دوستی کے کچھ اصول
تحریر ، محمد توصیف خالد
دنیا میں قدم رکھتے ہی انسان کا مختلف لوگوں سے پالا پڑتا ہے۔ مرور ایام کے ساتھ ہی تعلقات کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس عمومی واسطے میں کچھ خصوصی تعلق بھی بننا شروع ہوجاتا ہے۔ پرتکلف اور پرسکون زندگی میں کچھ حصہ ” دوستی ” کا بھی ہوتا ہے۔ خیر و شر کے اصول سے یہ تعلق بھی خالی نہیں ، سو، بلا سوچے سمجھے تعلق استوار کرنے سے بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان کا بھی اندیشہ ہے۔
کسی بھی آدمی سے تعلق بنانے سے پہلے محسن اعظم کا یہ فرمان ( “آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ “) سامنے ہونا ضروری ہے۔ یعنی اپنی عاقبت و انجام کار کو سامنے رکھتے ہوئے کسی قسم کا تعلق قائم کیا جائے۔ دوستی و دشمنی کا محور ومرکز محض رضائے الہی ہو تو تعلقات دیرپا ، خوش کن ، مسحور کن، پرلطف، اقوی من الجبال ، علیا من السماء بن جاتے ہیں۔ ایسا رشتہ تو عبادت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ تکمیل ایمان کی بشارت اسی پاکیزہ دوستی سے منسلک ہے۔
اس میلان کا دائرہ محدود ہونا چاہیے۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا فرمان ہے؛ “دوست کے ساتھ نمک کی طرح رہو۔ موجودگی کا احساس تک نہ ہو لیکن غیر موجودگی میں بہت کمی محسوس ہو۔ ” دیرپا تعلق کے لیے سب سے اہم چیز معاملات و لین دین میں میانہ روی اور اعتدال قائم رکھنا، پوشیدہ رازوں کو افشا نہ کرنا ، ذاتی کمزوریوں کا اظہار نہ کرنا، شامل ہے۔
خوبصورت تعلق کی چند نشانیاں یہ ہیں ؛ 1) دوست مومن ہو۔2) جسے دیکھ کر اللہ تعالی کی یاد آئے۔ 3)جس سے تعلق کی بناء پر کوئ علمی یا دینی منفعت حاصل ہو۔ 4) اچھائ کی ترغیب دے اور برائ سے منع کرے۔ اگر کوئ اس قسم کا واسطہ رکھتا ہے، تو یقین جانیے! تعلقات میں برکت اور پائیداری ضرور پیدا ہوگی۔








