خفیہ ہاتھ تحریر؛ حافظ محمد عمر الغزالی چئیرمین پاکستان ذمہ دار شہری جب چھوٹے تھے تو سنتے تھے کہ ایک شخص حادثے سے بال بال بچ گیا اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ تھا ۔اس وقت ہمارے ذہن مین خفیہ ہاتھ کا مطلب اللہ کی مددو نصرت ہوتی تھی جو ہر انسان کے ساتھ موجود ہوتی ہے ۔تھوڑا بڑے ہوئے تو پتہ لگا کہ سکول میں اگر کوئی بچہ استاد کے قریب ہو تو وہ اچھے نمبرلیتا ہے تو خفیہ ہاتھ کی تعریف بدل گئی۔مزید وقت گزرا تو نوکری کی بات آئی تو سفارش اور رشوت دیکھ کر خفیہ ہاتھ کا مضمون ذہن سے بدل سا گیا۔پھر ملک کی صورتحال کا جائزہ لیا تو ٹھیکداروں کا بغیر بولی ٹھیکے لینا ۔بغیر میرٹ کے تقرریاں ہونا۔ججز کا امیروں کو فی الفور اور غریبوں کو سالوں بعد انصاف فراہم کرناخفیہ ہاتھ کی تعریف کا متن سمجھا گیا کہ خفیہ ہاتھ وہ نہ تھا جو بچپن میں سوچتے تھے خفیہ ہاتھ تو یہ ہے ۔لیکن بچپن میں ہم مسلمان تھے ہمارے اندر مسلمانیت کا غلبہ تھا بڑے ہوئے تو ایمان کا غلبہ جاتا رہا خفیہ ہاتھ کی تعریف تک ذہن میں الگ پہلو سے نقش ہو گئی۔کمزور ایمان نے ہمارے معاشرے کو انحطاط پذیر کر دیا ۔ہمارامعاشرے کے اخلاق جامد ۔اعمال خامد ۔ارادے سقیم ۔تمنائیں عقیم ۔دل سوز سے خالی ۔نگاہیں بے نور اور قلوب بے حضور ہوگئے ۔ خفیہ ہاتھ نے جھنگ کے اوپر بھی کافی دفعہ ہاتھ صاف کیا ۔ستر سال سے جھنگ کو صرف خفیہ ہاتھ نے لوٹ کھسوٹ ۔اقرباء پروری ۔فراڈ ۔بددیانتی کے سوا کچھ نہ دیا ۔کبھی خفیہ ہاتھ ائیرپورٹ سے محروم کر گیا تو کبھی موٹر ویز کو جھنگ سے دور زیادہ بہتر اور سلامتی میں سمجھا گیا ۔ممکن تھا کہ شاید جھنگ کی عوام جہازوں کے پہئیے کھول دیتی یا موٹر وے پر بھینسیں چرانے لگ جاتی ۔پھر خفیہ ہاتھ نمودار ہوا تو ریجنل گیس آفس ۔دانش سکول انتہائی کمال مہارت سے لیکر رفو چکر ہو گیا۔ خفیہ ہاتھ جب بھی ظاہر کوا کچھ نہ کچھ تو سیلاب کی بہا لے گیا جیسا کہ جھنگ کی سیوریج کا نظام ٹھیکیداروں کی کرپشن اور لیول نہ ہونے کی وجہ سے جھنگ کو اپنے اندر ہی غرق کرنے میں مصروف عمل یو گیا۔جھنگ کو لاہور کیمپس خواتین کے نام سے یونیورسٹی ملی پندرہ سال اس نے بچیون کو پڑھایا انکی فیسوں سے اسی کروڑ لاگت کا کیمپس تیار ہوا مگر ستم ظریفی ہوئئ کہ سات سال قبل منظور ہونے والی جھنگ یونیورسٹی کے اربوں کے بجٹ ۔کروڑوں کے بجٹ واپس ہوتے رہے بلڈنگ کی پہلی اینٹ تک نہ رکھی جا سکی کیونکہ ادھر خفیہ ہاتھ نے کمال مہارت دیکھانا شروع کر دیا تھا۔وائس چانسلر جو لاکھوں کی تنخواہ لیتا ہے وہ یونیورسٹی کے فنڈز واپس جاتے رہے انکو لگا نا سکا ۔خفیہ ہاتھوں نے بڑے بڑے فنڈز کی حصول کے بورڈز لگوائے مگر وہ صرف دیکھانے کے لئیے تھے کیونکہ وہ تو ہاتھی کے دانت تھے ۔خفیہ ہاتھوں نے تو سرکاری اہلکاروں کو ٹینڈرز تک روکے رکھنے کا حکم صادر کر دیا ۔پھر انہی خفیہ ہاتھوں نے وائس چانسلر کو سرکاری اہلکار سے عوامی نمائندہ بنا کر سیاسی ملاقاتوں کا یونیورسٹی آفس کو اکھاڑہ بنا دیا تو کبھی اس کو سیاسی جماعتوں کے ڈیروں پر ترلے کے لئیے بھیج دیا ۔