احمد پور سیال میں ہونے والی لاقانونیت امیر عباس خان مولانا آصف معاویہ کا کردار اور اس کا حل
تحریر علی امجد چوہدری

دو تین سال قبل مہر ظفر پتھورانہ تھانہ احمد پور سیال کے ایس ایچ او تھے انہیں دنوں رحیم یار خان میں اے ٹی ایم توڑنے کا واقعہ ہوا اور پھر اس کے زمہ دار شاید صلاح الدین نام تھا کی پولیس ٹارچر سے موت ہوگئی طوفان کھڑا ہو گیا پولیس کے خلاف نتیجے جے طور پر آئی جی کو احکامات جاری کرنے پڑے کہ تھانہ میں کوئی تشدد نہ ہو کسی کو بغیر ایف ار کے گرفتار نہ کیا جائے ناکے ختم کیئے جائیں انہیں دنوں تھانے کی حوالات خالی ہوگئی مجرم دندانے لگے مہر ظفر پتھورانہ میرے بڑے بھائیوں کی طرح ہیں انھیں میں نے اپنے طور مشورہ دیا کہ آپ یہ سب کام نہ چھوڑیں مگر وہ محکمانہ احکامات کے پابند تھے پھر وارداتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور یہ مہر ظفر تھانہ سے لائن میں لے گیا میں نے اس وقت ایک آرٹیکل لکھا کہ جب آپ پولیس میں غیر ضروری مداخلت کرکے اسے غیر روایتی ٹریک پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر مجرم بے خوف ہو جاتے ہیں
کچھ معاملہ اب بھی ایسے ہی پے نگران حکومت کے دور میں پولیس پر دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھا ہے تین درجن کے قریب ایس ایچ اوز زاتی دوست ہیں اور تقریبا تمام ہی اس حوالے سے شاکی دکھائی دیتے ہیں آج شہر کی اجتماعی بہتری کے لیئے ایک تجویز ہے اور یہ تجویز امیر عباس خان مولانا آصف معاویہ نواب بابر سمیت ان تمام سیاستدانوں کے لیئے ہے جنہیں انتظامی مشینری بھرپور سپورٹ کر رہی کہ خدارا چند دنوں کے لیئے تھانے سے لاتعلق ہو جائیں اور انسپکٹر چوہدری عمران شفیع گجر پر غیر ضروری دباؤ کم کردیں یہ مجرموں کو ادھیڑ کر رکھ دیں گے کیونکہ یہی گواہی لینی ہے تو سیالکوٹ گجرات منڈی بہاوالدین سے لے لیں جہاں چوہدری عمران شفیع کی دھاک رہی ہے یہ اس لیئے نہیں کہہ رہا کہ خدانخواستہ یہ شخصیات مجرموں کی پشت پناہی کرتی ہیں بلکہ اس لیئے کہہ رہا ہوں کہ مجرم اس اندیشے سے بھی باز آ جائیں گے کہ کوئی انہیں بچانے بھی نہیں آئے گا
علی امجد چوہدری