوگا ،وائس ریکارڈر جو ہم نے سنا ،ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارے سوفیصد فٹ تھا ۔
انہوںنے کہاکہ سات مئی تک کرونا کی وجہ جہاز رکا رہا ،چھ مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں ،ایک شارجہ اور پانچ پراوزیں اندرون ملک کیں ،پائلٹ اور معاون پائلٹ تندرست تھے ،پائلٹ نے فائنل اپروچ پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی ۔ انہوںنے کہاکہ رن وے سے دوہزار فٹ پہ ہونا چاہئے تھا ،جہاز سات ہزار فٹ کی بلندی پر تھا ،وائس ریکارڈر میں موجود ایئر کنٹرولر نے پائلٹ کو کہا آپ اونچی اڑان پر ہیں ایک چکر لگا کر آئیں ،دس نائٹیکل میلز پر لینڈنگ فیئر کھولے گئے ،پھر بند کرلئے گئے ،لینڈنگ گیر کے بغیر جہاز تین بار جمپ لیتا ہے ،رن وے پر لگڑے کھاتا رہا ،پھر جہاز کو اڑا لیا ۔
انہوںنے کہاکہ کنٹرول ٹاور کی بھی غلطی ہے پائلٹ کو نہیں بتایا ،یہ سب کچھ ویڈیوز میں موجود ہے ،جب اس نے اڑنے کی کوشش کی تو دونوں آگ پکڑ چکے تھے ،جہاز آبادی پر گر گیا ۔ انہوںنے کہاکہ حادثے میں دو بچ جانے والوں سے ملا ہوں ،تین منزلوں تین بار بچنے والا گیند کی طرح اچھلتا رہا،بچ جانے والے نے پہلی کال ماں کو کی کہ اس کی وجہ سے بچا۔ انہوںنے کہاکہ پائلٹ اور کنٹرولر دونوں کی غلطی تھی۔
انہوںنے کہاکہ پائلٹ نے آخر میں تین بار یااللہ یا اللہ یااللہ کا کہا ،پائلٹ اور معاون دونوں کورونا پر بات کررہے تھے ،دونوں کے سروں پر کورونا سوار تھا ،پائلٹ نے آٹو لینڈنگ سے مینول لینڈنگ پر ڈالا ،دونوں کے خاندان کورونا سے متاثر تھے ،جو دنیا سے چلے گئے ہیں اللہ تعالی اٴْنکی مغفرت فرمائے لیکن جو ذمہ دار حیات ہیں اٴْنکے خلاف ضرور کاروائی ہوگی ۔
انہوںنے کہاکہ مکمل رپورٹ ایک سال میں آئے گی۔ انہوںنے کہاکہ ماضی قریب میں جو چار حادثات ہوئے ، ایک حادثہ 2010 میں اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں سے ٹکرایا ،دوسرا واقعہ بوجا ایئر لائن کا حادثہ بھی مارگلہ اسلام آباد کے قریب ہوا ،تیسرا واقعہ حویلیاں کے قریب اور چوتھا گلگت بلتستان کے قریب ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے پی آئی اے سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا ،بدقسمتی سے جعلی ڈگریاں چار پائلٹس کی نکلی تھیں،سیاستدان، سرکاری اداروں میں بہت سے اداروں میں جعلی ڈگریوں کے کیس آئے ۔
انہوںنے کہاکہ پاکستان میں ایل ٹی وی اور ایچ ٹی وی لائسنس کیلئے کسی امتحان کی ضرورت نہیں، صرف پیسے سے لائسنس مل جاتا ہے ،کتنے بس حادثے ہوئے، آج تک کسی ڈرائیوز کو سزا نہیں ہوئی اگر کسی کے خلاف مقدمہ چلے تو وہ بری بھی ہوجاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان میں 860 پائلٹس ہیں جن میں 262 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی تھیں،ہم دنیا کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں کہ چالیس فیصد پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں،ہم نے کارروائی شروع کردی ہے،54 میں 28 کو اظہار وجوہ کا نوٹس دیا گیا،نو پائلٹس نے اعتراف بھی کرلیا ہے لیکن کسی کو معاف نہیں کیا جائیگا،اس معاملے کو سیاست زدہ نہیں ہونا چاہیے،یہ معاملہ قومی سلامتی کا ہے۔
انہوںنے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہوگی اس کی ری اسٹرکچرنگ ہوگی۔انہوںنے کہاکہ اداروں میں میرٹ کی دھجیاں اٴْڑائیں گئیں ،آٹھ سو ساٹھ میں سے دو سو باسٹھ نے امتحانات خود کلیئر نہیں کیے ،پہلے فیز میں چون کیسز میں سے اٹھائیس لوگوں کو نوٹسز دئیے ،اٹھارہ لوگوں کی پرسنل ہیرنگ کی ،نو لوگوں نے غلطی تسلیم کرلی اور کہا کہ ہمیں معاف کردیں ،ہم کسی کو معاف نہیں کریں گے ،اٴْن لوگوں کے خلاف ایکشن ہوگا اور بھرپور ہوگا ۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ جتنی میٹنگز پی آئی اے پر کی ہیں اتنی کسی اور ایشو پر اب نہیں ہوئیں ۔ انہوںنے ایک بارپھر کہاکہ تمام حادثات کی مکمل رپورٹ اس ایوان میں پیش کرینگے۔ سید نوید قمر نے کہاکہ جب بھی کوئی رپورٹ ایوان میں پیش ہوتی ہے اٴْسے قائمہ کمیٹی کو بھیجی جاتی ہے جس کے بعد طیارہ حادثے کی رپورٹ متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردی گئی۔