حقیقی سیاسی کارکن

تحریر علی امجد چوہدری

تحریک انصاف جن حالات سے اس وقت گزر رہی ہے اتنے نہ سہی مگر اس سے کچھ کم مشکل حالات کا سامنا مسلم لیگ ن نے بھی کیا تھا اس وقت ایسا لگتا تھا کہ مسلم لیگ ن کا شاید ہی کوئی کارکن بچے مگر اس وقت بھی یہ شخصیات حیران کن طور پر مسلم لیگ ن سے وابستہ رہیں ان میں ایک افتخار خان بلوچ متوسط طبقے سے تعلق وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود مسلم لیگ ن کی مرکزی جنرل کونسل تک پہنچے یہ فیصل آباد ڈویژن کے ٹکٹ ہولڈرز کی میٹنگ ماڈل ٹاؤن میں بھی موجود تھے جس کی صدارت میاں نواز شریف کر رہے تھے بلاشبہ یہ ان کی غیر معمولی achievement تھی دوسری شخصیت مسلم لیگ ن کے سابق تحصیل صدر مہر ذوالفقار ہرل ہیں یہ کنگ سے زیادہ کنگ میکر بننے کو ترجیح دیتے ہیں مسلم لیگ ن کے اچھے وقت میں جماعت سے قدرے فاصلہ اور برے وقت میں جماعت کے ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے ہیں بہادر اتنے کہ ایک بار ان کے ساتھ لاہور گیا ان دنوں ن لیگ زیر عتاب تھی یہ عابد چوہدری سے ملنے ن لیگ کے گڑھ گئے تو اس وقت ان کے گاڑی کے پیچھے لگے میاں نواز شریف کے فلیکس کو دیکھ ہر عابد چوہدری بھی حیران رہ گئے تیسری شخصیت ارباب شوکت عباس سے بھی سب کی شناسائی ہوگی انہوں نے مسلم لیگ ن سوشل میڈیا کی اپروچ کے حوالے سے اتنا کام کیا کہ انجینئر بلیغ الرحمن گورنر پنجاب بھی انہیں بلانے پر مجبور ہوگئے پارٹیز پر اچھے برے وقت آتے رہتے ہیں مگر ان جیسے پختہ سیاسی کارکن آخر کار انہیں مشکل وقت سے نکال لاتے ہیں کیونکہ یہی تو پارٹییز اور جمہوریت کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں
علی امجد چوہدری