خون دینے اور نہ دینے کے متعلق مفید معلومات
تحریر ڈاکٹر اقبال ندیم ملانہ گولڈ میڈلسٹ

خون دینے کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟
خون دینے کا نقصان کوئی نہیں البتہ
بلکہ بڑا فائدہ ہے کہ ریگولر خون دینے والے
فرد کو دل کے دورے اور کینسر کے چانسس
باقی افراد کے مقابلے میں 95% کم ہوتے ہیں۔یہ ریسرچ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ہے
کسی کو خون کا عطیہ دینے کے بعد کتنے دنوں میں خون بن جاتا ہے؟
خون عطیہ کرنے کے تین دن میں کمی پوری ہو جاتی ہے جبکہ 56 دنوں میں خون کے مکمل خلیات بن کر تازہ خون رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔پرانا خون ذیادہ طاقتور ہوتا ہے یا نیا بننے والا؟نیا بننے والا خون پرانے کے بنسبت
ذیادہ فریش اور طاقتور ہوتا ہے۔
خون دینے کے فوائد کیا ہیں؟
جواب: خون دینے کا سب سے بڑا فائدہ
ایک صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالنا ہے جو
قیامت تک نسل درنسل آپ کیلئے ثواب کا موجب ہے۔
اس کا دوسرا بڑا فائدہ خون میں آئرن کو مقدار بیلنس رکھنا اور سب سے سے بڑا فائدہ صحت مند اور فریش زندگی گزارنا ہے۔۔۔
ریگولر خون دینے والے کی جلد دوسروں کی بنسبت ذیادہ عرصے تک جوان اور صحتمند رہتی ہے۔
اس کا ایک فائدہ مفت میں خون کی اسکرینگ بھی ہے۔ خون سال میں کتنی بار دیا جا سکتا
ہے؟ایک صحت مند انسان جس کی عمر
17 سے 50 کے درمیان ہو اور وزن 50 کلو سے
ذیادہ ہوسال میں کم ازکم
دو بار آسانی سے خون دے سکتا ہے جبکہ ایک بار خون دینے کے تین ماہ بعد عطیہ دے سکتا ہے. پاکستان میں کتنے فیصد
لوگ خون دیتے ہیں؟ پاکستان میں صرف ایک سے دو فیصد لوگ ریگولر خون دیتے ہیں۔۔
چند افراد ایمرجنسی میں بھی خون دیتے ہیں۔
خون کی زندگی کتنی ہے؟
جواب: خون کی زندگی 120 دن ہے۔
یعنی ایک سو بیس دن میں ہماری خون کے خلیہ مردہ ہو کر پیشاب کے رستے نکل جاتے
ہیں اور نئے وجود میں آ جاتے ہیں۔
پھر ہم خون دینے سے گھبراتے کیوں ہیں؟
جواب: ہم ایک ایسی سوسائٹی میں سانس لے رہے ہیں جہاں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ
خون دینے سے انسان کمزور ہو جاتا ہے اور خون دوبارہ نہیں بنتا۔
لہذا ہمارے مریض تڑپتے سسکتے بستروں پر خون کی کمی کی وجہ سے جان دے دیتے ہیں۔
خون دینے کا عالمی دن کب منایا جاتا
ہے؟چودہ جون.
ڈاکٹرمحمداقبال ندیم ملانہ(گولڈمیڈلسٹ)










