سعودی عرب’ اسرائیل اور فلسطین
{ منیارہ نور }
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی
اسرائیل’مسلم امہ اور پاکستان کی بحث میں نجانے ہم قرآن مقدس اور فرامین رسولۖ کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ سعودی عرب نے فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔۔ بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ امن کا قیام اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات کی اولین شرط ہے’ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرمان ”برلن” پریس کانفرنس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے الحاق کی یکطرفہ اسرائیلی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ۔۔۔ فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی اور ”ریاستی حل کی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہے۔”
سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے امکان کو مسترد کرکے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا کہ مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ فلسطین’ سعودی عرب اور پاکستان کا موقف تقریباً ایک جیسا ہے’ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی المناک خبر سامنے آئی… تو مخصوص ”پراکسی لابی” نے ڈھول پیٹنا شروع کر دیا تھا۔۔۔ کہ اب اگلا نمبر سعودی عرب کا ہوگا’ لیکن سعودی عرب نے عرب امارات کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کرکے ”پراکیسز” کے سارے کئے کرائے پر خاک ڈال دی’ خادم الحرمین الشریقین اور ولی عہد پرنس محمد بن سلمان سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ فیصل شہید کی۔۔۔ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جو انہوں نے عرب اسرائیل تنازعے کے موقع پر اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کو دورہ ریاض کے دوران کہی تھی… شاہ فیصل شہید نے کہا تھا کہ آزاد ریاست فلسطینی مسلمانوں کا حق ہے’ ہم فلسطینی حریت پسندوں کی بھرپور حمایت اور مدد کرتے ہیں’ وہ ہمارے بھائی ہیں… جو اپنے وطن کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں’ انہیں طاقت کے زور پر ان کے گھروں سے نکال پھینکا گیا ہے’ اس ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد جائز اور منصفانہ ہے’ انہوں نے تیل کو سیاسی ہتھیار بنا کر فلسطین کے معاملے پر امریکہ کو انگوٹھا دکھایا اور ہنری کسنجر سے کہا کہ عرب ماضی میں اونٹوں کا گوشت کھاتے اور اونٹیوں کے دودھ اور کھجور کو غذا بناتے رہے ہیں’ عرب اب بھی اپنے ماضی کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔۔۔ امریکہ کو فلسطینیوں کا مسئلہ حل کرنا پڑِے گا۔
مستقبل میں کیا ہوگا’ یہ تو میرا پروردگار جانتا ہے… لیکن مقام مسرت ہے کہ آج سعودی عرب اور پاکستان فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں’ جاننے والے جانتے ہیں کہ رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں اس کے وزیر خارجہ اسرائیلیوں سے ملاقاتیں بھی کر چکے تھے… آج بھی امریکہ میں موجود پی ٹی آئی کے حمایتی اور پاکستان میں موجود مخصوص لابی کے خرکار۔۔۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
سعودی عرب پر اسرائیل کے حوالے سے بہت دبائو بھی تھا’ لیکن پھر بھی اگر اس نے امریکی دبائو کو جھٹک کر اسرائیل سے تعلقات بحال نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔۔۔ تو یہ خوش آئند بات ہے’ ہمیں بعض تجزیہ کار بتا رہے ہیں۔۔۔ کہ اگر عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے تو اس کی مرضی’ پاکستانیوں کو اس پر تنقید نہیں کرنی چاہیے’ جو یہ باتیں لکھ رہے ہیں انہیں توبہ کرنی چاہیے۔۔۔۔ کیا ظالم کے حامی اور مظلوم کی حمایت کرنے والے کبھی برابر ہوسکتے ہیں؟ اسرائیلی صہیونی’ ظالم’ جابر’ بدمعاش’ سازشی’ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرنے والے دہشت گرد اور مظلوم فلسطینیوں کا لہو بہانے والے قاتل ہیں… جو اسرائیل کا حامی ہوگا’ وہ بھی اس کا شریک جرم تصور کیا جائے گا’ مسلم امہ کی صفوں میں گھسے ہوئے منافقین کو کوئی بتائے۔۔۔ کہ جتنے انعامات سے رب تعالیٰ نے اسرائیلیوں کو نوازا تھا… تم سارے مل کر اس کے ہزارویں حصے کا نعم البدل بھی نہیں ادا کر سکتے… وہ یہی یہود تھے کہ جن کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے ہزروں انبیاء بھیجے گئے اور تین آسمانی کتابیں نازل کی گئیں… دریائوں کو چیر کر چلتے پانی کے درمیان خشک راستے نکالے گئے’ من و سلویٰ جیسی پاک اور لذیذ غذائوں کے ڈھیر لگائے گئے۔..
وہ یہی یہود تھے… کہ جن کی خاطر فرعون غرق کیا گیا’ اور کئی ظالم حکمران عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئے’ جن کی خاطر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے لکھی ہوئی تختیاں اتاریں اور ان کے نبی اور ان کے رئوساہ کے ساتھ۔۔۔ خود اللہ تعالیٰ نے ہمکلامی فرمائی۔۔۔ جن کے سروں پر کئی دہائیوں تک بادلوں نے سائبان کئے رکھا’ جن کے کپڑے ان کے جسموں کے ساتھ بڑھتے تھے’ نہ میلے ہوتے تھے اور نہ پھٹتے تھے… فرشتے جن کی خاطر میدانوں میں اتر کر لڑتے تھے… اور ان کے گمشدہ تبرکات اٹھا اٹھا کر لاتے تھے’ جن کے عابدوں کی دعائوں کے لئے آسمان کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے تھے… یہ وہی یہود ہیں کہ جن کو غلامی کے گڑھوں سے نکال کر زمین کا حکمران بنا دیا گیا تھا۔۔۔ جن کو ایک طویل زمانے تک تمام عالم پر فضیلت دی گئی تھی’ عروج کو جن کا مقدر بنا دیا گیا تھا… اور قدرت کی مہربانیاں ان پر ایسے رہیں جو اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھی تھیں اور نہ سنی تھیں… بنی اسرائیل کو عزت ملی’ عظمت ملی’ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا محبوب قرار دیا… لیکن اس سب کے باوجود یہ ایسے نمک حرام’ گستاخ’ انبیاء کے قاتل’ بدمعاش اور سازشی نکلے۔۔ کہ اللہ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انہیں راندہ درگاہ کر دیا اورآقا و مولیٰۖ نے انہیں جزیرہ عرب سے نکالنے کا اعلان فرما دیا۔
کیا آج امت مسلمہ میں گھسا ہوا کوئی منافق۔۔۔ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات جوڑ کر ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے؟ اس سے بری اور احمقانہ سوچ کوئی دوسری ہو ہی نہیں سکتی’ سعودی عرب پہ سنگ باری کرنے والے ”پراکسی” چلتے چلتے پاکستان کے سمارٹ وزیراعظم کا بیان بھی پڑھ لیں’ عمران خان کہتے ہیں کہ ”سعودی عرب سے خراب تعلقات کی خبریں بے بنیاد ہیں… سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی’ کسی بھی معاملے میں سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔”








