میرے بعد اگر نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔۔یکم محرم الحرام یوم شہادت “حضرت عمر فاروق” رضی اللہ تعالٰی عنہ
تحریر ۔معروف شاعر محمد ارشد قاسمی خانیوال 
ذوالحجہ کی تقریبا ســتائیس اٹھائیــس تاریخ کو حضرت عمـــر ابن خطاب فاروق اعظـــم رضی اللہ عنہ پر مسجد نبوی میں نماز پڑھاتے ھوۓ ابو لئولئو موسی مجوسی نے قلاتلانہ حملہ کیا۔آپ رضی اللہ عنہ زخمی ھوۓ اور محـــرم الحـــرام کی پہلی تاریخ کو آپ رضی اللہ عنہ شـــہید ھوۓ۔
معلوم ھوتا ھے اســلامی سال ختم بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ھوتا ھے اور شروع بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ھوتا ھے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم الشان بنیادی ستون،آپؒ کی شان میں قرآن کی بے شمار آیتیں نازل ھوئیں ۔اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ھے ہمیں حضرت عمر ابن خطاب فاروق اعظم کا سچا پکا غلام بناۓ اور ہمارے حاکموں کو آپؒ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ۔
آمین ثم آمین
حضرت عمر فاروقؓ کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے آپ کی فضیلت میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔
سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
’لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب’
(ترجمہ)
میرے بعد اگر نبی ہوتے تو عمر ہوتے۔
(مشکوٰۃ شریف:558 )
مذکورہ حدیث سے حضرت عمر فاروق کے مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر حضور پر نبوت ختم نہ ہوتی تو آپ کے بعد حضرت عمر فاروق نبی ہوتے
حضور اکرم نے ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا:
بے شک میں نگاہ نبوت سے دیکھ رہا ہوں کہ جن کے شیطان اور انسان کے شیطان دونوں میرے عمر کے خوف سے بھاگتے ہیں۔
(مشکوٰۃ شریف ص558 )
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ:
“جب حضرت عمر فاروق اسلام لائے تو حضرت جبرائیل حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ آسمان والے عمر کے اسلام پر خوش ہوئے ہیں۔
( ابن ماجہ بحوالہ برکات آل رسول ص:291)












