بابائےجمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان رحمہ اللہ کی نجی زندگی کےکچھ 

انتخاب محمد عمر فاروق
—————————————————————————–
+۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان کاتعلق پٹھان قبائل کی ایک شاخ بابرسےتھا۔اس قبیلےکاتاریخی پس منظرکچھ اس طرح بتایاجاتاہےکہ ان کےآباؤاجداداٹھارویں صدی میں افغانستان کےعلاقے غزنی میں ترکی سےاس وقت ہجرت کرآئےجب وہاں شورش برپاہوچکی تھی۔جن کی کچھ تعداد بعدازاں اس وقت کےمتحدہ ہندوستان کےعلاقےڈیرہ اسماعیل خان اورخان گڑھ آکرآبادہوگئی۔بابرقبائل کی ایک بڑی تعدادآج بھی افغانستان میں آبادہے۔
+۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان 1918ءمیں مظفرگڑھ کےقصبےخانگڑھ میں پیداہوئے
+۔۔۔والدکانام نواب سیف اللہ خان تھا۔جو1924ءمیں وفات پاگئےتھے۔
+۔۔۔نوابزادہ مرحوم نےاپنی تعلیم ایچی سن کالج لاہورسےمکمل کی۔
1932ءنوابزادہ نصراللہ خان رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔
+۔۔۔نوابزادہ مرحوم کی اولادمیں پانچ بیٹےاورچاربیٹیاں ہوئیں۔
+۔۔۔۔سب سےبڑےبیٹےنثاراحمدخان،جوکہ غیرسیاسی ہیں۔
+۔۔۔۔۔دوسرےمنصوراحمدخان،جوکہ 4مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔بےنظیرکےدورمیں صوبائی وزیرمال بھی رہے۔اس وقت بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرف سےپنجاب اسمبلی کےرکن ہیں۔
+۔۔۔۔نوابزادہ صاحب کےتیسرےبیٹےافتخاراحمدخان ہیں۔جوکہ اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سےقومی اسمبلی کےرکن ہیں،اورپارٹی کےصوبائی سیکرٹری اطلاعات بھی ہیں۔
+۔۔۔چوتھےبیٹےکانام ابراراحمدخان ہےجوکہ عملی طورسب سےبڑےبیٹےکی طرح سیاست میں غیرفعال ہیں۔
+۔۔۔۔نوابزادہ صاحب صاحب کےسب سےچھوٹےیعنی پانچویں بیٹےاسراراحمدخان ہیں۔جومشرف دورمیں تحصیل مظفرگڑھ کےناظم بھی رہ چکےہیں۔
+۔۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان اپنی آبائی رہائشگاہ واقع خانگڑھ موسوم سیف نگرکےعلاوہ لاہورریلوےسٹیشن کےپاس 32نکلسن روڈپرواقع ایک سادہ سےکرائےکےمکان میں بھی رہتےتھے۔جوکہ بیگم
ممتازسےکرائےپرلیاہواتھا۔یہ ان کی جماعت پی۔ڈی۔پی کاصدردفتربھی کہلاتاتھا۔
+۔۔۔۔۔۔نوابزادہ ایک دلآویزشخصیت کےمالک تھے،جوکہ اخلاص،شرافت،سادگی،ایمانداری،تحمل وبرداشت،نرم مزاجی،حق گوئی ،بہادری ودلیری اوراستقامت جیسےعظیم اوصاف کامجوعہ تھی۔یہی وجہ ہےکہ بدترین سیاسی مخالف بھی نوابزادہ صاحب کی شرافت اوراعلیٰ سیاسی اقدارکےمعترف تھے۔
+…..زندگی کےگیارہ بارہ سال اسیری کاٹی۔
+۔۔۔۔بقول شورش کاشمیری،”وضع دارا،خلیق،ذہین،مدبر،دھن کےپکے،قول کےسچے،طبیعت میں درویشی،مزاج میں دوراندیشی،خاندانی اعتبارسےرئیس ابن رئیس،لیکن رعونت نہ تکبر،جوملاپہن لیا،جوملاکھالیا،شکایت کسی سےنہیں کرتے،حکایت بھولتےنہیں،کشتہ ناز،سراپانیاز،دل میں گداز،سینہ پرراز،پرانےلباس میں نیاانسان،ٹوپی تحریک خلافت کی یادگار،اچکن مسلم لیگی،کرتاشلواردونوں جاگیردار،جوتی نوابی،چوری ہوجائےتودعائیں دیتےہیں رہزن کو۔