بُت گری سے بُت پرستی تک

تحریر ۔نصراللہ گورائیہ
ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب (وسطی)

ہیجان اور شخصیت پرستی اگر کسی انسانی معاشرے کا حصہ بن جائیں تو وہ معاشرہ بہت گراوٹ کا شکار ہوجاتا ہے ۔ جہاں پر کوئی دلیل اور بات کہنا اور سننا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ بدقسمتی کے ساتھ ہمارا معاشرہ اس وقت اس کی حقیقی تصویر بن چکاہے ۔ جہاں پر سیاستدانوں کے بیانات آئے روز ایک نیا ہیجان پیدا کرتے ہوں اور ہرگزرتے لمحے کے ساتھ میڈیا پر چلتی ہوئی بریکنگ نیوز اس ہیجان میں مزید اضافہ کرتی چلی جاتی ہیں کہ جہاں پر کان پڑی آواز بھی ٹھیک سے سنائی نہیں دیتی۔

عمران اور اس کو برسراقتدارلانے والوں نے پراپیگنڈہ کی اس مہارت کو اتنی دانش مندی اور عیاری کے ساتھ استعمال کیا کہ 2018ء کے الیکشن سے پہلے پوری قوم اور بالخصوص نوجوانوں کو اس ہیجان کا عادی بنا دیا گیااور یہ نشہ ابھی تک اترنے کا نام نہیں لے رہا کیوں کہ اس ہیجان کے ساتھ شخصیت پرستی کی افیون کو ملا کر ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں انڈیلا گیا۔شخصیت پرستی بت پرستی کی ایک قبیح ترین شکل ہے کیوں کہ بتوں کو پوجنے والے بھی جانتے ہیں کہ پتھر، مٹی یا کسی دھات سے بنا ہوا یہ بت نہ محسوس کر سکتاہے ، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی چھو سکتا ہے۔ اس کے سامنے جیسی حرکات چاہے کرتے رہو اس کا دماغ خراب نہیں ہو گا کیونکہ وہاں پر دماغ ہے ہی نہیں اور جذبات سے بھی عاری ہے۔ جب کہ شخصیات کی پرستش ان کے دماغ خراب کردیتی ہے اور وہ اپنے آپ کو ناگزیر اور مافوق الفطرت سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے پیروکار ان پر جان چھڑکنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

ہمارا میڈیا، ہمارے دانشورپہلے اپنے ہاتھوں سے ان بتوں کو تراشتے ہیں ان کی نوک پلک سنوارتے ہیں اور پھر روزانہ پرائم ٹائم میں میک اپ کر کے عوام میں مقبولیت کے گراف کو اونچا کرتے ہیں اور تیسری دنیا کے عوام ان کو اپنا مسیحا تصور کر کے اپنی امیدوں اور امنگوں کے تاج محل تعمیر کرتے ہیں۔ پاکستان میں کبھی بھٹوکی شکل میں بت کو تراشا گیا تو کبھی ضیاء الحق کو امیر المومنین کی شکل میں پیش کیا گیا۔ کبھی بے نظیر کو سامنے لایا گیا تو کبھی شریف برادران کے بت سنوارے گئے اتنا ہی نہیں ان سب کے بعد اب عمران کو جس طرح ہمارے اوپر مسلط کیا گیا وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور سچی گواہی بھی۔

جس طرح اور جس انداز میں پاکستانی قوم کے ساتھ یہ گھنائونا کھیل کھیلا گیا انسانی تاریخ بھی اس پر حیران و پریشان ہے۔2018ء کے الیکشن سے پہلے جس طرح کی فضا ء بنائی گئی اور جس طرح بھان متی کا کنبہ اکٹھا کیا گیا اس سے ہمیں تو کوئی خاص امید نہ تھی البتہ حلقہ احباب میں سے بہت سارے لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ نہیں آپ لوگ تو بس دیکھتے جائیں کہ ترقی کے اعتبار سے دنیا انگشت بدنداں ہو گی کہ اتنی تیزرفتاری کے ساتھ بھی کوئی ملک ترقی کر سکتا ہے۔ ہم نے اپنے طور پر سمجھانے کی پوری کوشش کی کہ یہ سنت خداوندی نہیں ہے لیکن ہیجان میں کون سنتا ہے اور کون دلیل کو مانتا ہے ۔ الیکشن میں بھر پور کامیابی کے بعد جب بت ’’بت خانے‘‘ پہنچے اور شیروانی پہن کر حلف اٹھایا اور ایک ہیجان انگیز خطاب فرمایا تو ہمارے نوجوانوں کی اس دن کی امیدیں ، ان کا مورال اور ان کا جوش و جذبہ اگر دیکھنا ہو تو آپ اس دن کے سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈ کو دیکھ لیں اور پہلے سو دن کے پلان کو دیکھ لیں تو آپ کو اس زلزلہ کی شدت کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہ ہو گا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ بہت ہی عاجزانہ انداز میں درخواست کی تھی کہ

