چوروں لٹیروں کے اس دیس میں اک امین ایسا بھی تھا….
اپنی بیٹی فاطمہ کی شادی پر ملک کی اہم شخصیات نے شرکت کی اور بچی کو بلامبالغہ لاکھوں کے تحائف ملے جن میں سونے کے زیورات بھی شامل تھے۔ تقریب کے اختتام پر رخصتی سے پہلے بیٹی اور تمام گھر والوں سے کہا:
“بیٹی ایک اہم بات کہوں گا غور سے سننا۔ یہ جو اتنے تحائف ملے ہیں یہ فاطمہ بنت منور حسن کو اس کی وجہ سے ملے ہیں یا منور حسن کی وجہ سے ملے ہیں؟ بیٹی نے کہا کہ آپ کی وجہ سے ملے ہیں۔ پوچھا! یہ تمام تحائف منور حسن کی بیٹی کو دیئے گئے ہیں یا امیر جماعت اسلامی کی بیٹی کو دیئے گئے؟ بیٹی نے کہا کہ آپ کے امیر ہونے کی وجہ سے! منور حسن صاحب نے فرمایا، ” تو ان سب تحائف کو لےجا کر جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کرادیں۔ یہ نہ فاطمہ کے لئے آئے ہیں نہ میری ذاتی حیثیت میں ملے ہیں، یہ مجھے جماعت کے امیر کے منصب کےباعث ملے ہیں ان پرحق بھی جماعت اسلامی کا ہے اور یہ سارے تحائف دین کے کام کے لئے استعمال ہونے چاہئیں۔” بیٹی نے خوشی سے سر تسلیم خم کیا اور رخصت ہو کر اپنے سسرال آگئی۔
ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے؟؟












