کاش
تحریر:اللہ نوازخان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری زندگی میں بہت سے کاش آتے ہیں۔مثال کے طور پر کاش میں نے دوران تعلیم ,تعلیم حاصل کرنے پر اچھی طرح توجہ دی ہوتی۔مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیے تھا,یا مجھے جاب کی بجائے کاروبار کرنا چاہیے تھا۔جس طرح نجی زندگی میں کاش کا زیادہ استعمال ہوتا ہے, اسی طرح قومی زندگی میں بھی کاش کا لفظ بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ کاش پاکستان کے حکمرانوں نے امریکہ کے بجائے روس کا دورہ کیا ہوتا۔کاش جنرل گریسی نے قائد اعظم کا حکم مان لیا ہوتا۔کاش پاکستان کا آئین فوری طور پر بن جاتا۔کاش عوام نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی ہوتی تو آج پاکستان ان حالات کا شکار نہ ہوتا۔لفظ کاش نے ہماری زندگی میں اتنی اہمیت اختیار کر لی ہے کہ اس کے بغیر نہ تو ہماری کوئی تقریر مکمل ہوتی ہے اور نہ کوئی تحریر۔حتی کہ اگر دو افراد بھی اکیلے بیٹھ کر گپ شپ لگا رہے ہوں تودوران گفتگو,دو چار دفعہ تو کاش کا لفظ آنا لازمی ہے۔اس کاش سے ہمیں جان چھڑاناہوگی۔ماضی میں جو غلطیاں کی گئی ہیں,ان کو بھلا کر پوری یکسوئی کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ہمارے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ ماضی سے سبق بھی نہ سیکھا جائے۔جس طرح غلطیاں ہم سے انفرادی طور پر یا بحیثیت قوم ہوئی ہیں,آئندہ ایسی غلطیاں نہ ہوں۔اگر ہم نے بار بار کاش کا لفظ استعمال کرکے آئندہ بھی اپنی غلطیاں سدھارنے کا ارادہ نہیں کیا,تو آنے والی نسلیں یہی کاش ہمارے لئے استعمال کر رہی ہوں گی۔
یہ درست ہے کہ لفظ کاش ہم استعمال نہ کریں,لیکن اس کو یکسر نظر انداز کرنے سے بھی مسئلہ نہیں ہوتا۔اب ہمیں آگے کی طرف بڑھنا ہوگا۔اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔کوشش کئے بغیر اللہ تعالی بھی انسان کو عطا کرنے کا وعدہ نہیں کرتا۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالی بغیر کوشش کرنے والوں کو کچھ دیتے نہیں, بلکہ اس کی عطا ہے,جس کو چاہے, دے دیتا ہے۔مگر اللہ پاک نے ایک کلیہ بنا دیا ہے کہ محنت کرنے والوں کو ضرور عطا کرے گا۔اب اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور سیرت کا مطالعہ کیا جائے,تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت محنت کرتے رہتے تھے۔پہلی جنگ بدر کے بارے میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے کی تھی۔لیکن مدد بھی اس وقت پہنچی جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے صحابہ کرام کو تلقین کرتے تھے کہ محنت کریں, بجائے اس کے کہ بھیک مانگ کر اپنا پیٹ پالیں۔اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ساری مشکلات آزمائش کےلیےنہیں ہوتی بلکہ اپنی انسان کی پیدا کردہ بھی ہوتی ہیں۔اسلام بار بار واضح کرتا ہے کہ مشکلات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا مقابلہ کیا جائے۔کٸ ایسے صحابہ کرام مشرف بہ اسلام ہوئے تھے,جن کا مقصدحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو اذیتیں دینا تھا۔ان صحابہ کرام نے اپنی زندگیاں اسلام کے لئے وقف کر کے اپنی ماضی کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس کی بہترین مثال ہیں۔
