الحمدللہ! پاکستان قومی زبان تحریک راولپنڈی اسلام آباد مرکز کا مرکزی مجلس عاملہ کی طرف سے بلایا گیا اجلاس بہت بھرپور رہا۔
پاکستان قومی زبان تحریک اسلام آباد مرکز کی منتظم اعلی محترمہ حفصہ سعید اپنے بیٹوں کے ساتھ میزبانی کے فرائض کی انجام دہی کے لئے وقت سے پہلے ہی پہنچی ہوئئ تھیں۔ وہ انسانی حقوق کشمیر کی بھی چئیرمین ہیں۔اب انہوں نے اپنے مشن میں نفاذ اردو کو بھی شامل کرلیا۔نفاذ اردو کے حوالے سے ان کا جذبہ انتہائی لائق تحسین ہے۔ اجلاس میں جنرل حمید گل مرحوم ‘ سرپرست اعلیٰ پاکستان قومی زبان تحریک کی صاحبزادی محترمہ عظمی گل’ سابق ایم ڈی اردو سائنس بورڈ خالد اقبال یاسر’ ڈاکٹر ساجد خاکوانی’ محترم واصف اقبال’ سوشل ایکٹوسٹ قمر نقیب خان’ اے ار ساجد اور ان کے والد ‘ رفیق قریشی’ ڈاکٹر شیر علی خان سابق ڈپٹی ڈائریکٹر مقتدرہ قومی زبان ‘ ایڈووکیٹ سرور رضا قادری ”ڈیرہ غازی خان کے نوجوان نے شرکت کی۔اجلاس میں نفاذ اردو کے حوالے سے تمام شرکاء نے مرحوم جنرل حمید گل کی قومی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔جنرل حمید گل کی صاحبزادی محترمہ عظمی گل نے کہا کہ مجھے پاکستان قومی زبان تحریک کی رکنیت سازی دی جائے ۔ان شاءاللہ پاکستان میں نفاذ اردو کیلئے میں اپنے حصے کا کام کرونگی ۔ راولپنڈی’ اسلام آباد میں پاکستان قومی زبان تحریک کو فعال کرونگی۔ محترمہ اپنے والد مرحوم کی پیروی کرتے ہوئے اجلاس میں وقت پر تشریف لائیں۔ سابق ایم ڈی اردو سائنس بورڈ محترم خالد اقبال یاسر کا شمار پاکستان کی ان “اشرافیہ” میں ہوتا ہے۔جو پاکستان میں نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لئےعملی طور پر بر سر پیکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقتدرہ سمیت تمام ادارے نوے
فی صد سے زیادہ نفاز اُردو کا کام کرچکے ہیں لیکن صرف اشرافیہ اور حکمرانوں کی بدنیتی کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔جس دن وزیراعظم نے نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے انتظامی احکامات جاری کردئیے اس سے اگلے روز ہی تمام “اشرافیہ” اپنی مراسلت اردو میں شروع کردی گی۔ان کو اردو ایک عام پاکستانی سے زیادہ اچھی لکھنی اتی ہے۔ڈاکٹر ساجد خاکوانی استاد بھی ہیں۔اور پاکستان قومی زبان تحریک کے قافلے میں شروع ہی سے شامل ہیں۔اپ وقت مقررہ کے مطابق اجلاس میں شریک ہوئے۔ پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی صدر’ محترم جمیل بھٹی’ نائب صدر’ سلیم ہاشمی’ خاکسار فا طمہ قمر نے تمام شرکاء و مہمانوں و منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اتوار کے دن صبح کے وقت ایک قومی مقصد کی تکمیل کے لئے ہمارے اجلاس میں شریک اور ہوئے اور حوصلے و عزم کی کی مذید جلاء ںخشی۔ پاکستان قومی زبان تحریک کا کارواں پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر محترم جمیل بھٹی کی قیادت میں علی الصبح لاہورسے روانہ ہوا۔اس کارواں میں پروفیسر سلیم ہاشمی اور خاکسار’ فاطمہ قمر بھی شامل تھی۔ محترم قائد جمیل بھٹی صاحب کے ہونہار’ فرمانبردار صاحبزادے کو شاباش! جس نے پاکستان قومی زبان تحریک کے قافلے کے لئے “ڈرائیونگ’ کا فرض انتہائی خلوص’ مستعدی سے ادا کیا۔
لائق تحسین ہیں۔ راولپنڈی کے منتظم رفیق قریشی صاحب جنہوں نے اپنی ہمشیرہ کی علالت کے باوجود اجلاس میں شرکت کی۔
گزشتہ روز اتوار کے دن راولپنڈی’ اسلام آباد کے شرکاء کا نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کا جوش و خروش دیکھ کر ہمیں بہت حوصلہ ہوا اور ہمیں پاکستان میں نفاذ اردو کی منزل اور قریب معلوم ہوئی۔
قمر نقیب خان سوشل ایکٹوسٹ ہونے کے ساتھ معاشرے میں ظالموں کو انجام تک پہنچانے کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہ کرکے سر گرم عمل رہتے ہیں۔ہم نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ
“نفاز اُردو فیصلے” کی توہین کرنے والے “مجرموں” کے خلاف بھی مہم شروع کریں۔ انہوں نے نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ پاکستان قومی زبان تحریک میں اپنے حصے کا حق ادا کریں گے۔
فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک