سودی نظام معیشت
ملک نذر حسین عاصم
سود ایک لعنت ہے جسکی اسلام میں سختی سے ممانعت ہے پاکستان ایک اسلامی ملک ہے یہ اسلام کا قلعہ ہے اور اسلام قرض سے بچنےکی تلقین کرتا ہے کیونکہ قرض رات کی بے چینی اور دن کی ذلت ہوتاہے اسلئےقرض لینے سے حتی الوسع بچنا چاہیئے اگر قرض لینا ضروری ہو جائے تو فی الفور اسکی واپسی کی جائے۔ لیکن حالات سے مجبورہو کر بڑے بڑے ممالک بھی قرض لئے بغیر نہیں چل سکتے۔قیام پاکستان سے قبل برصغیر پاک وہند میں جہاں غربت تھی وہیں جہالت بھی عروج پر تھی وہاں زیادہ تر علاقوں میں ہندووں کی اکثریت تھی جو سودی کاروبار میں عروج پر تھے ان پڑھ اور مجبورلوگ ان ہندووں سے سود پر پیسے لیتے اور ہمیشہ کیلئے ان کے چنگل میں پھنس جاتے تھے کیونکہ وہ سود در سود کے عمل سے اس قرض کو اتنابڑھا چڑھا دیتے تھے کہ غریب لوگوں کی جائیداد اورگھرتک بک جاتا تھا لیکن قرض باقی ہوتا تھااور ان لوگوں کی زندگی کسمپرسی والی اور حیثیت زندہ لاش سے کم نہ ہوتی تھی ہندو سود خور دن بدن امیر ہورہا ہوتا اور مقروض کے مقدر میں پریشانی در پریشانی تھی وہ مجبور اور پھنسے ہوئے لوگوں سے ہر جائز ناجائز کام لیتے اور مجبور مقروض لوگ بے زبان بن کر سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور ہوتے تھے یہ مجبوری اتنے زیادہ مسائل پیدا کردیتی تھی کہ جرم اور گناہ کاتصور مفقود سا نظر آتا حلال حرام میں تمیز اور تفریق ختم ہوگئ تھی اور سود نے اخلاقی قدریں تہس نہس کرنا شروع کردی تھیں یہودی بھی سود خوری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے جسکی مثال امریکہ آج بھی ہمارے سامنے ہے جس نے بہت سے ممالک اور اقوام کو بے پناہ سود کے جال میں پھنسا رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی سودی نظام چل رہا ہے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اسلام نے تجارت اور کاروبار کو حلال قرار دیا ہے اور سود کے کاروبار کو حرام قرار دیا ہے ویسے بھی سود، بیاج، مارک اپ، انٹریسٹ آپ اسے کوئ بھی نام دے لیں نہ صرف حرام ہے بلکہ بہت بڑا گناہ ہے سودی نظام معیشت ایک لعنت ہے جس سے دونوں جہان کے مالک نے سختی سے منع کیا ہے ایک مجبور اور بے کس کو معمولی رقم دیکر پھر سود در سود کے ذریعے مقروض سے اتنا پیسہ وصول کیا جاتا ہے کہ اسکا دیوالیہ ہو جاتا ہے یہ مال حرام ہے جو سراسر ناجائز ہے کہ کسی غریب کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جائے اور دی گئ رقم سے کئ گنا زائد وصول کیا جائے اور اسکی جان ہلکان ہوتی رہے کہ سود دینا ہے اور ماہانہ آمدنی میں سے گذر اوقات کیلئے اسکے پاس کچھ بھی نہ بچے اور وہ پیٹ پوجا کیلئے مزید قرض لینے پر مجبور ہو جائے آج کے معاشرے میں بھی سودی کاروبار رواں دواں ہے ہمارے بینک ، ادارے یا کچھ لوگ سود پر پیسے دیتے ہیں قسط پر اشیا بھی اسی زمرے میں آتی ہیں جو اصل قیمت سے کئ گنا زائد وصول کرتے ہیں ۔
بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فرض ہے کہ ضرورت مند کو قرض حسنہ دیں اور اسکی مجبوری کے مطابق اسے اتنی مہلت دیں کہ وہ بطریق احسن قرض ادا کرسکے نیز قرض لینے والے کیلئے بھی لازم ہے کہ وہ مجبوری کے بعد اصل رقم جلد واپس کرے تاکہ وہ رقم ائندہ بھی کسی مستحق کے کام آسکے۔ ہم سود خوری سے پرہیز کریں کہ اسکی وجہ سے کہیں ہم پر اللہ کا عذاب نہ آجائے بینک اور ادارے بھی سودی نظام کا خاتمہ اور قرض حسنہ سکیم رائج کرنے کے اقدامات کریں اور جو مجبور لوگ کسی پریشانی، مصیبت یا معاشرے میں اپنا وقار بلند کرنے کیلئے قرض لیتے ہیں انکی آمدن کم ہوتی ہے ایسے لوگوں کا خیال کریں کہ یہ ہی انسانیت کی خدمت ہے۔