کنونشن_سنٹرکااجتماع_کیسےہوا؟
(اجالا)
کالم نگار۔۔۔عبدالقدوس محمدی
کنونشن سنٹر کا تاریخی،شانداد اور فقید المثال قومی اجتماع دیکھ کر ہر کوئ حیران ہے…یہ کیسے ممکن ہوا؟….سب لوگ کیسے شریک ہوئے؟….ایسے انتظامات کیسے کئے گئے؟…. اتنا بڑا مجمع کیسے اکٹھا ہوا؟….اتنے اخراجات کا بندوبست کیسے ہو گیا؟….میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس پروگرام کی اتنی دھوم کیسے مچی؟….یہ آئیڈیا کہاں سے آیا؟—- اس پر عملدرآمد کیسے ہوا؟….این او سی کیسے لیا گیا؟….کنونشن سنٹر میں بکنگ کیسے ہوئی؟۔۔۔ایک ایک دن میں کئ کئ پروگرام کیسے ہوتے رہے۔۔۔۔۔مختلف علاقوں کے علماء کرام کو کیسے جمع کیا جاتا رہا؟….تاجروں،وکلاء،صحافیوں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں تک دعوت کیسے پہنچائ گئ؟…. پروگرام کے عملی انتظامات کیسے ہوئے؟۔۔۔۔سیکیورٹی کا کیا بندوبست تھا؟….استقبالیہ کمیٹیوں میں کون تھا؟۔۔۔۔خصوصی مہمانوں کے پروٹوکول کا کیا انتظام تھا؟….میڈیا منیجمنٹ کس کے پاس تھی؟… پروگرام کوآرڈینیشن کیسے ہوئ؟….ہال کو اسکرینوں،پاکستان اور فلسطین کے پرچموں سے کیسے سجایا گیا؟….بڑی بڑی اسکرینیں کیسے نصب ہوئیں؟…..تمام اہم شخصیات اور طبقات کو کیسے نمائندگی دی گئ۔۔۔۔ٹائم منیجمنٹ کیسے ممکن ہوئ؟…ہیں ناں سوالات۔۔۔۔ڈھیر سارے خدشات۔۔۔ہمیں بھی تھے۔۔۔بلکہ نیند اڑ گئی تھی۔۔۔۔ایسا اضطراب۔۔۔ایسا احساس ذمہ داری اور اتنی فکر مندی کبھی نہیں ہوئ تھی جتنی اس پروگرام کے لیے ہوئ لیکن اللہ پاک نے کرم فرمایا اور الحمدللہ سب کچھ ہوگیا۔۔۔۔بہت اچھی طرح ہو گیا۔۔۔اور کمال ہوگیا ۔۔۔یہ سب محض اللہ کریم کا کرم۔۔۔۔شہداء کے لہو کی برکت اور اس پروگرام کے انعقاد کا اہتمام کرنے والوں کے اخلاص اور حسن نیت کا ثمر تھا۔۔۔الحمدللہ
یہ پروگرام تمام مکاتب فکر کی طرف سے متفقہ اور مشترکہ بیانیہ اور موقف کے اظہار کا ذریعہ تھا اس لیے اس کے انعقاد کے لیے مجلس اتحاد امت کا متفقہ اور مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا جس کا فیصلہ مولانا عبدالکریم صاحب کے ادارے جامعہ قاسمیہ اسلام آباد میں تمام مکاتب فکر کے نمائندوں کی مشترکہ میٹنگ میں ہوا-
اس پروگرام کے لیے جن جن لوگوں نے حصہ لیا ان کا تذکرہ ان شاءاللہ وقفے وقفے سے ہوتا رہے گا تاکہ اندازہ ہو کہ ایسی کرامتیں کیسیے رونما ہوتی ہیں اور ایسے تاریخی اور یادگار پروگرام کیسے انعقاد پذیر ہوتے ہیں؟۔۔۔اس پروگرام کی کامیابی کے لیے سب سے کلیدی کردار ہردلعزیز رہنما اور ڈھیروں خصوصیات وکمالات کی حامل شخصیت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا تھا( حضرت دامت برکاتہم العالیہ کے بارے میں مستقل تحریر لکھنی ہے۔ان شاء اللہ)۔۔۔۔عملی طور پر دعوت اور بھاگ دوڑ کی توفیق برادرگرامی مولانا مفتی ابومحمد صاحب اور اس عاجز کے حصے میں آئ۔۔۔۔مالی تعاون اور میزبانی کا اعزاز میاں منظور احمد صاحب جیسے تاجر دوستوں کا نصیب ہوا۔اللہ رب العزت امت کے اتحاد اور اجتماعی دینی امور میں تعاون کرنے والے خوش نصیب لوگوں کے رزق میں مزید برکتیں عطا فرمائیں اور ان کو مزید خیر کے کاموں کی توفیق عطا فرمائیں
