بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اکابرین امت کے نقش قدم پر
تحریر: عمیراقبال چوہدری

مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان وطن عزیز پاکستان کے دینی وعصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کی نمائندہ تنظیم ہے، جس کو اپنے قیام سے ہی اکابرین امت اور زعمائے ملت کی سرپرستی اور تائید حاصل ہے، تمام مسلکی و فروعی تفریقوں سے بالا تر ہو کر اسلام، دینی اقدار، مشرقی روایات کے فروغ اور وطن عزیز کی حرمت اور سربلندی کے لیے طلبہ کی فکری آبیاری کرنااس مستقل، آزاد اور خودمختار طلبہ تنظیم کا طرہ امتیاز ہے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے ناموس رسالت، عقیدہ ختم نبوت، عظمت و ناموس صحابہ واہلبیت، مقدس شخصیات کی عزت وناموس، دو قومی نظریہ کی بقاء، اسلامی اقدار وروایات کے فروغ، مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی، مسئلہ فلسطین کے حوالے سے آگاہی کے لیے بیدار ی کا مظاہرہ کیا ہے اور نوجوانوں کو اس حوالے سے راست اور مثبت راہنمائی کرکے ان کے دلوں میں عشق رسالت، محبت اصحاب رسول و اہلبیت کے دیپ جلائے ہیں، شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ، مولاناعبدالشکور لکھنوی ؒ، مولانا قاسم نانوتوی ؒ، مولانا حسین احمد مدنی ؒ، حضرت مولانا شیخ سرفرازخان صفدرصاحبؒ اور مورخ اسلام مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید سمیت تمام اکابرین امت کے افکار و نظریات کی حقیقی امین ہے اور ان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملاں و مسٹر کی تفریق سے بالا تر ہو کرنوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور ان کی دینی وفکری تربیت کی جدوجہد اس انداز سے کی ہے، کہ اس جدوجہد کے اثرات مدارس دینیہ کے طلبہ اور کالجز و یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کی گفتار وکردار میں نمایاں نظر آرہے ہے کہ آج ملاں و مسٹر کی ایک جیسی گفتار ہے۔
متدین اور نظریاتی نوجوانوں کے اس عظیم پلیٹ فارم پر شہید ناموس رسالت مولانا سمیع الحق صاحبؒ، ڈاکٹر مفتی عتیق الرحمن صاحب شہید، ڈاکٹرمولانا خالد محمود صاحب ؒ، ڈاکٹر مولانا عبدالرزاق سکندر صاحب، سینیٹرمولاناعبدالغفورحیدری صاحب، مفکراسلام مولانا زاہدالراشدی صاحب، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان، حافظ حسین احمد صاحب، ڈاکٹر مولانا منظوراحمد مینگل صاحب، ڈاکٹر ولی خان المظفرصاحب، جنرل (ر) حمید گل ؒ اور دیگر اکابرین امت نے آکر اپنے اعتماد کا اظہار کیا، جو یقینا قابل صد افتخار اور باعث تشجیع ہے۔ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ادنیٰ کارکن سے لے کراعلیٰ قیادت تک ہرایک فرد اجتماعیت پر یقین رکھتا ہے، یہ حسینی قافلہ ہر دور کے چیلنجز سے غور، فکر، تدبر اور حکمت سے نبرد آزما ہونے پر یقین رکھتا ہے، اعتدال ان نوجوانوں کا طرہ امتیاز ہے اور اسلاف، اکابر علماء کرام و زعماء ملک وملت سے تعلق اور ان پر اعتماد مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے نوجوانوں کی پہچان ہے، امت مسلمہ کے متفقہ عقائد ہی ان کے عقائد و نظریات ہیں۔ MSO پاکستان تمام صحابہ کرام و اہلبیت عظام کو اپنے مشن ومقصد میں کامیاب و کامران سمجھتی ہے بالخصوص جنتی نوجوانوں کے سردار، ریحانۃ الرسول ﷺ، شہید کرب و بلا حضرت سیدنا حسین بن علی ؓ کو قافلہ عزیمت کا سرخیل سمجھتے ہوئے اس عظیم سانحہ میں ملوث یزید سمیت ہر کردار کو پوری امت کا مجرم سمجھتی ہے اور اس حوالے سے جو عقائد اکابرین امت کے ہیں وہی عقیدہ ونظریہ ایم ایس او پاکستان کے ہر ادنیٰ و اعلیٰ کارکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں گستاخان صحابہ کے خلاف ملک بھر میں پھیلی عظمت صحابہ و اہلبیت تحریک میں اکابرین امت کے شانہ بشانہ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نہ صرف اس سواد اعظم کا حصہ ہے بلکہ ہراول دستہ کا کردار بھی ادا کررہی ہے۔
اس میں دو رائے نہیں ہے کہ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ایک عظیم نصب العین کے ساتھ میدان عمل میں ہے، غلبہ اسلام و استحکام پاکستان کے لیے ملاں و مسٹر کی طبقاتی تفریق کا خاتمہ اور یکسا ں نصاب تعلیم کے نفاذ کی داعی ہے، مشرقی روایات اور اسلامی اقدار کے ذریعے معاشرے میں حیاء اور پاکدامی کا فروغ چاہتی ہے، امت مسلمہ اور وطن عزیز پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نوجوانوں میں عقابی روح بیدار کرنا چاہتی ہے، بلاشبہ ملک کے طول وعرض میں پھیلا ہزاروں نوجوان طلبہ کا یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