الحمدللہ! وفاقی وزیر تعلیم’ شفقت محمود کے انگریزی تسلط کے خلاف جولائی کی شدید گرمی اور حبس میں پاکستان قومی زبان تحریک کا نفاذ اردو کے حق میں مظاہرہ بہت کامیاب رہا۔یہ مظاہرہ ہر لحاظ سے بھر پور’ جامع ‘ پر امن ‘ مہذب اور منظم تھا۔جس میں ہر طبقہ زندگی کی نمائندگی تھی۔ اس مظاہرے کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان میں مختلف تنظیموں نے شرکت کی۔ ان استاد’ مزدور’ کسان ‘ عسکری قیادت’ تاجر’ طلباء’ والدین’ صحافی’ سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں شامل تھیں۔
جن افراد نے اس قومی اجتماع میں شرکت کی اور انگریزی کے تسلط کے خلاف اپنے خیالات و جذبات کا اظہار کیا ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں: ہم عوام پارٹی کے وائس چئیر مین کرنل افضل رانا
ارشد خان’ انصر رضا’ ضیا الحق’ محمد سلیم چشتی’ کاشف شہزاد چوہدری صدر ٹیچرز یونین’ محمد صدیق گل ہیڈ ماسٹر’ مرکز قومی زبان اور تحریک نفاذ اردو کے نمائندے’ علی عمران شاہین’ ترجمان تحریک حریت پاکستان’ محمد رمضان میو’ محمد ذیشان بیگ’ حافظ عثمان’ محمد اشفاق’علی حیدر’ محمد جنید’ فرخ بٹ’اصف حیات’ حبیب چوہان’ بلال شیخ ‘ تحریک ریفارم پاکستان’ پارٹی’نوید عالم’ خالد اعجاز مفتی’ محمد فیضان جاوید’ ڈاکٹر شاہد نصیر’ محمد طاہر اقبال پاکستان ائیر فورس ریٹائر انجنئر رکن جماعت اسلامی ‘ پروفیسر مظہر عالم’ عدنان عالم’ معظم احمد” وردہ نایاب’عام ادمی پارٹی کے چئیر مین نسیم صادق ‘ شامل ہیں٫
ہم نے یہ مظاہرہ بہت مختصر وقت میں ترتیب دیا۔صرف تین روز پہلے اس احتجاج کی کال دی۔ الحمدللہ! لوگوں نے ہماری اواز پر لبیک کہا۔ شدید گرمی میں اپنا آرام و سکون چھوڑ کر محض اپنی قومی زبان کے نفاذ میں ہمارا ساتھ دیا۔ مظاہرے کے بعد جن لوگوں کو تصاویر اور مختلف وٹس ایپ گروپ سے ہمارے مظاہرے کا علم ہوا تو انہوں نے ہم سے گلہ کیا کہ اپ نے اس عظیم احتجاج کی ہمیں اطلاع کیوں نہیں دی؟
مظاہرین نے وفاقی وزیر تعلیم کے قومی نصاب پر انگریزی مسلط کرنے کے آئین شکن اور توہین عدالت اقدام پر اپنے غم و غصّے کا اظہار وفاقی وزیرِ تعلیم کے پتلے کو نذر آتش کیا۔ مظاہرین کی زبان پر انگریزی تسلط کے خلاف زبان سے یہ نعرے بلند اور پرجوش اواز سے لگا رہے تھے:
اردو کا دشمن’ پاکستان کا دشمن’
انگریزی کی غلامی نا منظور’
انگریزی کا یار’ پاکستان کا غدار
انگریزی کایار’ بانیان پاکستان کا نافرمان’ ہمیں اردو میں تعلیم دو’
پوری قوم کی ایک آواز’ قومی زبان میں یکساں نصاب’
انگریزی سے نجات’ قومی کی حیات’
اردو نہیں تو تعلیم
مظاہرے کے منتظمین موصوف وزیر کا ایک بڑا پورٹریٹ گدھے پر ڈالنے کیلئے لائے تھے۔تاکہ وفاقی وزیرِ تعلیم سے اس توہین کا بدلہ لے سکیں جو موصوف نے آئین پاکستان اور توہین عدالت کو روندتے ہوئے ایک غیر ملکی زبان کو بائس کڑوڑ پاکستانیوں پر مسلط کر کے کی ہے۔ ان بے بس عوام کے ہاتھ میں “سرکاری عدالت” نہیں جہاں یہ اپنا فیصلہ دے سکیں ۔لیکن عوامی عدالت میں عوام نے وفاقی وزیر تعلیم کی گدھے اور پتلے کو جلا کر ان کے غلامانہ فیصلے کی اوقات بتادی ہے ‘ اور اس پر خوب نفرت کا اظہار کیا’ پاکستان کے بکاؤ’ فنڈڈ وزیر تعلیم کے احمقانہ فیصلے کی اہمیت ایک گدھے سے زیادہ نہیں۔۔جس کا کوئی دماغ نہیں’ جو سوچنے سمجھنے سے عاری ہے بائس کڑوڑ عوام پر سات سمندر پار ایک ایسی زبان تھوپنا چاہتا ہے جو یہاں کے کسی باشندے کی مادری پدرری زبان نہیں’ جس زبان کو خود یورپ میں کوئی گھاس ڈالنے کو تیار نہیں۔ موصوف اس کو پاکستان اس زبان کو پاکستان کے نظام مملکت کی ” آکسیجن” بنائے ہوئے ہیں۔
مظاہرین نے انگریزی مسلط کرنے کے بچگانہ اور احمقانہ فیصلے پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر تعلیم کا دماغی معائنہ کروایا جائے کہ کیا انہوں نے باہوش و ہواس بائس کڑوڑ پاکستانیوں کو گونگا بہرہ بنانے کا حکم دیا ہے؟ اگر وزیر موصوف کسی دوسرے ملک کے وزیر ہوتے تو ایسے فیصلہ کرنے پر ان کو یا تو جیل بھیج دیا جاتا’ یا دماغی امراض کے ہسپتال میں’ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیرِ تعلیم کو ان کے عہدے سے فوری طور پر برطرف کرکے ائین پاکستان کو پامال کرنے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرنے پر جیل میں ڈالا جائے ائین کے آرٹیکل کے تحت پر ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