موجودہ دور میں ہماری قوم کی تنزلی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے,موجودہ مسلمان ماضی پر فخر و غرور کرتے ہیں لیکن حال کے لیے وہ سوچنا بھی گوارا بھی نہیں کرتے۔وہ اس بات پر زور دیں گے کہ مسلمانوں کا ماضی شاندار رہا ہے۔ساٸنس دان بھی اول زمانے میں مسلمانوں میں تھے اور بہترین حکمران بھی ماضی کے مسلمان تھے۔اس بات پر مناظرے اور بحثیں ہوتی ہیں کہ کاش فلاں سلطان بہترین حکمرانی کر جاتا۔فلاں فرد ملک وقوم کا وفادار ہوتا۔بحثیت قوم ہماری زندگی اس طرح گزر رہی ہے۔کاش کا لفظ ہماری زندگی میں جانے کا نام نہیں لے رہا۔اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو اس لفظ کاش سے جان چھڑانی ہوگی۔جب تک ہماری زندگیوں میں لفظ کاش کا عمل دخل ہے,ہم آگے بڑھ نہیں سکتے۔ٹھیک ہے ماضی قریب کے مسلمانوں کی غلطیاں ہمیں نقصان پہنچا رہی ہیں,لیکن بحیثیت قوم ہمیں سوچناہوگا کہ آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟کیا آنے والی نسلیں بھی یہی لفظ استعمال کر کے ہمیں ذمہ دار ٹھہراٸیں گی۔بجائے اس کے کہ آنے والی نسلیں ہمارا حال, جو ان کے لیے ماضی ہوگا اس سے سبق سیکھ کر آگے بڑھیں گی؟ہمیں غور و فکر کرنی ہوگی کہ ہم نے کیا کرنا ہے؟اس بات سے انکار نہیں کہ ماضی سے سبق نہ سیکھا جائے,بلکہ ماضی کو سامنے رکھ کر حال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ہمیں لفظ کاش کا استعمال کرنا ہوگا, لیکن اس کے بعد ہمیں آگے بڑھنے کی جستجو کرنی ہوگی۔صرف لفظ کاش کا استعمال کر کے ماضی کا ماتم کرنے کی بجائے ہمیں بہترین مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
کاش سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہم کاش کہنے پر مجبور ہوجائیں۔قرآن حکیم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب کسی کو بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا تو کہے گا کاش مجھے نہ ملا ہوتا۔مستقبل کے کاش سے بچنے کے لیے ہمیں ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ماضی کبھی لوٹ کر آتا نہیں۔ماضی میں کی گئی غلطیاں پشمانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ایسی کوشش کرنی چاہیے تاکہ لفظ کاش ہماری زندگی سے خارج ہوجائے,اگر خارج نہ ہو سکے تو کم از کم خطرناک نہ ہو۔یہ بھی درست ہے کہ بعض وقت انسان ایسی کیفیت یا حالت میں آ جاتا ہے کہ اس کو فیصلہ فوری طور پر کرنا پڑتا ہے یاسوچا سمجھا کیا گیافیصلہ, مستقبل میں پریشانی کھڑی کرسکتا ہے۔بعض باتیں تقدیر الہی کی تابع بھی ہوتی ہیں۔بہرحال ایسے کیے گئے فیصلے زیادہ پریشانی کاباعث نہیں بنتے جن میں خلوص نیت شامل ہو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ بیماری سے پہلے صحت کو غنیمت جانو,تنگدستی سے پہلے فراغی کو غنیمت جانو اور موت سے پہلے زندگی کو غنیمت جانو۔اگر ہماری زندگی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق ہو, تو یہ ناممکن ہے کہ ہمیں کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ جائے۔بالفرض اگر کسی پریشانی کا سامنا کرنا بھی پڑ جائے توبہت زیادہ خطرناک نہیں ہوگی۔ہمیں قائد اعظم کے اصولوں کے مطابق کام کام اور صرف کام کرنا ہوگا۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بہت سی قومیں کامیاب اس لیے ہوئیں کہ وہ مستقبل میں کاش کہنے کی بجائے وہ حال میں محنت اور کوشش کرتی رہی۔جاپان جیسے ترقی یافتہ ملک کی صورتحال ہمارے سامنے ہے,پون صدی پہلے اس کے دو شہروں پر امریکہ نے ایٹم بم گرایا تھا,جاپان بالکل ختم ہو چکا تھا لیکن جاپانی قوم نے مشکل وقت سے نکلنے کی کوششیں شروع کر دیں, اب کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں معاشی لحاظ سے جاپان درجنوں ممالک سے آگے نکل چکا ہے۔جاپانی قوم اگر اس بات کا رونا روتی کہ کاش امریکہ نے ایٹم بم نہ پھینکے ہوتے,تو یقینی طور پر رسوائی و ذلت جاپانی قوم کا مقدر ہوتی۔پاکستان بھی نہ قائم ہوتا,اگر ہمارے آباء و اجداد کوشش نہ کرتے,صرف یہی کہتے کہ ہمارے آباء و اجداد نے کاش کوشش کی ہوتی۔ہم ماضی میں رہ کرترقی نہیں کر سکتے بلکہ ہمیں آگے کی طرف دیکھنا ہوگا۔پاکستان کو اس بلندی تک لے جانا ہوگا کہ دوسری قومیں مستقبل میں کہیں کہ کاش ہم نے بھی پاکستانی عوام کی طرح ترقی کی ہوتی۔










