مشیت ایزدی بارے نااہل وزیر سائنس کا احتساب۔وقت کا تقاضا
تحریر مجیب الرحمان
تخلیق کے اعتبار سے انسان نظر آنے والے بعض دفعہ اپنے گھٹیا نظریات کی بنیاد پر پست ترین درجہ اور اپنی وقعت کے اعتبار سےجانوروں سے بھی گئے گزرے ہوجاتے ہیں
لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پر ایسے جاہل بے دین اور احمق لوگ مسلط ہیں کہ جنہیں دین کا کوئی علم نہیں
جو اپنے جہالت کی بنیاد پر مذہبی تعلیمات کو توہمات قرار دے رہے ہیں جو کہ اسلام کی صریح توہین ہے
جب آرٹس کے مضامین کے ساتھ آخری درجے میں مشکل سے وکالت کرنے
والا نیم خواندہ شخص سائنس کا وزیر لگا دیا جائے تو یہی حالت ہوتی ہے
کہ جو جہالت کے مظہر وزیر سائنس کی ٹویٹس سے نظر آتی ہے۔
وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عہدے پرفائز اس جاہل کو یہ معلوم نہیں کہ
آپ ؐ نے فرمایا ہے کہ سورج اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اللہ اس کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں۔
فواد چوہدری جیسے لوگ اپنے گھٹیا افکار و نظریات کا اس طرح پرچار کرتے ہیں گویا وقت کے افلاطون ہیں جبکہ انکی علمی حالات ایسے گدھوں کی مانند جو اپنی پیٹھوں پر کتاب کا بوجھ بھی نہیں سنبھال سکے.
اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات ہے شریعت کی ابتداء وہاں سے ہوتی ہے جہاں عقل و ادراک کی انتہا ہو جب بات ایسی ہے تو پھر سائنس جس کا تعلق عقل و ادراک سے ہے، شریعت کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے ۔
جہاں کے تمام موجودات کا خالق اللہ ہے اور عالم میں ہر قسم کے تغیّرات اسی کے لفظِ کن سے ہیں وہی جانتا ہے کہ اس نے کونسا تغیّر کس وجہ سے کس حکمت کے تحت کیا جب اس کانبی فرماتے ہیں کہ چاند اور سورج گرہن بندوں کو ڈرانے کے لئے ہیں اور اس کا نبی جو کہتا ہے وہ ”ان ھو الّا وحيٌ يوحيٰ“ ہے لہٰذا چاند اور سورج گہن سے اللہ کی مشیت معلوم ہو گئی پھر اسے توہمات قرار دینا جہالت یا اسلام دشمنی کی بناء پہ ہی ہو سکتا ہے۔
سورج گرہن کے حوالے سے احادیث رسول ﷺ کا جس طرح اس جاہل اور
ان پڑھ وزیر نے تمسخر کیا ہے ۔۔وہ قابل مذمت ہے اور ۔۔۔۔
ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں
کہ اس نیم خواندہ ، ان پڑھ آدمی کی زبان کو روکا جائے اور اس منحوس انسان سے ملک کی وزارت کا قلم دان واپس لیا جائے ۔
کیونکہ اس نے ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے








