”لاہور موٹروے ریپ کیس اور ہماری بے بسی“

‏دیگر باشعور اور حساس پاکستانیوں کی طرح میں بھی شدید ذھنی اذیت میں مبتلا ہوں۔اسلام کےنام پرحاصل کیا جانے والاملک، اسلام کاقلعہ پاکستان آج بچوں اورعورتوں کے لئیے ایک جہنم بن چکا ہے۔ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے ریپ کا نشانہ بنایاگیا۔ زیادتی کا واقعہ گجرپورہ رنگ روڈ پر پیش آیا۔

‏خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی پر لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی کہ راستے میں پٹرول ختم ہونے پر گاڑی رنگ روڈ پر روک لی۔اور مدد کا انتظار کر رہی تھیں کہ دو انسان نما درندےآئے، گاڑی کا شیشہ توڑا اور انھیں جنگل میں لےجا کر ان کے بچوں کے سامنے ان پر تشدد کیا اور ان کو ‏اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

جائے وقوعہ پر پہنچنے والوں کے مطابق خاتون پولیس والوں کے آگے گڑگڑا رہی تھی کہ” مجھے گولی مار دو۔میں زندہ نہیں رہنا چاہتی”۔ وہ ان لوگوں کو خدا کے واسطے دے رہی انہیں ان کے بچوں کا واسطہ دے رہی تھی کہ مجھے مار دو۔جب اس بات پر عمل نہ ہوا تو ‏توخاتون نےکہاکہ یہاں موجود سب لوگ حلف دیں کہ اس واقعےکےبارےمیں کسی کونہیں بتائیں گے۔اس کےخاندان اورکسی بھی اورشخص کواس وقوعے کےبارے میں پتہ نہ چلے۔وہ مقدمہ درج نہیں کرانا چاہتی۔وہاں موجودایک ایس پی صاحب نےخاتون کویقین دہانی کرائی کہ یہ وقوعہ بلکل بھی ہائی لائٹ نہیں ہوگا۔

‏خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی۔ عمومافارنزک سائنس ایجنسی والےایسے مواقع پروکٹم کی تصاویرلیتےہیں۔لیکن خاتون کی حالت ایسی افسوسناک اور دردناک تھی کہ کسی کی ہمت نہیں پڑی کہ وہ تصاویراتارسکے۔وہ ہاتھ جوڑ کران کی منتیں کررہی تھی کہ مجھےقتل کر دو۔خاتون شاید پاکستان کو فرانس سمجھ ‏کرہی رات کے اندھیرے کے باوجود بھی بچوں کو لے کر گوجرانولہ جانےکیلئے نکلی تھی کہ گوجرنوالہ تک کونسا زیادہ سفر ہے۔ایک گھنٹے میں گوجرانوالہ پہنچ جائیں گے۔لیکن اسےنہیں معلوم تھا کہ یہ فرانس نہیں،یہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان ہے۔یہ مسلمانوں کا وہ ملک ہے جہاں دن دہاڑے ننھی بچیاں،معصوم بچے ‏تک محفوظ نہیں ہیں۔خاتون سےمتعلق علم ہوا کہ وہ خاتون اور اس کی فیملی فرانس میں رہتےتھے۔ان کے پاس وہاں کی نیشنیلٹی تھی۔خاتون کےایک رشتہ دار کا کہنا ہے کہ وہ خاتون اپنے بچوں کو اس مقصد سے پاکستان لے کر آئیں تھی کہ بچے یہیں تعلیم حاصل کریں۔اور اسلامی ماحول و کلچر کےمطابق پلیں بڑھیں۔

‏مگر وہ نہیں جانتیں تھیں کہ پاکستان اب ریپیسٹان بن چکاہے۔یہاں خواتین کیا یہاں توبچےبھی سکولوں،اعلی تعلیمی اداروں، مدرسوں،مسجدوں،بازاروں،کارخانوں ورکشاپوں یہاں تک کہ گھروں تک میں محفوظ نہیں ہیں۔اس واقعے کے بعد پاکستان کےمختلف مکتب فکر اور سکالرز کے لوگوں کے تبصرے پڑھ کر تو ذھن سن ہو گیا۔

‏وہی victim blaming والا غلیظ مائینڈ سیٹ۔سب سے پہلے سی سی پی او لاہور عمرشیخ کی طرف سے یہ کہنا کہ”رات گئے، اکیلے سفر کرتے ہوئے موٹروے پر ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کو دوسرے راستے سے جانا چاہیے تھا یا پھر پیٹرول نہ ہونا ان کی کوتاہی کانتیجہ تھا”یہ سب سن کر شدید مایوسی ہوئی۔وہ خاتون اگرٹینکی فل ‏کرواکر نکلتیں اور راستے میں گاڑی خراب ہوجاتی یا ٹائر برسٹ ہوجاتا تو؟کم از کم ایک پولیس آفیسرسے ہرگزایسےبیان کی توقع نہیں تھی۔

مزید سوشل میڈیا پر ایسے ایسے کمنٹ پڑھنے کو ملے کہ دماغ ہی کھول کر رہ گیا مثلاً ایک عمر رسیدہ سفید ریش شخص بظاہر بہت دینی جگہ جگہ قرانی آیات شئیر کی ہوئی۔

‏اس ہولناک واقعے کےذمہ داروں کو کچھ کہنے کے بجائے ایسی پوسٹس لگارہےتھے👇ھم لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہvictim blaming سےمجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔کرمینلز اپنے مکروہ اور سفاکانہ جرائم پرخود کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔خدارا اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ باتیں کر کے جرائم کی حوصلہ افزائی مت کیجے۔

‏عورت محرم کے بغیر سفر نہیں کرے تو کیا محرم کے بغیر دفن بھی نہ ہواکرے؟کیوں کہ عورت توزمین کےنیچےکفن پہنے ہوئے بھی محفوظ نہیں،مان لیجیے کہ کوئی لباس برا نہیں ہوتا دیکھنے والوں کےاخلاق اور تربیت بری ہوتی ہے۔سزا بھی بری تربیت والوں کوملنی چاہئیے۔وکٹم کبھی غلط نہیں ہوتا۔مجرم ہی غلط ہوتا ہے۔

تحریر:-

#حسیب_خان
ترجمان مظفر علی خان سیال گروپ