اسلام آبا، معروف صحافی علی سلمان علوی کو اہلیہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔علی سلمان علوی پر اپنی اہلیہ صدف زہرہ پر تشدد اور قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔علی سلیمان سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کے ٹی وی شو کے پروڈیوسر ہیں۔عاصمہ شیرازی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح ہی پورے معاملے کا ٹویٹ سے پتہ چلا ہے۔انہوں نے کہا کہ نا صرف وہ بلکہ جس میڈیا گروپ کے لیے وہ کام کرتی ہیں سختی سے اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ علی کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے علی سلمان کے خلاف درج ایف آئی آر میں انہوں نے موقف اپنایا کہ مجھے میرے بہنوئی علی سلمان علوی نے فون کیا اور کہا کہ میں برباد ہو گیا ہوں
تم جلدی آؤ ساتھ ہی اس نے بولا کہ صدف نے کچھ کر لیا ہے ،جس کے بعد علی سلمان نے فون بند کر دیا۔میں نے چھوٹے بھائی فہد کو کال کی تھی کہ صدف نے اپنے ساتھ کچھ کر لیا ہے۔جب ہم گھر پہنچے تو علی سلمان گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔میری بہن گھر کے چھت والے پنکھے کے ساتھ گلے میں دوپٹہ اور بیڈ شیٹ کا پھندا بنا کر لٹکی ہوئی تھی۔جب بہن کو نیچے اتارا گیا تو وہ مردہ حالت میں تھی۔
صدف کی بہن نے الزام عائد کیا ہے کہ علی سلمان علوی میری بہن کو شروع سے ہی تنگ کرتا تھا۔
اسے مارتا پیٹتا تھا۔کئی بار سمجھایا گیا لیکن وہ باز نہ آیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے علی سلمان نے ہی ہماری بہن کو قتل کیا ہے ،لہذا اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔صحافی علی سلمان علوی کی اہلیہ کی 29 جون کو موت واقع ہوئی تھی۔
ان کی لاش کو تشدد کی حالت میں پایا گیا تھا۔صدف زہرہ کے اہلخانہ کے ذرائع کے مطابق علی سلمان علوی کے خواتین کے ساتھ تعلقات تھے اور وہ انہیں بلیک میل کرکے پیسے بھی بٹورتا تھا۔جب صدف کو پتہ چلا تو دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کا آغاز ہوا۔اور اسی وجہ سے علی سلمان نے کئی بار صدف کو تشدد کا نشانہ بنایا۔سوشل میڈیا پر صدف کو انصاف دلانے کے لیے لیے مہم کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔
جب کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر #JusticeForZahra کا ٹرینڈ بھی بن چکا ہے۔ایک صارف نے صدف زہرہ کا گھریلو تشدد سے متعلق ٹویٹ شئیر کیا۔
ایک صارف نے کہا کہ ایسے لوگوں کو لازمی سزا ہونی چاہئیے
اس کے علاوہ بھی کئی صارفین نے صدف کو انصاف دلوانے کے لیے آواز بلند کی۔