۔۔۔۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما سینیٹر علامہ ساجد میر صاحب اور نائب امیر شیخ علی محمد ابوتراب صاحب شروع سے آخر تک بنفس نفیس تمام امور کی نگرانی فرماتے رہے۔۔۔جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمن صاحب بنفس نفیس اور مولانا عبدالغفار حیدری صاحب پروگرام کی کامیابی کے لیے مسلسل فکرمند رہے بلکہ مولانا فضل الرحمان صاحب نے پروگرام سے ایک روز قبل اپنی رہائش گاہ پر تمام مکاتب فکر کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔۔۔اکابر نے باہمی مشاورت سے کانفرنس کا اعلامیہ تیار کیا۔۔۔انتظامات کا جائزہ لیا۔۔۔۔پروگرام کے انتظامی امور میں کلیدی کردار برادرم مستعصم عباسی صاحب نے ادا کیا۔۔۔۔تمام مکاتب فکر کے سرکردہ حضرات کی آٹھ رکنی کمیٹی جس میں جمعیت اہلحدیث کے مولانا سید عتیق الرحمن شاہ صاحب امیر جمعیت اہلحدیث آزاد کشمیر،مولانا حافظ مقصود احمد صاحب امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث اسلام آباد اور چودھری محمد یوسف صاحب،بریلوی مکتب فکر کے علامہ خطیب مصطفائ صاحب، مولانا محمد اسلم ضیائ صاحب اور دیوبندی مکتب فکر سے مفتی ابومحمد صاحب اور راقم الحروف شامل تھے۔۔۔مولانا قاضی عبدالرشیدصاحب نے اپنی روایات کے مطابق سب لوگوں کو فکر مند اور متحرک کیا۔۔۔۔اسلام آباد راولپنڈی کے ممتاز علماء کرام بالخصوص حضرت مولانا نذیر فاروقی صاحب،مولاناظہور احمد علوی صاحب،مولانا عبدالغفار صاحب،مولانا عبدالکریم صاحب،مولانا مفتی عبدالسلام صاحب اور دیگر حضرات نے،دینی مدارس کے ذمہ داران اور مختلف دینی سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے خوب محنت کی۔۔۔۔ اہلسنت والجماعت کے حافظ نصیر احمد صاحب،ایم ایس او کے برادرم مولانا شہزاد عباسی صاحب اور ان کے رفقاء نے سیکورٹی اور دیگر امور کو دیکھا،ایم ایس او کے مسلم اسکاؤٹس،مختلف مدارس کے رضاکاروں اور اہلسنت والجماعت کے کارکنان نے دن بھر خوب مجاہدے کے ساتھ اپنی اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں اور انصار الاسلام کے چاک و چوبند رضاکاروں کے ایک دستے نے ان کی معاونت کی۔۔۔جمعیت علماء اسلام کےدور اندیش رہنماء مولانا مفتی ابرار صاحب نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کیا جبکہ مولانا عبدالمجید ہزاروی صاحب اور مفتی عبداللہ صاحب بھی سرگرم عمل رہے۔۔۔میڈیاکے محاذ پر مولانا عبدالروف محمدی سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل،حافظ عمار یاسر،برادرم ارسلان سیال،عزیزم عامر احمد عثمانی( جو خصوصی طور پر کراچی سے تشریف لائے تھےاور مفتی تنویر احمد اعوان صاحب مختلف پہلوؤں سے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے۔۔۔اجتماع میں چلنے والی ڈاکو منٹری کا اسکرپٹ مولانا ضیاء چترالی صاحب نے قلمبند کیا اور اسے بنانے کی سعادت سیف الرحمن بھائ کو نصیب ہوئ-اسلام آباد راولپنڈی کے تمام ممتاز دینی اداروں کے زمہ داران اور اساتذہ و طلبہ نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس کار خیر میں حصہ ڈالا اور اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے یہ شاندار پروگرام انعقاد پذیر ہوا-
اللہ ربّ العزت اس کے اثرات و نتائج سے پوری امتِ مسلمہ کو مستفید فرمائیں اور ہمارے لیے اسے ذریعہ نجات بنا دیں
آمین










