اسرائیل کے مذموم مقاصد اور مظلوم فلسطینی
تحریر سید واصف
اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر آگ برساتے ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق شہادتوں کی تعداد پندرہ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ، جن میں صرف معصوم بچوں کی تعداد چار ہزار سے زائد ہے۔
اسرائیل کئی سالوں سے غزہ کے مسلمانوں پہ بد ترین ظلم کر رہا ہے، حال ہی میں فلسطین کی مزاحمتی فورس ، حماس نے جب اسرائیل کو اپنے نشانے پہ لے کر آپریشن شروع کیا، تو اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادیوں کو شدید جھٹکا لگا، یقیناً یہ آپریشن اسرائیلی فوج اور انٹیلی جینس کو حیرت اور شدید نقصان سے دوچار کر گیا مگر عشروں سے اسرائیلی تسلط میں بدترین حالات کا سامنا کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کی طرف سے یہ ردعمل متوقع تھا ۔ اسرائیل نے جون2007ء سے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اسے پوری دنیا سے کاٹ کر کھلی جیل میں تبدیل کردیا ہے، 22لاکھ آبادی 16سال سے شدید پابندیوں کی زد میں ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں اور زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانے میں ناکام رہی ہیں، آخر اسرائیل کے موجودہ مذموم مقاصد کیا ہیں ؟ اس کا جواب تو بہت تفصیلی اور کئی حصوں پر مشتمل ہو سکتا ہے لیکن آئیے اس کے ایک حصے کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں
ان مذموم مقاصد کا میں ایک مقصد بن گوریون کینال کو حاصل کرنا ہے، جو عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ایک نیا راستہ بنائے گی۔
روس کے ایک تحقیقی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بن گوریون کینال جو کہ غزہ اشکلون لائن سے بحیرۀ احمر میں کھلتی ہے یہ ہی غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی اور غیر انسانی منصوبہ بندی کے پیچھے ہے۔ منصوبے کے دائرہ کار کے مطابق اسرائیل کا مقصد عالمی تجارت اور توانائی کی راہداری میں سوئز کو ختم کرکے اور عالمی تجارت اور توانائی کا رسد کا مرکز بنا کر مصر کو مزید ایک کونے میں دھکیلنا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صورت حال آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ اور بحیرہ روم کے تزویراتی توانائی کے توازن کو متزلزل کر دے گی، جو دنیا کی 30 فیصد توانائی کی منتقلی کا مقام ہے، اور اس سے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
سوئز کا متبادل پروجیکٹ: بن گوریون نہر،وہ پروجیکٹ ہے جسے اسرائیلی حکومت سویز کے متبادل کے طور پر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ایک 260 کلومیٹر طویل کوریڈور ہے جو غزہ اشکلون کے علاقے سے بحیرۀ احمر تک پھیلا ہوا ہے۔ بین گوریون کینال، جو عالمی توانائی اور تجارت کے لیے ایک نیا راستہ نکالے گی، جو مصر کے لیے اقتصادی اور تجارتی تباہی بھی ہے، جو سوئز سے سالانہ اربوں ڈالر کماتا ہے۔
توانائی کے جیو پولیٹیکل ماہر مہمت اوگٹکو نے 7 اکتوبر کو شروع ہونے والے غزہ کے بحران اور 10 اکتوبر کو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے تاریخی معاہدوں سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ترکی کے ملتوی ہونے والے دورے کی طرف توجہ مبذول کرائی۔
“سعودی عرب،دبئی،اسرائیل،یونان کے راستے کے بعد ممبئی سے یورپ تک راہداری کے ساتھ توازن کو تبدیل کرنے کی خواہش تھی۔ اسرائیلی گیس کو ترکی کے راستے مارکیٹ تک پہنچانے کا معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ گیا تھا۔ اب وہ مرحلہ بہت دور ہے۔ پیچھے اور ہونے والے نقصان کی تلافی کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔
فلسطینی ماہر سیاسیات ڈاکٹر سمیع العریان نے کہا کہ بن گوریون منصوبہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ قابض حکومت کی تاریخ ہے۔ انہوں نے اس نہر کی فوجی، اقتصادی، توانائی اور تزویراتی اہمیت پر بھی زور دیاہے۔
“بین گوریون لائن افریقہ سے گزرنے والے راستے کو بھی تین ہفتوں تک مختصر کر دے گی۔ اس کا عالمی روٹ پر گہرا اثر پڑے گا اور لامحالہ علاقائی کشیدگی اور جنگ کو ہوا دینے میں کردار ادا کرے گا،”
العریان کے مطابق، اس پیش رفت کا بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ روم پر براہ راست اثر پڑتا ہے، جس کے لیے مصر اور ترکی کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔
چین بھی متاثر: دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے ماہر اسماعیل نعمان تلسی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر چین کا نقطہ نظر خطے میں اس کے اقتصادی مفادات سے متاثر ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چین کی خطے میں انفراسٹرکچر اور بندرگاہوں پر سرمایہ کاری ہے۔ “ایسے حالات میں دوسری طرف بیجنگ خطے کو غیر مستحکم نہیں کرنا چاہے گا۔ چین عمومی طور پر مشرق وسطیٰ پر توانائی کے انحصار کی وجہ سے خطے میں استحکام کو بہت اہمیت دیتا ہے۔”
دوسری طرف شام میں روس کی فوجی موجودگی کا مرکز لاذقیہ اور طرطوس ہے اور اس کے بحری جہاز بحیرہ روم میں کام کرنے والے بحری جہاز بھی غزہ کی کشیدگی سے متاثر ہیں۔ دوسری طرف، بین گوریون نہر، جسے اسرائیل مذہبی محرکات کے علاوہ عالمی تجارتی توانائی کے محور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کے طور پر نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس مذموم مقصد کے لیے اسرائیل غزہ میں لاکھوں انسانوں کو بارود کی چکی میں پیسنا چاہتا ہے اور عالمی طاقتیں بھی اس کا ساتھ دے رہی ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فلسطین کے جس دو ریاستی تصفیے پر عالمی اتفاق ہے، اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے فوری جنگ بندی اور پھر بلاتاخیر اس سمت میں نتیجہ خیز پیش رفت ناگزیر ہے، جس کی سب سے بڑی ذمہ داری امت مسلمہ خصوصاً او آئی سی پہ ہے ۔ اگر اسرائیلی جارحیت اسی طرح جاری رہی اور مغربی طاقتیں اسرائیل کا دفاع کرتی رہیں،تو اسرائیلی درندگی کے دفاع کا نتیجہ عالمی امن کی تباہی کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔













