امین الامت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہا

تحریر حسن علی گڑھ موڑ جھنگ

بے شک ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے (میرے) امتیو! بے شک ہمارا امین ابو عبیدہ بن الجراح (رضی اللہ عنہ) ہیں۔(صحیح بخاری: ۳۷۴۴ و صحیح مسلم: ۲۴۱۹)
#شخصیت
ابوعبیدہ بن الجراح نے اپنے زمانے کے سب سے بڑی عالمی طاقت روم کے خلاف ٹکر لی اور اسے ایشائی علاقوں سے پیچھے دھکیل دیا۔
#عہدنبوی_میں_خدمات_اسلام
غزوہ بدر میں اپنے باپ عبداللہ بن الجراح کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔(سنن الصغری للبیقی: 3910) قرآن پاک کی ایک آیات آپ ہی جیسے صحابہ کے لیے نازل ہوئی تھی جس میں اللہ تعالٰی باپ، بیٹے، بھائی اور اہل خاندان کے خلاف قتال کی وجہ سے جنت کی بشارت دی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللّه عنہ نے ایک دن پروگرام بنایا کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللّه عنہ کے گھر جا کر ان سے ملاقات کریں۔
اس وقت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے وزیر (خزانہ) مال تھے ۔ انہوں نے کہا امیر المومنین مجھے یہ بات پسند نہیں کہ آپ کی آنکھوں کے پیمانے چھلک پڑیں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اصرار کرتے ہوئے کہا
“میں تم سے تمہارے گھر میں ضرور ملاقات کروں گا”
جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ان کے پاس ایک جبہ، بکری کی ایک کھال، ایک برتن کھانے پینے کےلئے اور ایک برتن وضو کرنے کےلئے تھا۔ اس کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ انہیں ایسا گھر دکھائی دیا جیسے وہ غریب ترین مسلمان کا گھر ہو۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا
“امیر المومنین میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میں آپ کی آنکھوں سے بہنے والی آنسووں کی برکھا نہیں دیکھنا چاہتا”
اللہ تعالٰی ان طیب و طاہر نفوس قدسیہ پر رحمت و رضوان کی بارشیں نازل فرمائے۔
بےشک وہ اقوام عالم کےلئے عظمتوں کے جگمگاتے ہوئے مینار تھے۔💞
من نفحات الخلود
محدث کبیر علامہ سید محمد صالح فرفور گیلانی (رحمتہ اللہ علیہ)
زندہ جاوید خوشبوئیں
شرف ملت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری (رحمتہ اللہ علیہ)
صفحہ 187-188