یہ مظاہرہ سو فی صد پڑھے لکھے پاکستانیوں کا پرامن مظاہرہ تھا۔ پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی صدر نے مظاہرین اور وفاقی وزیر تعلیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر تعلیم قومی نصاب کو انگریزی میں پڑھانے کا مسودہ واپس لیں اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق ہر سطح پر زریعہ تعلیم اردو میں کریں ۔۔انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر اپ نے ایک ہفتے کے اندر اندر یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو ہم آپ کے دفتر اور رہائش کا گھیراؤ کریں گے۔ مجرم اپ ہیں ‘ ہم نہیں۔ حلف کی پاسداری کا حلف اپ نے لیا ہے اپ نے اپنے دئیے ہوئے حلف کی خلاف ورزی کی ہے لہذا اب آپ اپنے عہدے سے فارغ ہوچکے ہیں۔ ہمارے ہاتھ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ہم اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے جلد ہی عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے اور عوام کی عدالت میں بھی جائیں گے۔ پاکستان قومی زبان تحریک کی رہنما فا طمہ قمر نے کہا کہ نفاز اُردو کے حق میں آج کا یہ جمعہ انشاء اللہ پاکستان کی تاریخ میں تاریخ ساز ہوگا’ اج 85 سال بعد آیا صوفیہ میں دوبارہ اذان دی گئ ‘ نماز جمعہ ادا کی گئ۔ان شاءاللہ ! اسی جمعے کی نسبت سے پاکستان میں نفاذ اردو کی منزل بہت قریب ہے۔ ہم نے پاکستان کی اعلی عدلیہ سے نفاذ اردو فیصلے کا حق لیا ہے اس پر عمل بھی کروائیں گے ان شاءاللہ!
اس مظاہرے کو کامیاب بنانے میں ہم اپنے کارکنوں اور شرکاء کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں ۔جنہوں نے ہماری کال پر لبیک کہا۔ ہماری درخواست کو عزت بخشی۔
اس مظاہرے میں سب سول’ عسکری’ مزدر’ استاد’ طالب علم’ کسان ‘ کلرک’ صحافی غرض تمام طبقے شامل تھے۔ لیکن اگر نمائندگی نہیں تھی اردو کے نام پر نوکری کرنے والے’ اور شہرت حاصل کرنے والے طبقے کی نہیں تھی۔ جن کی شہرت اور روزی صرف اردو ہی سے وابستہ ہے ایسے قومی مظاہرے میں ان کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔۔اگر آپ خود اپنے شعبے کی عزت نہیں کروائیں گے تو باقی طبقہ زندگی اپ کو عزت کیوں دے؟
لائق تحسین ہیں پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر محترم جمیل بھٹی صاحب جن کی رہنمائی میں اتنا منظم مظاہرے کا انعقاد ہوا’ خصوصی خراج تحسین پروفیسر ذیشان ہاشمی’ رمضان میو’ معظم احمد’ پروفیسر مظہر عالم جنہوں نے اپنی تمام مصروفیات کو ترک کرکے اس مظاہرے کی تیاری میں ہمارا ساتھ دیا۔۔
انتہائی سلام پروفیسر سلیم ہاشمی کے جذبے کو جو اگرچہ کہ اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کی وجہ سے جسمانی طور پر تو اس میں شرکت نہ کرسکیں۔ لیکن لمحہ لمحہ اس مظاہرے کی تیاری کے لئے ہماری رہنمائی کرتے رہے’ ہر چیز سے باخبر رہے’ مظاہرے کی ترتیب اور نظم کے حوالے سے باریک سے باریک نکتے کی طرف ہماری توجہ دلاتے رہے!
ہم وزیراعظم سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ذاتی طور سے وفاقی وزیر تعلیم کے انگریزی کو مسلط کرنے کے معاملے کی تحقیق کریں کہ وہ کن دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر اس ملک کے کو برباد کرنے کے درپے ہیں!
وزیراعظم صاحب! اپ اپنی جیب کی تلاشی لیجئے کہ اپ کی جیب میں شفقت محمود جیسے کھوٹے سکے موجود ہیں۔ جو آپ کا یکساں نصاب تعلیم قومی زبان میں کرنے کا منصوبہ ناکام کرنے کے درپےہیں:
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
انگریزی سے نجات۔قوم کی حیات۔۔۔لاہور میں قومی زبان تحریک کا تاریخی مظاہرہ۔وزیرتعلیم کا پتلا نذر آتش۔۔۔تفصیلات سٹار نیوز پر۔۔۔رپورٹ۔امتیازشیخ۔
888












