پاکستان کے اس بااصول’ دیانتدار’ قومی و دینی سوچ کے حامل بیوروکریٹ کو شاندار خراج تحسین!
جس نے ایک نظریاتی اسلامی مملکت کے نصاب میں سے غلط قرانی آیات’ احادیث’ تاریخی واقعات’ ہم جنس پرستی کی نشاندھی کی۔اور اس نشاندہی کرنے پر ان کا تبادلہ بھی کردیا گیا! قوم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ محترم رائے منظور صاحب کا اصل میں جرم کیا ہے؟ کیا انہوں مالی غبن کیا ہے؟ یا غداری کے مرتکب ہوئے ہیں؟
وزیراعظم صاحب! آپ نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا ہے۔ ریاست مدینہ پر عملدرآمد کے کچھ تقاضے ہیں۔ ان تقاضوں میں سے سب سے اہم نصاب کو قرآن و احادیث کی روشنی میں مرتب کرنا ہے! ریاست مدینہ کا تصور قرآن و احادیث کا علم حاصل کئے بغیر ممکن ہی نہیں۔ حکومتی مشینری میں ایسے لوگ جو ریاست مدینہ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آپ کے منصوبوں میں آستین کا سانپ ثابت ہورہے ہیں۔ ان کا بغیر کسی سیاسی وابستگی کے محاسبہ کیجئے کہ ان کی جراءت کیسے ہوئی کہ وہ قوم کے نونہالوں کو غلط قرانی آیات’ احادیث پڑھائیں۔
اور ہاں یکساں نصاب قومی زبان میں زریعہ تعلیم کے بغیر ناممکن ہے ۔۔یکساں نصاب کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ جب تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں یکساں قومی نصاب’ یکساں قومی زبان میں نافذ ہوگا اس کے بغیر یکساں نصاب کا نعرہ لگانا لغو اور بے معنی ہے!
فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
Home Uncategorized نصاب میں درستگی اور رائے منظورکی دوبارہ تقرری کامطالبہ۔۔۔فاطمہ قمرتحریک نفاذاردو۔۔۔تفصیلات سٹارنیوزپر












