🦅 منگول بادشاہ چنگیز خان ایک بار اپنے کچھ خاص ساتھیوں کے ہمراہ شکار پر روانہ ہوا۔ ساتھیوں کے پاس تیر کمان تھے۔ جبکہ چنگیز خان کے پاس اُس کا پسندیدہ عقاب تھا جو اُس کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ عقاب یقیناً تیر کمان سے بہتر ہوتا ہے کیونکہ اُسے ہوا میں چھوڑ دیا جائے تو وہ بلند ہو کر ماحول کا جائزہ لے سکتا ہے، چُھپے ہوئے یا دور موجود شکار کو بآسانی دیکھ سکتا ہے۔ آپ اِسے آٹومیٹِک ڈرون کیمرہ سمجھ لیں۔
چنگیز خان اور ساتھی دِن کا بیشتر حصہ شکار ڈھونڈتے رہے مگر اُنہیں کچھ نہ ملا۔ آخرکار تنگ آ کر وہ سب اپنی خیمہ بستی میں واپس آ گئے۔ کچھ دیر بعد چنگیز خان اپنے عقاب کو ہمراہ لے کر کسی کو بتائے بغیر اکیلا نکل گیا۔ اصل میں وہ کسی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اگر نہ نکل جاتا تو اپنا غصہ ساتھیوں پر نکال دیتا۔ وہ سب جنگل میں ضرورت سے زیادہ دیر قیام پذیر ہو چکے تھے۔
چنگیز خان اکیلا نکل گیا تھا۔ سخت گرمیوں کے دن تھے۔ چشمے دریا وغیرہ سب سُوکھے پڑے تھے۔ وہ پیاس کی شدت سے نڈھال ہو گیا۔ بہت دیر بعد اُس نے اپنے سامنے ایک چٹان میں سے پانی کی ہلکی سی دھار ٹپکتی دیکھی۔ اُس نے اپنے پیالہ کو بھرنے کے لئے سب سے پہلے عقاب کا نقاب اُتار کر اُسے آزاد کر دیا۔ تب پیالہ کو دھار کے نیچے لے جا کر بھرنے کا انتظار کرنے لگا۔
ابھی پیالہ بس بھرنے کو ہی تھا کہ عقاب کو جانے کیا ہوا۔ اُس نے جُست لگائی اور پیالے پر جھپٹا مار کر گرا دیا۔ سارا پانی زمین پر گر کر مٹی میں جذب ہو گیا۔ چنگیز خان کو عقاب پر سخت غصہ آیا مگر آخر وہ اُس کا پسندیدہ عقاب تھا اس لئے برداشت کر گیا۔ اُس نے پیالہ کو زمین سے اُٹھا کر ایک بار پھر دھار کے نیچے کر دیا۔ پیالہ پھر بھرنا شروع ہوا۔
ابھی پیالہ آدھا بھرا تھا کہ عقاب نے پھر حملہ کر کے پیالہ گرا دیا۔ چنگیز خان نے سوچا کہ بے شک یہ عقاب میرا پسندیدہ ہے مگر کسی کو ہتکِ عزت یا ناقدری کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص دور سے یہ سارا منظر دیکھ رہا ہو اور بعد میں فوج اور رعایا میں مشہور کر دے کہ تمہارا بادشاہ تو ایک عقاب کو بھی نہیں سُدھار سکا، تمہارا خیال کیا رکھے گا۔ یہی سوچ کر اُس نے تلوار نکال لی۔
ایک بار پھر پیالہ ابھی بھر ہی رہا تھا کہ عقاب حملہ کرنے لگا۔ چنگیز خان نے ایک ہی ضرب سے عقاب کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ اتنی دیر میں پانی کی دھار رُک چکی تھی۔ چنگیز خان نے چٹان پر قدم رکھا اور کچھ ہی دیر میں اوپر پانی کے منبع تک پہنچ گیا۔ اوپر پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس کے اندر علاقے کا زہریلا ترین سانپ مرا پڑا تھا اور اُس کا جسم پانی میں گُھل رہا تھا۔ چنگیز خان کو معلوم ہو گیا کہ اگر وہ پانی پی لیتا تو وہ بھی مر جاتا۔
چنگیز خان کو مقتول عقاب پر بہت حیرت ہوئی جو اسی لئے پانی نہیں پینے دے رہا تھا۔ اُس نے مرے ہوئے عقاب کو اُٹھایا اور واپس خیمہ بستی میں آ گیا۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ چنگیز خان نے اپنے عقاب کی شبیہہ کے مطابق سونے کا عقاب بنوایا۔ آج بھی مجسموں، تصویروں، تحریروں اور شاعری میں اُس عقاب کا ذکر ملتا ہے۔
چنگیز خان نے سونے کے عقاب کے ایک پَر پہ لکھوایا:
“اگر تمہارا دوست کوئی ایسا کام کر دے جو تمہیں پسند نہ ہو، وہ پھر بھی تمہارا دوست رہے گا۔”
دوسرے پَر پہ لکھوایا:
“جو بھی کام غصہ کی حالت میں کیا جائے، وہ کام تمہارے لئے باعثِ پشیمانی اور بے ثمر ہو گا۔“












