تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ اور متنازعہ نصابی کتب پر پابندی
نوید مسعود ہاشمی
پنجاب اسمبلی نے ”تحفظ بنیاد اسلام بل” متفقہ طو ر پر منظور کرکے ایک بہت اچھا کام کیا، اس بل کے تحت اللہ تعالیٰ ، خلفاء اشدین، خاتم النبین ۖ ، تمام انبیاء کرام ، تمام آسمانی کتابوں، تمام فرشتوں، امہات المومنین، اہل بیت اطہار، اصحاب رسولۖ، کی توہین کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اب صوبہ پنجاب میں نہ تو کوئی متنازعہ کتاب چھپ سکے گی اور نہ ہی گستاخانہ مواد شائع ہوسکے گا… سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے اس موقع پر کہا کہ ”یہ بل دین اسلام کی حفاظت اور سربلندی کے لئے سنگ میل ثابت ہوگا۔”
کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی حکومت میں پنجاب اسمبلی نے تحفظ بنیاد اسلام بل متفقہ طور پر منظور کرکے ایک زبردست کارنامہ سرانجام دیا ہے … اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قانون پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے … پاکستان اس وقت پڑوسی ممالک کی سازشوں کی زد میں ہے … یقینا بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” ہو ، این ڈی ایس ہو یا دیگر غیر ملکی ایجنسیاں ان کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ نفرتوں اور فسادات کو ہوا دی جائے … لیکن پاکستان کی سیکورٹی کے ادارے بھی اس لحاظ سے مکمل الرٹ ہیں، اگر پنجاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کے حوالے سے متحدہ علماء بورڈ کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کی خدمات کو خراج تحسین نہ پیش کیا جائے تو یہ بھی حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہوگا۔
سچی بات ہے کہ انہوں نے خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر اور سیدہ طیبہ طاہرہ اماں فاطمتہ الزہرا کے گستاخوں کو گرفتار کروانے میں جو سرگرم کردرا دا کیا … اس وقت اسی کی ضرورت تھی، ان سے اختلافات اپنی جگہ پر، لیکن انہوں نے معاشرے کے بااثر افراد، نامور اہلسنت اور شیعہ شخصیات سے فرداً فرداً ملاقاتیں کرکے ان تک تحریک مدح صحابہ و اہل بیت کا پیغام پہنچایا … شاید یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ سرگودھا بار ایسوسی ایشن کے تمام معزز وکلاء نے گستاخ صحابہ ملعون حامد رضا سلطانی کا کیس لڑنے سے انکار کرکے امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والے دھوبی کے اس کتے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے کہ جو گھر کارہتا ہے نہ گھاٹ کا … خاتون جنت سیدہ اماں فاطمتہ الزہرائ ہوں ،زوجہ رسولۖ، طیبہ، صادقہ، طاہرہ، سیدہ اماں عائشہ صدیقہ ہوں یا دیگر کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار یا چوالیس ہزار صحابہ کرام… ان سب سے جب اللہ راضی ہے… ختم نبوتۖ کے تاجدار محمد کریمۖ ان سے راضی تھے تو یہ گندی نالیوں کے کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر شیطان صفت جہنمی کون ہوتے ہیں کہ جو آج ساڑھے چودہ سو سال بعد صحابہ اور اہل بیت کی گستاخیاں کرکے مسلمانوں میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔
میرے نزدیک ہر اس کتاب کو جلاڈالنا چاہیے کہ جو کتاب صحابہ کرام یا اہل بیت اطہار کی تنقیص کرتی ہو … ہر اس لعنتی کو تختہ دار پر چڑھا دینا چاہیے کہ جو صحابہ کرام یا اہل بیت اطہار کے خلاف بدزبانی کا مرتکب ہوتا ہو … حضرت سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت سیدنا صحابہ کرام، صحابیات اور اہل بیت اطہار کی شان، عظمت و رفعت کسی تاریخ کی تعریف کی محتاج نہیں بلکہ ان کی شان اور عظمت کو تو خود خالق کائنات نے قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے … تاریخ کے ان سارے چیتھڑوں کو کوڑے دان میں ڈال دینا چاہیے کہ جو صحابہ کرام کے اہل بیت اطہار کی عظمت کو گھٹاتے ہوں۔
پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر جو تحفظ بنیاد اسلام بل منظور کیا اس کو عمومی طور پر پورے ملک کے اکثر طبقات نے سراہنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا … سوائے امن کی آشا اینڈ کمپنی کے ان سڑے ، بسے سیکولر شدت پسند تجزیہ کاروں کے جن کاکہنا تھا کہ آئین، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت کے ہوتے ہوئے تحفظ بنیاد اسلام قانون کو لانے کی کیا ضرورت تھی؟ ان کے نزدیک پاکستان میں کس کو جرات ہے کہ وہ ناموس رسالتۖ، یا شان صحابہ میں گستاخی کا ارتکاب کرسکے؟ امن کی آشا اینڈ کمپنی کے یہ سینئر تجزیہ کار شاید مریخ سیارے پہ رہتے ہیں کہ جو یہ بھی نہیں جانتے کہ پڑوسی ملک کی شہ اور پیسے کے بل بوتے پر آئے روز پاکستان میں صحابہ کرام، اہل بیت اطہار کی توہین کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
”موم بتی مافیا پلس امن کی آشا اینڈ کمپنی” کے ان شدت پسند سیکولرز کی نظروں سے شاید یہ خبر بھی نہیں گزری کہ جس کے مطابق اسلام، نظریہ پاکستان، صحابہ کرام اور ملک کے خلاف مواد پر مبنی سو نصابی کتابوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے … یہ پابندی پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے عائد کی ہے ۔ ایم ڈی بورڈ رائے منظور نے پریس کانفرنس میں بتایا گستاخانہ اور ملکی مفاد سے ٹکراتی آکسفورڈ، کیمبرج اور پیراگون سمیت 31 پبلشرز کی شائع کردہ یہ کتابیں بڑے بڑے انگلش تعلیمی اداروں میں پڑھائی جارہی تھیں … انہوں نے بتایا کہ بعض نصابی کتب میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش غلط تھی، کچھ نصابی کتابوں میں توہین صحابہ کی گئی۔
بعض پبلشرز نے پاکستان کے نقشے سے کشمیر کو ہی غائب کر دیا، بعض پبلشرز نے اپنی کتابوں میں ایسا مواد شامل کیا کہ جو ہماری نئی نسل کو چور اور ڈاکو بننے کی ترغیب دیتا ہے، بعض کتابوں میں بھارت اور پاکستان کا موازنہ کرتے ہوئے بھارت کی برتری ظاہر کی گئی، رائے منظور کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی دس ہزار سے زائد کتابوں کی جانچ پڑتال کا کام آئندہ چھ ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا… ایم ڈی رائے منظور کے منہ میں گھی شکر ،اللہ کرے کہ انہوں نے جو کچھ کہا اس پر عملدرآمد بھی ممکن ہو۔
آکسفورڈ، کیمبرج، لنک انٹرنیشنل، پیراگون بکس اور سپر سٹار سمیت جن 31 پبلشرز نے یہ متنازعہ نصابی کتب چھاپیں، ان پر پاکستان میں مستقل پابندی عائد کر دینی چاہیے … جن بڑے بڑے انگلش سکولوں میں یہ ہفوات بھری نصابی کتب بچوں کو پڑھائی جاتی تھیں ان تعلیمی اداروں کے مالکان اور انتظامیہ کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی کو عمل میں لانا ضروری ہے، پنجاب اسمبلی نے تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ منظور کرکے اور پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ نے سو متنازعہ نصابی کتب پر پابندی عائد کرکے پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے، اب سندھ، کے پی کے ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پنجاب کے ان اچھے اقدامات کے مطابق اپنے ہاں بھی تطہیری عمل شروع کریں ۔












