الیکشن 2024 اورسیاسی پارٹیاں

تحریر:اللہ نوازخان

سوال ہے کہ کیا8 فروری 2024 کوہونے والا الیکشن قوم کو مطمئن کر پائے گا یا نہیں؟الیکشن کمیشن وضاحت کر چکا ہے کہ الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے،بلکہ آٹھ فروری کو ہی ہوں گے۔کیٸ قسم کی افواہیں پھیلی ہوئی ہیں کہ الیکشن مقررہ تاریخ پر نہ ہو پائیں گے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ الیکشن میں کامیابی کس کےحصہ میں آتی ہے اور کامیاب ہونے والے قوم کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہوں گے؟نون لیگ کا بیانیہ عوام میں پھیل رہا ہے کہ وہ کامیاب ہو سکتے ہیں،لیکن اس قسم کا بیانیہ نون لیگ کے لیے تنقید کا سبب بن رہا ہے۔نون لیگ عوام کو کس طرح مطمئن کر پائے گی کہ وہ دوسروں کی نسبت بہتر ہیں۔نون لیگ کا مقابلہ اگر دوسری سیاسی پارٹیوں سے کیا جائے توباآسانی دوسری پارٹیوں کو شکست دے سکتی ہے۔پی ٹی آٸ اگرنون لیگ کے مد مقابل نہ ہوئی تونون لیگ آسانی سے فتح حاصل کر سکتی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی حد تک تو کامیاب ہو سکتی ہے لیکن وفاق تک کامیابی حاصل کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔پی ٹی آٸ مشکل اور کڑے وقت سے گزر رہی ہے،اس کی مشکلات کب ختم ہوں گی پہلے سے کچھ کہنا مشکل ہے۔پی ٹی آٸ چیئرمین پرکافی زیادہ ایف۔آٸ۔آرکٹی ہوئی ہیں،الیکشن کمیشن نے فوری طور پر انٹرا پارٹی الیکشن کا کہہ کرپی ٹی آٸی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔فوری طور پر جو پی ٹی آٸی میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے ہیں اور جس طرح چیئرمین کا عہدہ ایک ایڈوکیٹ کو دیا گیا ہے وہ ایڈوکیٹ پی ٹی آٸ میں مقبول نہیں ہیں،وہ بھی تنقید کی زد میں آرہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت اپنی جگہ پر ہے لیکن بڑے نام والے لیڈرزپارٹی کو چھوڑ چکے ہیں۔اس کے باوجودپی ٹی آٸ کی مقبولیت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔16 ماہ میں پی ڈی ایم نے بدترین کارکردگی دکھائی،جس کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں الیکشن کے میدان میں اترنے سے خوفزدہ ہیں۔مہنگائی کا اتنا طوفان آیا کہ عوام خودکشیاں کرنے پر اتر آٸ ہے۔سابقہ کارکردگی کی بنیاد پرعوام تمام سیاست دانوں سے متنفر ہو چکی ہے۔اس بات کے اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ سب سے زیادہ کون سی پارٹی عوام میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔سروے رپورٹس تقریبا تمام پارٹیوں کے لیے مایوس کن ہیں۔ان حالات میں پی ٹی ائی کو اگرالیکشن سے آٶٹ کیا گیا توعوامی رد عمل آسکتا ہے۔بہرحال پی ٹی آٸی کوشدید دھچکا بھی لگ سکتا ہے کیونکہ اس کا بھی کافی ووٹ بینک ٹوٹ چکا ہے۔اس بات کا امکان ہے کہ شاید نواز شریف کامیابی حاصل کر لیں،لیکن ایک بات تسلیم کرنا ہوگی کہ وہ عوام میں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔اب ان کا یہ دعوی ملک کو بہتری کی طرف لے جائیں گے،عوامی حلقوں میں خاص مقبولیت حاصل نہیں کر پا رہا جس کا ان کو خود بھی شاید احساس نہ ہو،لیکن حقیقت یہی ہے کہ قوم یقین نہیں کر پا رہی کہ ان کی مشکلات نون لیگ یا دوسری سیاسی پارٹیاں اتنی آسانی سے حل کر پائیٗس گی۔