“Cricket, showbiz and politics are different fields, i am too much worried due to your high level of expectations, while ground realities are too bitter as well as difficult, nothing was new in his speech, as old as Pakistan, let’s see because count down has been started now. their first 100 days plan will show their efficiency, let’s start in the name of Allah. 1, 2, 3 days are going on and we are waiting for a change”

دو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد اگرچہ اس ہیجان میں کچھ کمی تو آئی ہے لیکن آئے دن کسی نہ کسی بہانے تدبیر سے اس آگ پر دوبارہ پٹرول چھڑک دیا جاتا ہے تا کہ یہ آگ بجھنے نہ پائے۔پاکستان کی تاریخ کے یہ سنہری دو سال کہ جن میں ترقی کی شرح چھ فی صد سے سکڑ کر منفی ڈیڑھ فی صد تک جا پہنچی اور ذخائر 24ارب ڈالر سے 9ارب ڈالر تک گر چکے ہیں۔ صرف ان دوسالوں میں معیشت کاحجم پہلے سے 400ارب ڈالر سکڑچکا ہے ۔ ٹیکس کلیکشن میں بھی 1500ارب ڈالر کے شارٹ فال کا خطرہ منہ کھولے کھڑا ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر جب کہ شرح سود دنیا کے مقابلے میں بلند ترین ، دفاعی ، تعلیمی اور ترقیاتی بجٹ تنزلی کا شکار ۔ ملک میں انفراسٹرکچر کا کوئی منصوبہ نہیں اور صرف آٹے اور چینی سے عوام کو 190ارب کا ٹیکہ لگایا گیا۔نہ پچاس لاکھ گھر نہ ایک کروڑ نوکریاں بلکہ بقول قبلہ ڈاکٹر حفیظ پاشا ان دوسالوں کے دوران بارہ لاکھ سے زائد لوگ بے روزگاری کا شکار ہوئے۔ ان بارہ لاکھ افراد اور ان سے جڑے خاندانوں کی مشکلات کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے ٹریکٹر ساز ادارے ملت ٹریکٹر نے اپنی پیداوا ر بند کر دی۔ پاکستان مین مینو فیکچرنگ کے شعبے میں ساڑھے چھ فی صد سکڑائو آیا ہے۔ مراد سعید کے دوسو ارب ڈالر کا جہاز بھی ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ گورنر ہائوسز اور وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹیوں میں تبدیل ہونا تھا، سادہ طرز زندگی اختیار کرنا تھا جب کہ دو لاکھ سے سادگی تجاوز کر کے آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ گیس اور تیل نے بھی نکلنے سے انکار کر دیا ہے۔ مرغی او کٹے کی معیشت بھی پروان نہ چڑھ سکی وگرنہ پاکستان اب تک انڈے ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی اولین صف میں شمار ہوتا اور اربوں ڈالر منافع کما رہا ہوتا۔ لیکن شومئی قسمت کہ ایسا نہ ہو سکا اور اس کی وجہ بھی پچھلی حکومتوں کی کارکردگی ٹھہری اور بتوں کے پجاری اس بیانیہ کے حق میں بھی خم ٹھونک کرمیدان میں آگئے کیوں کہ ذلت و پستی اور اخلاقی گراوٹ کی کوئی حد نہیں ہوتی کیوں کہ بلندی اور اعلیٰ و ارفع مقاصد کے لیے ہمیشہ قوت و توانائی درکار ہوتی ہے جب کہ ذلت و پستی اور گراوٹ کے لیے کوئی بھی پیمانہ نہیں ہے جب کوئی قوم اس گراوٹ کا شکار ہوتی ہے تو وہ اس پتھر کی طرح لڑھکتی چلی جاتی ہے جو بلندی سے پستی کی طرف آتا ہے۔

ان تمام پہلوئوں سے صرف نظر کیا جا سکتا ہے بھوک، پیاس اور مشکل حالات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے قربانی کے جذبے کو بیدار کیا جا سکتا ہے اگر امید ہو کہ حالات بہتری کی طرف چل نکلے ہیں ۔ جب کہ پچھلے چند ماہ کی پارلیمانی کارکردگی کو دیکھ لیں تو انسانی عقل ورطۂ حیرت میں گم ہو جائے گی کہ پورے پارلیمان کو پاکستان کے عوام کے ساتھ ، عوام کی مشکلات اور جذبات کے ساتھ رتی برابر بھی لگائو نہیں ہے اور پارلیمان کے اندر ہونے والی گفتگو، طرز تکلم اور اپنے اپنے بتوں کی پوجا، اپنے اپنے تراشے ہوئے بتوں کے قصیدے ، ان کے کارنامے ، ان کی حمد و ثناء کہ جو ہر مشکل وقت میں عوام، ملک اور اپنی ہی پارٹی کے قائدین کو بیچ منجدھار چھوڑ کر ہمیشہ بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں ۔ قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی سوالیہ نشان؟؟ وزراء کی کارکردگی سوالیہ نشان؟؟ وفاقی کابینہ کے ہفتہ بھر میں دو دو اجلاس لیکن کارکردگی صفر بلکہ منفی، وزارت خارجہ سے لے کر وزارت عظمیٰ تک کی کارکردگی اس وقت سوالیہ نشان ہے؟

