آرمی چیف اپنے دوسرے گھر سعودی عرب میں
{ منیارہ نور }
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

آپ کو اگر یاد ہو تو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان فروری2019 ء میں جب دورہ اسلام آباد پر تھے۔۔۔ تو انہوں نے اپنے آپ کو دنیا میں پاکستان کا سفیر قرار دیا تھا … اب جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئی ایس آئی کے چیف کے ہمرا ہ سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں۔۔۔ تو سعودی وزارت دفاع کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا وہ یہ ہے کہ ”ہم جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کے دوسرے گھر سعودی عرب میں خوش آمدید کہتے ہیں ” ابھی چونکہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سعودی عرب میں ہی اہم ملاقاتیں کررہے ہیں … ان کی ان ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے کیا بیانات سامنے آتے ہیں اس پر پھر بات کریں گے۔
فی الحال پراکسی پروپیگنڈہ بریگیڈ کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کی خبر لیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کا موقف پاکستان کے موقف سے جدا ہے؟ اس کا جواب جاننے سے قبل اس پر مختصر سی بحث کرتے ہیں کہ آخر پاکستان کا موقف ہے کیا؟ پاکستان کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے … کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کا حق دیا جائے ، جبکہ سعودی عرب اس موقف میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ، اور اب بھی کررہا ہے، رہ گئی بات اسلامی تعاون تنظیم کی … اس ادارے نے 1994 ء میں جدہ میں کشمیر کے معاملے پر رابطہ کمیٹی قائم کی ، اور یہ کمیٹی وقتاً فوقتاً اجلا س کرتی رہتی ہے … جس کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آخری اجلاس22 جون2020 ء کو منعقد ہوا تھا۔
اسلامی تعاون تنظیم کی رابطہ کمیٹی نے مسئلہ کشمیر سے متعلق وزرائے خارجہ کی سطح پر ایک اجلاس منعقد کیا تھا، اس اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان، آذربائیجان، ترکی اور نائیجر کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔
اگست2019 ء سے اسلامی تعاون تنظیم کی رابطہ کمیٹی نے مسئلہ کشمیر پر تین اجلاس منعقد کئے، جن میں سے دو وزراء خارجہ کی سطح پر تھے … جن میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مقصد کی حمایت میں سخت بیانات جاری کئے، اسلامی تعاون تنظیم سے وابستہ شہداء کشمیر سے متعلق ایک دوسری کمیٹی کا آخری اجلاس13جولائی2020 ء کو ہوا تھا، اس موقع پر قونصل جنرل خالد مجید اور اسلامی تعاون تنظیم کے مستقل مندوب جناب رضوان شیخ نے چیف گیسٹس کے طور پر شرکت کی۔
قونصل جنرل خالد مجید نے اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ کہ جدہ میں کشمیر کمیٹی ایک موثر قوت ہے، اور مسئلہ کشمیر کی آواز اٹھانے میں فعال کردار ادا کرتی ہے، مسئلہ کشمیر ہو یا دیگر معاشی ، تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاملات، سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کی حمایت ہو یا دفاعی معاملات میں پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کی حمایت … یہ کوئی اچانک ہنگامی یا مفاداتی بنیادوں پر نہیں ہے ، بلکہ دونوں طرف کے حکام ہوں یا عوام ان کی جڑیں بہت گہری اور ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ، گزشتہ دو ہفتوں سے پروپیگنڈہ بریگیڈ نے۔۔۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے جو گمراہ کن خبریں پھیلانا شروع کر رکھی تھیں … اس کی ”شدت” دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے خدانخواستہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کوئی جنگ چھڑنے جارہی ہو، ایسی احمقانہ سوچ رکھنے والوں کو کچھ تو خدا کاخوف کرنا چاہیے… ان نازک ترین حالات میں پاکستان کے ایک مخلص ترین دوست کے خلاف پاک سرزمین پر جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا بھارت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان 22کروڑ پاکستانیوں کا ملک ہے، مختلف ”لابیوں” کا نہیں، جب پاکستان کی عزت اور مفاد کی بات آجائے تو پھر ہمیں ”لابی” بن کر نہیں پاکستان اور مسلمان بن کر سوچنا ہوگا، اگر آج تک دنیا کے ممالک کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے آگاہ نہیں کیا جاسکا۔۔۔ تو اس میں قصور پاکستانی وزارت خارجہ اور بیرون ملک پاکستانی سفارت کاروں کا ہے۔۔۔ کہ جو قومی خزانے سے عیاشی تو کرتے ہیں مگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دنیا میں موثر لابنگ کرنے سے قاصر رہے، ان دو ہفتوں کے درمیان پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے جتنی بھی گرد اڑانے کی کوشش کی گئی۔۔۔ اس کا توڑ کرنے کیلئے اسلام آباد میں سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے بھی نہایت متحرک کردار ادا کیا ، انہوں نے14 اگست کے دن پاکستانی قوم کو جشن آزادی کی مبارکباد نہ صرف اردو زبان میں دی، بلکہ لاہور میں ، چوہدریوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعلی،اور گورنر پنجاب سے بھی خیرسگالی ملاقاتیں کرکے پاکستانیوں تک امن و آشتی کا دوستانہ پیغام پہنچانے کی۔۔۔ کوششیں کیں، وہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی سے بھی ملے ، جنہوں نے سعودی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، چیئرین سینٹ نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہنا کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔”








