دین اسلام

تحریر= سید الیاس حیدر کاظمی

ادیان عالم کااگربغورمطالعہ کیاجاۓتواسلام سےبڑھ کرافضل،اکمل،اشرف دین کوئ نہیں_خالق کائنات کاحکم اس بارےمیںحرف آخرہے”ان الدین عندالہ الاسلام” اسلام کوصرف نماز.روزہ تک محدودکرناتنگ نظری اورعدم واقفیت کی دلیل ہےحلانکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور انسانی زندگی کےتمام پہلووں کا کااحاطہ کیے ہوۓ ہےاوراسلامی قوائدوضوابط کی روشنی میں انسانیت کی فلاح کیلئے ایک ایسی حکومت کی ضرورت پیش آتی ہےجس میں ہرانسان کواس کاحق ملےاورکسی کےحقوق پرڈاکہ نہ ڈال سکےکیونکہ حکومت کفرسے توباقی رہ سکتی ہے ظلم سے نہیں اورظلم سے نفرت اورمظلوم سےھمدری اہل ایمان کاشیوہ وشعار ہے.حالانکہ سیاست دین سے جدانہیں سیاست اور دین لازم وملزوم ہیں.-جداہودین سیاست سے تورہ جاتی ہےچنگیزی-سیاست کےمعانی ہیں حکومت وسلطنت کرنےکیلئےفہم وفراست دانش مندی دوراندیشی اورموثرحکمت سےانتظام چلانےکانام سیاست ہے.تاریخ کےاوراق دیکھیں توپیغمبرصلعم کی زندگی میں دین اورسیاست کاحسین امتزاج نظرآتاہےاوربحکم قرآن رسول صلعم کی زندگی میں اسوہ حسنہ موجود ہے. المختصر دیگرآئمہ ع نے دین اسلام کی بقاکی خاطرظالمین کےظلم کےباوجودمحروم وکمزورطبقہ کیلئے صداۓحق بلندکرکے ایوان حکومت کی چولیں ہلاکررکھ دیں اورقیدوبندکی صعوبتیں سہہ کرعوام کالانعام کی آنکھوں پرغفلت کی پٹی اکھاڑکریہ واضح کردیاکہ ہماری سیاست کامرکزی نقطہ اسلام محمدی کی ترویج اورعدل الہی کا قیام ہے .دین سیاست کےگرد نہیں گھومتابلکہ سیاست کامرکزدین ہے

کالم۔نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ادارہ