جبران بٹ کی خوبصورت تحریر…

غلبہِ دین میری ذمہ داری نہیں ،
غلبہِ دین کے لیے جدوجُہد کرنا میری ذمہ داری ہے۔
دین کو غالب کرنا اللّٰه کے اپنے ذمے ہے۔
لہٰذا وہ کام جو ہمارے ذمے ہی نہیں اس پر پریشانی کیسی ؟
ہاں جس پر پریشان ہونا چاہیے وہ یہ امر ہے کہ میں نے غلبہ دین کے لیے کتنی جدوجہد کی ؟
کتنی قربانی دی ؟
کتنی محنت کی ؟
جب اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو دیکھتا ہوں میری نیند میں بھی کمی نہیں آئی، میرے کاروبار کے لیے یا جاب کے لیے بھی وقت میں کمی نہیں آئی، میری دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور ہینگ آؤٹ بھی ویسے ہی رہے، کھانا بھی وقت پر اور پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔
یعنی اس اقامت دین کی جدوجُہد میں سب ویسے ہی رہا جیسے پہلے تھا تو میں کیسے کسی سے گلہ شکوہ کر سکتا ہوں ؟

جماعت اسلامی اللّٰه کے دین کی مجبوری نہیں یہ بات درست ہے۔
اللّٰه کا دین جماعت اسلامی کی مجبوری ہے۔
یہ بات بھی بالکل درست ہے۔
مگر بات جماعت کی پالیسیز کی ہے تو یاد رہے جماعت اسلامی انسانوں کی تنظیم ہے۔
فیصلے درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی۔
مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا جماعت اسلامی سے بہتر نظریہ کسی کے پاس ہے ؟
جماعت سے بہتر نظام احتساب کسی جماعت میں ہے ؟
جماعت سے بڑھ کر کوئی اور جمہوری پارٹی ہے ؟
کیا جماعت سے بہتر کرپشن سے پاک قیادت کسی کے پاس ہے ؟
کیا کوئی اور پارٹی غلبہِ دین کی کوشش جماعت سے بہتر انداز میں کر رہی ہے ؟

ضروری نہیں کہ ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہو۔
اگر کسی کے پاس ہاں میں جواب ہے تو فوری طور پر اس پارٹی میں چلا جائے۔

میرے نزدیک ان سوالوں کا جواب ابھی تک نفی میں ہے۔
مجھے جماعت اسلامی سے بہتر غلبہ دین کی کوئی تحریک ابھی تک نظر نہیں آتی۔
جس روز نظر آئے گی اُس دن ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس تحریک کے کارکن کے طور پر خود کو پیش کر دوں گا۔
مگر یہ بھی خیال رہے کہ کسی سیٹ کے لالچ، کسی اور پارٹی کے عہدے یا کسی اور دنیاوی لالچ کے باعث جماعت سے الگ ہو کر یہ بھونڈی دلیل پیش کرنا بھی ٹھیک نہیں کہ جماعت مولانا مودودی کے نظریے پر قائم نہیں رہی۔
اگر ایک لمحے کے لیے مان بھی لیا جائے کہ جماعت اسلامی مولانا مودودی کے نظریے سے ہٹ گئی ہے تو کیا جس پارٹی میں آپ جا رہے ہیں وہ مولانا مودودی کے نظریے پر جماعت اسلامی سے بڑھ کر عمل پیرا ہے ؟

خرم مراد صاحب نے لکھا ہے کہ میں نے جماعت اسلامی کو چھوڑنے کا آپشن کبھی بند نہیں کیا لیکن الحمدللّٰه بڑے بڑے مسائل آنے کے باوجود اس تحریک کو چھوڑنے کی نوبت نہیں آئی۔
میرے خیال میں جماعت اسلامی کی ایک بُت کی طرح پرستش کرنا درست نہیں لیکن مجھے یہ بھی یقین ہے کہ انشاء اللّٰه یہی سید ابولاعلٰی مودودی کی تحریک ہے جو انقلاب لے کر آئے گی۔

ایک اور اہم بات جماعت کے اُن کارکنان کے لیے جو سوشل میڈیا پر جماعت کی پالیسیز پر تنقید کر رہے ہیں۔
میرا سوال صرف اتنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پالیسیز کو ڈسکس کرنے سے آپ اپنے جذبات کی تسکین اور اپنی کتھارسز کے علاوہ کیا حاصل کریں گے ؟
مان لیجیے کہ جماعت کی قیادت سے ایسی کوئی غلطی ہو گئی ہے کہ اب بس سب کو مستعفی ہو جانا چاہیے تو کیا آپ کی قیادت فیس بُک پر آپ کے سٹیٹس کو پڑھتے ہی استعفیٰ دے دے گی ؟
میرے بھائیو خدارا اپنی قیادت کو بے آبرو نہ کرو۔
صرف اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر جماعت کا تمسخر مت بناؤ۔

میں فیلڈ کا ورکر ہوں اور اپنے ساتھی کارکنان کے جذبات سے بہت اچھی طرح واقف ہوں مگر میں جذبات میں بہہ کر اپنی جماعت جو ساری خامیوں کے باوجود سب سے اچھی جماعت ہے الحمدلله ، اور اپنی قیادت جو ساری خامیوں کے باوجود سب سے بہتر قیادت ہے الحمدلله ، اس کو یوں بے آبرو نہیں کر سکتا-

میری گذارش یہ ہے کہ اللّٰه پر بھروسہ رکھیں۔
پالیسیز پر قیادت سے ملاقات/خط/فون پر اپنے شدید ترین الفاظ میں تحفظات کا اظہار کریں اور آئندہ کے لیے تیار ہو جائیں۔
ڈٹ جائیں۔
مضبوط ہو جائیں۔
اور زیادہ ہمت و طاقت سے میدان میں اترنے کی تیاری کریں۔
اور غلبہِ دین کی اس جدوجہد میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔

اللّٰه رب العزت اس پاکستان میں اسلام کو غالب کر دے اور اس غلبہِ اسلام کی خاطر ہمیں اس راستے میں قبول فرما لے۔
اللهم آمین۔