جھنگ کی شہری سیاست پر تیرہ سال سے حاوی شیخ گروپ کے لیے بلدیاتی انتخابات کس قدر مشکل ثابت ہو سکتے ہیں اس اندازہ شیخ وقاص اکرم بھی شاید نہیں کر رہے اور شاید انہیں اس کو ادراک بھی نہیں ہے ضلع جھنک کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ایک سیاسی راہنما راقم کے سامنے بیٹھے اپنی رائے کا اظہار کر رہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی دوران گفتگو مداخلت کرنی پڑ گئی مگر سر شیخ صاحب نے ساٹھ ہزار کے قریب ووٹ حاصل کیئے ان کے بھائی چئیرمین بلدیہ جھنگ کے عہدے پر براجمان ہیں ضلع جھنگ کی گزشتہ بلدیاتی سیاست میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے اپ کیسے ان کو ضلع جھنگ کی سیاست سے باہر ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں اس اہم سیاستدان نے حیرت اور طنز کے ملے جلے انداز سے راقم کو دیکھا گویا اسے اس احمقانہ سوال کی توقع ہی نہ ہو پھر بولے عزیزم ماضی سے زیادہ حال اہم ہوتا ہے اور حال سے زیادہ مستقبل اہم ہوتا ہے اور اپ کی چند غلطیاں اپ کے حال اور مستقبل کو تو تباہ کرتی ہی ہیں اپ کے شاندار ماضی کو بھی فراموش کرا دیتی ہیں پھر بولے آپ شیخ حاکم علی کو جانتے ہیں ایک زمانے میں ان کا طوطی بولتا تھا صوبائی وزیر تھے ان کی حکومت میں ہی شیخ صاحب کی جماعت کے راہنما مولانا اعظم طارق اور مولانا ضیاالرحمن فاروقی کو گرفتار کر لیا گیا جیل سے مولانا فاروقی نے شیخ حاکم علی کو استعفی کا حکم دیا مگر شیخ حاکم علی نے استعفی دینے سے انکار کر دیا مولانا اعظم طارق نے جیل سے پیغام بھیجا کہ شیخ صاحب استعفی دے دیں جھنگ کی عوام ایک وقت پر مجھے مسترد کر دے گی مگر اپ کو نہیں کرے گی مگر شیخ صاحب وزارت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور جب شیخ صاحب ایک بار پھر انتخابات میں اترے تو گنتی کے سینکڑوں ووٹ حاصل کر سکے کچھ شیخ وقاص گروپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جھنگ کے دونوں سرمایہ دار گروپ گروپ اکھٹے بھی انتخاب لڑے اور یہ شیخ صاحبان کی بقاء کا سب سے اچھا گروپ تھا مگر شیخ صاحب صوبائی کی نشست دوسرے کے لیے برداشت کرنے پر تیار نہیں تھے سابقہ دور حکومت میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں شیخ وقاص گروپ کو شکست ہوئی مگر حاجی آزاد ناصر انصاری اور شیخ یعقوب گروپ کو عیاری سے مولانا لدھیانوی سے علیہدہ کر کے بلدیہ کی چئیرمین شپ تو حاصل کر لی گئی اورآزاد ناصر ایم پی اے شپ کے ساتھ چیئرمین بلدیہ کے پروقار عہدے سے بھی محروم ہو گئے اگر وہ سابقہ اتحاد میں رہتے تو یقینی چئیرمین بلدیہ ہوتے ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد انتخابات میں انہیں ایک بار پھر لولی پوپ دینے کی کوشش گئی مگر وہ صرف لولی پاپ ہی رہا اور یہی شیخ وقاص کی سب سے بڑی غلطی تھی جس کا خمیازہ انہیں ہمیشہ بھگتنا پڑے گا حاجی ازاد ناصر کی صورت میں وہ جھنگ سٹی میں مولانا لدھیانوی کے مظبوط ووٹ بینک میں دراڑ ڈال چکے تھے یہ بلاشبہ شیخ وقاص اکرم کی بڑی کامیابی تھی مگر یہ بڑی کامیابی بعد میں مبینہ دھوکے کی نظر ہو گئی حاجی آزاد ناصر انصاری اور شیخ یعقوب اب شیخ وقاص گروپ کی بجائے رکن قومی اسمبلی محترمہ غلام بی بی بھروانہ کے گروپ کا حصہ ہیں اب محترمہ غلام بی بی بھروانہ جیسی ہارڈ ورکر کی موجودگی میں اس دراڑ کافا ئدہ شیخ صاحب دور دور تک نہیں اٹھا سکتے اس دراڑ کا فائدہ آئیندہ بلدیاتی انتخابات میں محترمہ غلام بی بی بھروانہ ہی اٹھائیں گیں اور یوں شیخ وقاص اکرم بھی اپنی تھوڑی سی غلطی کی وجہ سے شیخ حاکم علی ہی بنتے جا رہے ہیں علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین اف جرنلسٹس ضلع جھنگ