جوں جوں الیکشن کی تاریخ قریب آرہی ہے سیاسی پارٹیاں بھی پریشر میں آرہی ہیں۔سیاسی پارٹیوں کا منشور توخوش کن نظرآتا ہے لیکن ماضی کی کارکردگی ان کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے یہ دعوے کہ ملک کو وہی بحرانوں سے نکال سکتے ہیں،کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ رہا۔قوم ان سے پوچھنا چاہے گی کہ اب اپ کے پاس کون سی جادوکی چھڑی آ گئی ہے کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟میاں صاحب کا یہ نعرہ کہ ووٹ کو عزت دو،اب ماضی کی گرد میں گم ہو چکا ہے۔یہی حالت پیپلز پارٹی کی ہے کہ لگائے گئے نعرے ماضی میں گم ہو چکے ہیں۔مولانا فضل الرحمان اور دوسری جماعتیں بھی پریشانی کا شکار ہیں۔مولانا صاحب کا شایدمخصوص مسلکی ووٹ باقی ہو لیکن حلقہ کی عوام ضرور ان کورگڑا لگائے گی۔توقع کرنی چاہیے کہ مقررہ تاریخ کو الیکشن ہو جائیں گے اور اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ انتخابات کی شفافیت متاثر نہ ہو۔شفاف الیکشن کے بعد آنے والی حکومت شاید عوام کو ریلیف پہنچا سکے۔نئی آنے والی حکومت کے لیے مسائل کے پہاڑہوں گے۔تقریبا تمام شعبہ جات متاثر ہو چکے ہیں۔ریلوے،پی ۔آٸی۔اے،زراعت،صحت وغیرہ جیسے شعبہ جات بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔معاشی حالت بھی بدترین ہے کیونکہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا اور بھاری سود کے ذریعے حاصل کیے گئے قرضے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ رہے ہیں۔ان حالات میں کوئی سیاسی پارٹی کس طرح عوام کو مطمئن کر سکتی ہے کہ ہم بہترین ہیں۔پیپلزپارٹی اور نون لیگ کئی سالوں سے حکومت کر چکی ہیں،ان کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔اب کون سا ان کے پاس کوئی نیا آٸیڈیاہوگا جس سے عوام کو مطمئن کر سکیں۔نون لیگ کے قاٸد نواز شریف تقریبا تمام کیسز سے بری ہو چکے ہیں اورآزادی سے اپنی الیکشن مہم چلانے کے قابل ہیں،لیکن شاید ان کو بھی اندازہ ہے کہ خراب عوامی رد عمل آ سکتا ہے۔
آنے والے انتخابات میں شاید آزاداورنیۓ امیدواروں کے لیے عوام میں کافی گنجائش ہو،کیونکہ عوام شایدیہ تجربہ کرنے پر تل جائے کہ سابقہ امیدواروں کی بجاۓ نئے امیدواروں کو موقع دیا جائے،تو اس سے مخلوط حکومت قائم ہو جائے گی۔ماضی گواہ ہے کہ مخلوط حکومت ہمیشہ پاکستانی عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔مکمل اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی شاید پاکستان کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔بہرحال ایک بات واضح نظر آرہی ہے کہ الیکشن مہم کے دوران سیاسی امیدواروں کوکڑے رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔اللہ کرے کہ بغیر کسی مسئلہ اورپریشانی کی الیکشن مکمل ہو جائیں۔کہیں کہیں یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ امیدواروں کوعوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یہ افسوسناک بات ہے کیونکہ اس سے انارکی پھیل جائے گی،لیکن اس کے ذمہ دار بھی سیاستدان ہوں گے کیونکہ عوام کو اتنا تنگ کر دیا گیا ہے کہ وہ لڑنے جھگڑنے پرآگئے ہیں۔اگر کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوا تو الیکشن تقریبا مقررہ تاریخ تک ہو ہی جائیں گے۔