اسلام آباد؛ نوازشریف طویل خاموشی کے بعد ملکی سیاست میں دوبارہ متحرک، سابق وزیرعظم کا گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مولانا فضل الرحمان سے دو بار ٹیلیفونک رابطہ، تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے بلاول بھٹو کیساتھ رابطہ کر کے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے کا فیصلہ کر لیا جبکہ مولانا فضل الرحمان کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔
ذراائع کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف طویل خاموشی کے بعد ملکی سیاست میں دوبارہ متحرک ہوگئے۔ قائد مسلم لیگ ن نے لندن سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانافضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطے کئے ۔اور ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت
نواز شریف اور بلاول بھٹوزرداری نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیاہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹوزرداری نے نواز شریف کو حکومت مخالف کسی بھی تحریک کی کھل کر حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ خیال رہے کہ نوازشریف طویل خاموشی کے بعد ملکی سیاست میں دوبارہ متحرک، سابق وزیرعظم کا گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مولانا فضل الرحمان سے دو بار ٹیلیفونک رابطہ، تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے بلاول بھٹو کیساتھ رابطہ کر کے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے کا فیصلہ کر لیا جبکہ مولانا فضل الرحمان کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔
ذراائع کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف طویل خاموشی کے بعد ملکی سیاست میں دوبارہ متحرک ہوگئے۔ قائد مسلم لیگ ن نے لندن سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانافضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطے کئے ۔اور ملکی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی ۔ نواز شریف اور بلاول بھٹوزرداری نے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیاہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹوزرداری نے نواز شریف کو حکومت مخالف کسی بھی تحریک کی کھل کر حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کی لندن میں چہل قدمی کی تصویربھی منظر عام پر آ گئی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادے حسن نواز کی تصویر شیئر کر دی ہے. ٹوئٹر سے جاری تصویر پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کیسے کوئی صحت پر اتنی غلط بیانی کر سکتا ہے شہباز گل نے کہا کہ نوازشریف وہ مریض ہیں جو بقول مریم صفدر کہ” مرنے لگا“ تھا