کراچی : جامعہ کراچی کی طالبہ نادیہ اشرف کی خودکشی کے معاملے پر تحقیقات کیلئے پولیس نے جامعہ کراچی کے پروفیسرکی طلب کانوٹس تیارکرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کے ڈیپارٹمنٹ آف مالیکیولر میڈیسن اینڈ ڈرگ ریسرچ کی طالبہ نادیہ اشرف کی خود کشی کے واقعے پر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اےایس پی گلشن معروف عثمان کو تحقیقات کاحکم دیدیا گیا ہے ، پولیس نےجامعہ کراچی کےپروفیسرکی طلبی کانوٹس تیارکرلیا ہے۔

پروفیسر اسلام آباد سے واپسی پر بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

خیال رہے 39 سالہ نادیہ اشرف بہاولپور میں پیدا ہوئیں ، جہاں سے انہوں نے اپنی ابتدائی، کالج اور بیچلرز کی تعلیم حاصل کی، 2005 میں نادیہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی آئیں، جس کے بعد ان کا داخلہ ڈاکٹر پنجوانی تحقیقاتی سینٹر میں ایم فل پلس پی ایچ ڈی پروگرام میں ہوا۔

نادیہ اشرف سب سے پہلے ڈاکٹر امین سوریا کی زیرِ نگرانی2007 میں ایم فل پی ایچ ڈی میں انرول ہوئی تھیں تاہم ڈاکٹر امین سوریا کے جانے کے بعد وہ پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے زیرِ نگرانی اپنی پی ایچ ڈی مکمل کررہی تھیں۔

وہ کراچی کی ایک نجی جامعہ بیریٹ ہڈسن یونیورسٹی میں لیکچرر بھی رہ چکی تھیں۔