انصاف یا طوائف
تحریر انجنئیروسیم اقبال میئو
04 اپریل 2019 کو ایک خبراخبارات کی زینت بنی کی کہ سپریم کورٹ نے ایک مرغی چور کی درخواست ضمانت مستردکردی جبکہ ہولیس مال مسروقہ بھی برآمد نہ کرسکی ‘عدل و انصاف’ نامی Horror مووی کا ہلکا سا ٹریلر اس وقت ریلیز ہوا جب لاہور کے ایک پان فروش کو اہنی ہانچ دن کی قید کے خلاف اپیل کرنے کی پاداش میں چھ سال قید میں گزارنے پڑے
میں چنیوٹ کی اس خاتون کو خوش قسمت گردانوں گا جسے 400 روپے رشوت نہ دینے کے جرم میں بیس سال بعد رہائ مل گئ ورنہ اس سے پہلے بہاولپور کے دو بھائ ہھانسی کے بعد باعزت بری ہو چکے
چہیتے صاحبان 40 سیکنڈ کی کال پر اہلی نا اہلی کا فیصلہ تو کردیتے ہیں جبکہ عام پاکستانی کی انصاف کی بھیک مانگتے تین نسلیں گزر جاتی ہیں
اگر اب منصف اعلیٰ سے یہ پوچھ لیا جائے جناب دبئ میں آپ کے نام پر تین جائیدادیں ہیں تو فوراً انصاف کی باندی کی عزت و ناموس خطرے میں آجاتی ہے
جناب جب شراب آپ کی آنکھوں کے آگے شہد میں تبدیل ہوجاتی ہے،جب قاتل انصاف کی درگاہ سے بنا کر ہھولوں میں لدے وکٹری کا نشان بنا کر باہر نکلتے ہیں تو اس وقت نہ عدلیہ کی عزت کا مسلہ ہوتا ہے نہ نظام کو خطرہ ہوتا ہے
ایسا کیوں۔۔۔۔۔۔
عدل و انصاف کسی قوم می عروج و ترقی کا پہلا ذینہ ہے
مہذب معاشرے میں انصاف میں سست روی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوتی
اور نہ ہی ہم اس نظام سے نکلنا چاہتے ہیں ایک روایتی سست اور یکطرفہ نظام عدل لوگوں کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے
معاشرے میں قتل و غارت کےبڑھتے کی ایک وجہ قوم کا عدالتوں پر عدم اعتماد ہے اور لوگ قانون ہاتھ میں لے کر اپنے فیصلے خود کرنے پر مجبور ہیں
جب عدالتیں امرا کی زرخرید باندی کا کام کررہی ہوں اور غریبوں کو ہر تاریخ پر تاریخ کے نیوتے مل رہے ہیں اور پانچ سالوں میں معزز جج کیس کی ایک سنوائ بھی نہ سن سکیں وہاں خونی انقلاب کی راہ تو ہموار ہوسکتی ہے لیکن اس معاشرے کے نصیب میں کبھی امن کی سحر نہیں ہوسکتی لیکن مایوسی بدامنی اور پریشانی کی وراثت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے








