اسلام آباد تنازعہ کشمیر جو 70برس سےزائد عرصےسےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈےپرموجود ہے ،کو دوبارہ زیرِغورلانےپر سلامتی کونسل کاخیرمقدم کرتاہوں

سلامتی کونسل اقوام متحدہ کےچارٹرکےتحت محض عالمی امن وسلامتی کےتحفظ ہی کی نہیں بلکہ اپنی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنانےکی بھی ذمہ دار ہے۔

ہم خلافِ قانون بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں حقوق اور انسانی حالات کی پیہم بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہارکرنے، تناؤ میں اضافے سے اجتناب کامشورہ دینے، بین الاقوامی قانون کی تعظیم کی ضرورت پرزور دینے اور تنازعے کے پرامن حل کا مطالبہ کرنے والے کونسل کےرکن ممالک کےمشکور ہیں۔

پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ جموں و کشمیر کے مسئلے کو سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں جو اہلِ کشمیر کو ایک آزاد اور شفاف استصوابِ رائے کے ذریعے خودارادیت کا حق دیتی ہیں، ہی کی روشنی میں حل کیا جائے۔

‏اہل کشمیر کو یہ بنیادی حق ملنےتک پاکستان انکی ہر ممکن مدد اور معاونت جاری رکھے گا۔