“خبریں اخبار” کی جانب سے سیدناامیرمعاویہؓ کے متعلق گستاخانہ جملوں کی اشاعت پر سوشل میڈیا کے احتجاج اور احتجاجی کالز کے بعد آج کے اخبار میں شائع شدہ معافی نامے پر مؤقف

متعدد احباب اور قانون فہم افراد سے مشاورت ہوئی ہے، قانون فہم افراد کے مطابق اس معافی نامے کو شائع کرکے انہوں نے اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے، اور اس پر قانونی کاروائی کی جائے تو عدالت سے سزا مل سکتی ہے، جواب میں اگر وہ یہ اپنا معافی نامہ پیش کریں تو عدالت اسے قبول نہیں کرے گی،چور اگر مالِ مسروقہ واپس کرکے معافی مانگے تب بھی اسے جرم کی سزا ملتی ہے، اس لیے اس کے خلاف ملک کے کسی بھی تھانے میں درخواست دی جاسکتی ہے، جس میں 295A , 298A کی دفعات لگتی ہیں، اگر ملک بھر میں کئی جگہ ایف آئی آرز کروائی جائیں، تو گرفت ممکن ہے!

دفاعِ صحابہؓ کی تنظیموں کو اس عنوان پر بالکل بھی غفلت نہیں برتنی چاہئیے، کیونکہ یہ کسی محفل یا مجلس میں بولے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ لکھ کر (جس میں سبقتِ لسانی کا احتمال نہیں ہوتا) ملک کے پانچ شہروں سے شائع شدہ اخبار میں چھپا ہوا کالم ہے، جو ہزاروں افراد تک پہنچتا ہے، اب اس کا یہ کالم تاریخ کا حصہ بنے گا اور کتابوں میں شائع ہوگا، جبکہ اس “گونگلؤں سے مٹی جھاڑنے” کے مترادف بیان کو کوئی دیکھے گا بھی نہیں، جبکہ ہمارے لوگ اس وضاحتی ٹکڑے کو لے کر خوش ہوجائیں گے، ماضی میں “ایکسپریس نیوز” میں شائع ایک گستاخی پر احتجاجی کالز ہوئیں تو اگلے دن نہ صرف یہ کہ انہوں نے معذرت چھاپی بلکہ اپنی ویب سائیٹ پر موجود اخبار پر سے بھی وہ حصہ سفید رنگ سے ختم کر دیا۔ اب وہ ریکارڈ کا حصہ نہ ہے، جبکہ ضیاء شاہد کا کالم خبریں اخبار کی ویب سائٹ کے علاوہ بھی کئی ویب سائٹس پر موجود ہے!

بہرحال جن سیدناامیرمعاویہؓ کے متعلق ردِ رافضیت پر کام کرنے کے بعض دعوے دار بھی سبائی روایات کا شکار ہوجاتے ہیں، اور ان کی گرفت بھی بوجہ “شخصیت پرستی” کے نہیں کی جاتی، بلکہ ممکنہ طور پر تاویل کی طرف جایا جاتا ہے، وہاں ایک اخبار اور صحافی سے ایسا ہونا یقینی امر ہے، لیکن ہر دو کی عوامی حیثیت میں فرق ہے، اس لیے “خبریں اخبار” کا یہ دو بائی تین انچ پر مشتمل وضاحتی ٹکڑا ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے، ہم بحیثیت سوشل میڈیا ورکز ان شاءاللہ اس کے متعلق لائحہ عمل طے کرکے جلد ہی ٹوئٹر ٹرینڈ کا اعلان کریں گے!

اور امید کریں گے مذہبی قیادت اور اس عنوان پر قانونی کاروائی کی طرف جانے والے افراد کو قائل کرکے اس کا مکمل تعاقب کرنے کی طرف لائیں، تاکہ گستاخی تو درکنار کوئی تنقیص کرنے سے پہلے بھی ہزار بار سوچے!

محمد رشیدی