فرانس میں مذہبی آزادی ختم کرنے کا فیصلہ، مسلمان اپنے مذہبی عقائد پر عمل نہیں کر سکیں گے
سٹار نیوز ۔فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے آئندہ ہفتے ایک نیا قانون متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے جس میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی ختم کر دی جائے گی۔
ایمانویل میکرون نے کہا کہ نئے قانون میں مذہب اور ریاست کو علیحدہ کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں 1905 کا قانون لاگو کیا جائے گا جس میں مذہب اور ریاست الگ الگ ہوں گی۔
نئے قانون کے بعد فرانسیسی مسلمان خواتین گھر سے باہر نکل کر حجاب نہیں لے سکیں گی۔
مقامی انتظامیہ اگر ان قوانین پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہوں گی تو وفاقی حکومت آگے بڑھ کر اس قانون کو لاگو کرے گی۔
نئے قانون میں اسکول میں بچوں کی کینٹین میں مسلمان بچوں کی مذہبی آزادیاں ختم ہو جائیں گی۔ لڑکیوں اور لڑکوں کے علیحدہ سوئمنگ پول ختم ہو جائیں گے اور تمام طالب علم چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا ایک ہی سوئمنگ پول میں تیراکی کریں گے۔
فرانسیسی صدر نے کہا اس وقت دنیا بھر میں مذہب اسلام ایک بحران سے گزر رہا ہے لیکن فرانس میں ہم سے کسی طرح کی رعایت نہیں دینا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ دسمبر میں حکومت ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی جس میں 1905 کے قانون کو دوبارہ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
میکرون 2017 میں فرانس کے صدر منتخب ہوئے اس کے بعد سے مسلمانوں کی آزادی پر قدغنیں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔
فرانس میں اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم کولیکٹو اگینسٹ اسلاموفوبیا کے ڈائریکٹر جواد بشیر نے کہا کہ میکرون کی صدارتی مدت ختم ہو رہی ہے اور ہر نئے الیکشن میں ایک ہی سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے جو مسلمانوں کی مذہبی آزادی سے متعلق ہے۔
فرانسیسی مسلمانوں میں نئے قانون کو لے کر تشویش بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک مسلمان طالبہ نے پارلیمنٹ کی کمیٹی میں حجاب پہن کر شرکت کی تھی جس پر پارلیمنٹ کی دائیں بازو کی رکن پارلیمنٹ احتجاجاً واک آوٗٹ کر گئیں تھیں۔ اس واقعے کے بعد فرانس میں ایک بار پھر مسلمانوں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
یورپ میں فرانس واحد ملک ہے جس نے 2010 میں عوامی مقامات پر اسکارف، حجاب اور برقعہ پہننے پر پابندی عائد کی تھی۔ یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے 2014 میں اس قانون پر عمل درآمد روک دیا تھا لیکن اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ حجاب کرنے اور برقعہ پہننے سے مسلمان خواتین الگ شناخت کیوں چاہتی ہیں۔
اس وقت فرانس کی 6 کروڑ 70 لاکھ کی مجموعی آباد میں مسلمانوں کی تعداد 50 لاکھ ہے۔ حالیہ کچھ برسوں میں یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھ گئی ہے۔
یورپ کی دائیں بازو کی جماعتیں اسلاموفوبیا کے تحت اسلام سے اپنی نفرت برملا اظہار کر رہی ہیں۔