ہمیشہ اعلی کی رہورٹ دینے والا وائس چانسلر اب یونیرسٹی کے بچوں کو خفیہ ہاتھ کے مشورے سے عوام کے مدمقابل لانا چاہتا ہے کیونکہ اس نااہلی کو چھپانے کے لئیے خفیہ ہاتھ جھنگ کی بچیوں کے کیمپس برائے لاہور یونیورسٹی پر ہاتھ صاف کرنے لگا ۔لیکن کیا وائس چانسلر کو یہ بات تقویت دے گی یا سیاست سے اسکو نقصان ہو گا جھنگ کے بچوں کو خفیہ ہاتھ کے تعاون سے جھنگ کی عوام سے سامنے لانا کیا جھنگ کے امن و امان کے خرابی کا سبب نہ ہو گا۔یہ تو آلہ کار ہیں خفیہ ہاتھ کی سنیں کبھی مارننگ ایوننگ کی کلاسسز کا ڈرامہ ۔کبھی ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی کا لولی پاپ خفیہ ہاتھ کی ستر سالہ مکاری اور عیاری کا ہی پیش خیمہ ہے۔جھنگ کو کیا ملا اربوں کے بجٹ میں جھنگ کو کارپوریشن چلانے کے پیسے تک نہ ملے کیونکہ خفیہ ہاتھ کی توجہ چینوٹ روڈ پر یونیورسٹی لیکر جانے اور اپنی ذاتی زمین اور فرنٹ مینوں کی زمین کو کاروباری لحاظ سے کمرشل کرنے پر ہے تو رکشوں پر ہر ضلع میں جہاں ڈیلی پامچ روپے ٹیکس تھا ہم نے بیس روپے لگا دیا مگر جھنگ خفیہ ہاتھ کی محنت سے گندے پانی میں بدستور غرق ہو رہا ہے ۔خفیہ ہاتھ نے میڈیا کمپین شروع کر دی ۔صلیبیون اور ہندووں سے طریقے سیکھ کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں پر آزمانا شروع کر دئیے ۔کبھی انکی کردار کشی ۔کبھی گالم گلوچ ۔تو کبھی دھمکی لگتا ایسے ہے کہ یہ اجتماعی کام نہ یے انکی ذاتی جنگ ہے جس پر یہ ذاتی دشمنی پر اتر آیا ہے مگر اس دفعہ جھنگ کے اس خفیہ ہاتھ کو سمجھ لینا چاہئیے جھنگ میں نوجوان طاقت پکڑ رہے ہیں وہ نوجوان جو خفیہ ہاتھوں کو یا کاٹ پھینکے گے یا مسل کر رکھ دیں گے مگر ذمہ دار شہری تنظیم ہو یا جماعت اسلامی ہو یا نوید سدھانہ کے نوجوان صحافی تنظیم کے ممبر ہوں خفیہ یاتھ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور اس دفعہ جھنگ میں کچھ نیا یو گا ۔ابھی فیصلہ نہیں ہوا وائس چانسلر نے لاہور کیمپس کو آرٹس کالج بنانے کا بورڈ بھی بنوا لیا ہے لگتاہے موصوف کو ذاتی دلچسبی ہے ۔جو یونیورسٹی میں نوکریوں کی تقسیم کی روداد ہے وہ تو ناقال بیان ہیں۔لاہور کیملس کے انضمام کی سمری فائنل نہیں یوئی اس کی ہرنسپل کو کس اختیار کے تحت یونیورسٹی آفس وائس چانسلر بلا کر میٹننگ بھی کرتا ہے اور ویڈیو بیان بھی لیتا ہے۔اس خفیہ ہاتھ مے جھنگ کو تباہ حال کرکے رکھ دیا یہ خفیہ ہاتھ اور کوئی نہیں ہمیشہ سے منتخب نمائندے اور جھنگ کے سیایس خاندان رہے ہیں ۔جو درباروں کے نام سے ۔مذہب کے نام سے اور قومیت کی پھکی بیچ کر بر سر اقتدار آتے ہیں اور پھر لازوال عجب کرپشن کی غضب کہانی کا منظر کھینچ ڈالتے ہیں ۔اللہ جھنگ کے حریت پسند نوجوانوں کو استحکام دے جنھوں نے خفیہ ہاتھ کی غلامی کا طوق نکال پھینکا ہے باقی بھی اس تیاری میں ہیں انشاءاللہ وقت قریب ہے جب قوم انکی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرے گی