کسی مہذب ملک میں اگر یہ سب کچھ ہورہا ہوتا تو اب تک طوفان کھڑا ہو چکا ہوتالیکن یہاں پر تو راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ صرف بائیس کروڑ عوام ہے جو ظلم وستم ، ناانصافی او مہنگائی کی اس چکی میں بری طرح پس رہے ہیں ۔ مہنگائی کا ایک طوفان ہے جو معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ہر ڈھلتے دن کے ساتھ بہت سارے گھروں کے چولہے اور امیدیں بھی ڈھل رہی ہیں۔اور اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کیا جا رہا ہے کہ چوہے بلی کے اس کھیل میں کچھ بھی تو نیا نہیں۔ کہانی پرانی، سکرپٹ اور سکرپٹ رائٹرز پرانے، ہدایت کار پرانے، میوزک ڈائریکٹر پرانے ہر چیز پرانی بس ایک بت نیا تھا جس کی پوجا و پرستش کی خاطر پوری قوم کے ساتھ کھلواڑ کیاگیا۔

اور اب اصل ظلم و ستم یہ کیا جارہا ہے کہ جو کرپٹ تھے ، بد دیانت تھے، چور تھے ، خائن تھے سب کچھ تھے اور یقینا تھے اب ان کے لیے دوبارہ ہمدردی کے جذبات پیدا کیے جارہے ہیں تاکہ بوقت ضرورت نئے اور تازہ دم گھوڑے پر کاٹھی ڈالی جا سکے اور ادھر وفادار گھوڑا رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں اپنے آقا و مالک کو اپنی وفاداری کا یقین دلا رہا ہے کہ مائی باپ آپ نے اتنا تکلف کیا آپ کا تو بس اشارہ ہی کافی تھا، ہم تو پیدا ہی آپ کی خدمت کے لیے ہوئے ہیں۔ اور اگر یہی کچھ کرنا تھا تو اتنی بڑی مشق قوم کو کس کے کہنے پر کروائی گئی۔ کیوں اتنی آرزوئوں امیدوں کے تاج محل تعمیر کیے گئے۔ کیوں نوجوان نسل کو بیداری اور تبدیلی کے رومانس میں مبتلا کیا گیا۔ آج جو میڈیا عمرانی حکومت کے کارناموں کو آشکارا کر رہا ہے اسی میڈیا نے اس بت کو تراشا اور بھگوان کی شکل میں پیش کیا اور ہماری قوم نے بنی اسرائیل کے بچھڑے کی طرح اس کی پوجا شروع کر دی۔ اس کی امانت و دیانت اور خداداد صلاحیتوں کے ایسے گن گائے کہ بعض اوقات خود وہ انسان بھی حیران رہ جاتا کہ اچھا مجھے تو اپنی اس قابلیت کا اندازہ نہ تھا۔

ہمارے دانشوروں کالم نگاروں اور اینکر پرسنز نے تو پورے دس سال اس ڈھٹائی کے ساتھ اس جھوٹ کو بولا کہ لوگوں نے واقعتا اس جھوٹ کو سچ سمجھنا شروع کر دیا۔ اب جب کبھی ان بت پرستوں سے بات ہوتی ہے تو ان میں سے ابھی بھی کچھ کو امید ہے کہ سیم اور تھور کے درخت پر میٹھے آم کے شگوفے پھوٹیں گے اور وہ اس سے لذت طعام و دہن کریں گے۔ اس وقت ملک و قوم کو نظریاتی اور سلجھے ہوئے نوجوان سیاستدانوں کی اشدضرورت ہے وگرنہ بھیڑیا تاک میں ہے کہ کب اس کا شکار آنکھ جھپکے اور وہ اسے شکار کر لے۔ لہذا اس بھیڑیے سے ہوشیار رہیں اور اپنی جدوجہد کو تیز کریں تا کہ پاک وطن کو واقعتا سید مودودی، قائد اعظم اور علامہ اقبال کی تعبیر کے مطابق بنایا جا سکے اور یہ کام اتنا بھی مشکل نہیں جتنا کہ اس کو سمجھا جا رہا ہے۔ بس ایک خوبصورت اور مضبوط سیاسی بیانیہ ، آنکھوں میں امید کا سپنا، دل میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سچی محبت ، صحابہ کرام ؓ کی سیرت اور میدان کارزار آپ کا منتظر ہے وگرنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

اٹھو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا