جھنگ یونیورسٹی کا قیام ناگزیر مگر خواتین کیمپس کے سٹیٹس کی تبدیلی ناقابل قبول ہے ۔ذمہ دار شہری
جھنگ۔ (سٹار نیوز آن لائن )پاکستان ذمہ دار شہری تنظیم کے زیر اہتمام ابدالی ماڈل سکول میں خواتین راہنماوں کی پریس کانفرنس منعقد ہوئی ۔جس میں میڈیم رخسانہ مغل سابق ناظم ضلع کونسل جھنگ ۔مرکزی راہنماء پاکستان ذمہ دار شہری ۔چئیرمین السکینہ ویلفئیر ٹرسٹ ۔محترمہ فرزانہ بلوچ صدر تحریم ویلفئیر فاونڈیشن جھنگ ۔محترمہ خالدہ سجادہ راجہ صدر ہاکستان ذمہ دار شہری ویلفئیرونگ ۔مس شاہین افضال وڑائچ تحصیل صدر خواتین پاکستان ذمہ دار شہری جھنگ مس نزہت فاطمہ خان سٹی صدر خواتین پاکستان ذمہ دار شہری ۔ماریہ ملک ایڈوکیٹ سئنر نائب صدر مرکزی پاکستان ذمہ دار شہری۔سدرہ ابدالین مرکزی کنوئینر پاکستان ذمہ دار شہری نے شرکت کی ۔اس دوران راہنماوں کا کہنا تھا کہ جھنگ یونیورسٹی سات سال سے منظور ہو چکی ہے اور لاہور کیمپس برائے خواتین پندرہ سال سے کام کر رہا ہے جھنگ کے میں دونوں کا فنکشنل رہنا ضروری ہو لازم ہے ۔جھنگ کے لوگوں کا بنیادی حق یے ۔مگر ایک طرف جھنگ کے سیاستدان لاہور کیمپس کا سٹیٹس تبدیل کرنے کے درپے ہیں تو دوسری طرف جھنگ یونیورسٹی کو ٹوبہ منتقل کرنے کی افواہیں شروع ہو چکی ہیں ۔مقتدر حلقوں سے ہمارا سوال ہے کہ وہ بتائیں اس منتقلی کے پیچھے کیا راز ہے اگر جھوٹ ہے تو کلئیر کریں اگر سچ ہے تو ہم اس فیصلے کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی سمجھتے ہیں اور بھر پور مزاحمت کریں گے ۔لاہور کیمپس کا سٹیٹس جھنگ کے سیاستدان اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئیے ہر سال کروڑوں کے فنڈز کو نہ لگوانے کاجرم چھپانے کے لئیے تبدیل کرنا چاہتے ہیں یہ کسی صورت نہ ہو گا احتجاجی تحریک چلائی جائے گی ۔ہم خواتین اہنے ادارے کو جو حکومت پاکستان نے ہمیں دیا ہے کسی صورت ختم نہیں کرنے دیں گے ۔یہ خواتین کا ادارہ ہے خواتین اس کی محافظ ہیں ہمیں روڈز پر نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے ۔آج وائس چانسلر کو یاد آیا یے کہ مضامین شرو ع کرنے ہیں یہ نااہل شخص اس وقت کہاں تھا جب کروڑوں کے فنڈ واپس ہوئے اس وقت کوں نہ بولا کہ یونیورسٹی کو کمروں کی ضرورت ہے اور کلاسسز بنوائی جائیں ۔خواتین کیمپس کا سٹیٹس ختم کرنا جھنگ کی خواتین کے ساتھ سراسر زیادتی یے اور یہ ناقابل برداشت اور گھٹیا فعل ہے ۔جھنگ کی بیٹیوں کو انکے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے کہا ہم جھنگ کی بیٹیاں نہ ہیں کیا ہم جھنگ کی بہنں نہ ہیں کیا ہمارے کوئی حقوق نی ہیں کیا ہمیں تعلیم حاصل کرنے کاحق نہ ہے ۔ہم مقتدر اداروں اور جھنگ جیسے یتیم شہر کے سیاسی نمائندوں سے کہتے ہیں اس کا سٹیٹس تبدیل کرنے سے باز رہیں بلکہ اسکے حق میں آواز بلند کریں بصعرت دیگر جھنگ کی بیٹیاں آپ کو معاف نہ کریں گی ۔
رپورٹ نوید سدھانہ سٹاف رپورٹر سٹار نیوز