ناک کھچاہوا،دھن کھلاہوا،لیکن خطابت کےنزدیک سےنہیں گزرے،سیاسی تاش میں ترپ کےپتےلگاتےوقت کھلاڑیوں کی ذہانت سےآنکھیں چارکرلیتےہیں۔احرارکی پرانی نسبتوں کےباعث خوش فہم،نہ عیب بین نہ عیب چین،،زبان میٹھی،لہجہ شستہ،گالی کےنام سےناآشنا،فارسی کےرسیا،اردوکےشیدائی،انگریزی میں اتارد،سوادخط انتہائی خوبصورت،ماتھےپرقصیدےکی تمکنت،آنکھوں میں غزل کاسرور،دل آئینہ،نہ کسی کومرعوب کرتےہیں نہ کسی سےمرعوب ہوتےہیں۔جاگیرداروں کی ایک بھی روایتی برائی ان میں نہیں،نہ اس بازارکےمسافر،نہ اس بازارکےراہی،شب وروزسیاسیات ہی کاسفرکرتےہیں۔”
+۔۔۔۔۔قیام پاکستان سے قبل آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل اور مجلس کے ترجمان روزنامہ آزاد لاہور کے ایڈیٹر رہے۔
+۔۔۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان ذاتی زندگی میں عبادت وریاضت سےبھی کسی طورغافل نہ رہے،تہجدگزاراورپانچ وقت کےنمازی تھے۔
+۔۔۔۔۔نمازفجرکےبعدناشتہ کرتےتھے۔
+۔۔۔۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان انڈااوردودھ سےبنی غذانہیں کھاتےتھے۔
+۔۔۔۔۔آپ کادسترخوان انواع وقسام کےکھانوں سےمزین رہتاتھا۔سردیوں میں دیسی مرغ،بٹیراورمچھلی کھاتےتھے۔سویٹ ڈش میں گاجرکاحلوہ مرغوب تھا۔گرمیوں میں مرغ،مٹن،سبزی،دال،تربوز،گرمایاآم دسترخوان پرموجودہوتےتھے۔
۔۔۔حقہ،ترکی ٹوپی اورپان زندگی کالازمہ تھے۔
نوابزدہ نصراللہ خان کاروزانہ ڈائری لکھنامعمول تھا۔
+۔۔۔۔۔۔گلاب کےپھول بہت پسندتھے۔
+۔۔۔۔۔اپنی عمرکسی کونہیں بتاتےتھے۔
+۔۔۔۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان ہمیشہ قومی زبان بولتےتھے۔اردوکےعلاوہ فارسی اورانگریزی پربھی عبورحاصل تھا۔
+۔۔۔۔۔۔ٹی۔وی پرکرکٹ کےمیچ دیکھنا،خبریں سننااوراخبارات پڑھناآپ کےپسندیدہ مشاغل تھے۔
+۔۔۔۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان بیک وقت ادیب،شاعر،صحافی اوربااصول جمہورت پسندسیاست دان تھے۔
آپ کاتخلص “ناصر”تھا
+۔۔۔۔۔۔دوپہر2بجےسے4بجےتک قیلولہ کرتےتھے۔
+۔۔۔۔۔۔نوابزدہ نصراللہ خان سرپرترکی ٹوپی اورصاف ستھری سفیدچمکتی ہوئی شلوارقمیص میں ملبوس رہتےتھے۔خاص مواقع پرشیروانی بھی زیب تن کرتےتھے۔
+۔۔۔۔۔۔وفات سےتقریباًڈیڑھ ہفتہ قبل عمرکاآخری عمرہ کیا۔پیرانی سالی کےباوجودمدینہ منورہ میں روزانہ 5نمازیں 5دنتک باجماعت اداکیں۔
+۔۔۔۔۔۔قبرکےلیےجگہ کاانتخاب خودکیا۔
+۔۔۔۔۔۔26ستمبراورہفتہ27ستمبر2003کی درمیانی شب 12:45منٹ پر زندگی کی آخری سانس لےکرعالم برزخ روانہ ہوگئے۔
+۔۔۔۔۔۔آپ کی میت کو غسل امیرشریعت کےفرزندسیدعطاءالمہیمن شاہ بخاری اورنواسےسیدکفیل شاہ بخاری نےدیا۔
+۔۔۔۔۔۔نوابزادہ نصراللہ خان کوقومی پرچم میں لپیٹ کرسپردخاک کیاگیا۔
+۔۔۔۔۔۔نمازجنازہ مولانافضل الرحمان نے28 ستمبر2003بروزاتوارصبح 11:15منٹ پرپڑھائی۔
راقم کی طرف سےامیرشریعت کےنواسے،مجلس احرارکےنائب امیرسیدکفیل شاہ بخاری اور نوابزادہ صاحب کےفرزندنوابزادہ افتخاراحمدخان صاحب کاخصوصی طورپرشکریہ اداکیاجاتاہے،جنہوں نےاہم معلومات کی فراہمی اورتصدیق کےلیےخصوصی تعاون کیا.










