مظفر گڑھ ۔یتیم بچے سے اجتماعی زیادتی۔ضمانت خارج، ملزم آزاد اجتماعی زیادتی کا شکار یتیم لڑکا اور بیوہ ماں ملزمان کی گرفتاری کیلیئے دربدر۔

مظفر گڑھ (سٹار نیوز آن لائن)پہلے ایف آئی آر کے لئے بیوہ خاتون تھانے کے چکر کاٹتی رہی۔مشکلوں سے ایف آئی آر کٹی تو بااثرملزمان نے عبوری ضمانت کرالی۔ضمانت خارج ہوئی تو پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہی۔اجتماعی زیادتی کا شکار یتیم لڑکا اور بیوہ ماں ملزمان کی گرفتاری کیلیئے دربدر۔
متاثرہ خاندان کے مطابق موضع پتی غلام علی غربی جہاں ایک پندرہ سالہ یتیم بچےمحمد سیفل کوجاوید اقبال گورمانی نے ورغلایا جس کے پاس وہ ماہانہ 6000 روپے پر مزدوری کرتا تھا۔اس کو اپنے کزن بلال کے ساتھ اپنے مکان کو صاف کروانے کے لئے بھیجامکان میں پہلے سے موجود نومی اور حسنین نے اس کے ساتھ زبر دستی زنا کیا۔اور ویڈیو بھی بنائی ۔ بچہ روتا پیٹتا ہوا گھر آیا اور اپنی والدہ سے تمام ماجرا بیان کیا، متاثرہ بچے کی والدہ محترمہ نے کچھ رشتہ داروں کے ساتھ تھانے جا کر درخواست گزاری اور انصاف کی متقاضی ہوئیں۔ جیسے تیسے کر کے ایف آئی آر ہو گئی، ملزمان نے جا کر عبوری ضمانتیں حاصل کر لیں اور آزادانہ گھومنے لگے۔اسی سال اپریل کے دوران یہ واقعہ پیش آیا اور ملزمان ابھی تک قانون کے شکنجے میں نہیں لائے جا سکے۔ حالانکہ عبوری ضمانتیں منسوخ ہو چکی ہیں اس کے باوجود بھی ملزمان چونکہ با اثر ہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور جاوید اقبال پولیس ٹاوٹ اور بلیک میلر ہے اس لیے ان پر پولیس ہاتھ ڈالنے سے ہچکچا رہی ہے۔
محمدسیفل کی والدہ نسرین مائی اپنے یتیم بچوں کیساتھ ڈی پی او صاحب کی خدمت میں گزشتہ روز بروز ہفتہ پیش ہوئیں اور انصاف کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی پریس کانفرنس بھی کی جس میں انہوں نے واضع کہا کہ اگر مجھے انصاف نہیں ملا تو میں اپنے بچوں سمیت آر پی او آفس ڈیرہ غازی کے سامنےخود سوزی کر لوں گی۔