اج 22 جمادی الثانی خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یوم وفات عقیدت و احترام سے منایا جائیگا

جھنگ (سٹارنیوز) خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابوبکر صدیؓق کا یوم وفات انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاۓ گا۔

پیغمبر اسلام ﷺ کے پہلے خلیفہ راشد اور عشرہ مبشرہ میں شامل حضرت ابوبکر صدیؓق انبیاء اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے افضل قرار پائے۔ ہجرت مدینہ کے وقت نبی کریمﷺ کے رفیق سفر بھی تھے، ابوبکؓر کے ساتھ صدیق کا لقب بھی لگایاجاتا ہے جسے ابو بکر صدیؓق کی تصدیق و تائید پر نبی کریم ﷺ نے عطا فرمایا۔

آ پؓ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے، غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہے، نبی کریم ﷺ نے دنیا سے رخصت کے وقت آپؓ کو مسجد نبویﷺ میں نماز کی امامت کا حکم دیا، آپؓ نے اسلام اور اس کے بعض فرائض سے انکار کرنے والے عرب قبائل سے جنگ کی، عراق و شام کو فتح کرنے کے لیے لشکر روانہ کیا۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں عراق کا بیشتر حصہ اور شام کا بڑا علاقہ فتح ہوچکا تھا۔

آپؓ 22 جمادی الثانی سنہ 13 ہجری کو 63 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔ اج 22 جمادی الثانی5 جنوری جمعۃ المبارک کو ملک بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا۔ مختلف دینی جماعتیں اور تنظیمیں جلسے، جلوس سیمینار اور دیگر تقریبات منعقد کریں گے۔

رپورٹ محمد عمر فاروق

*وہ بابرکت خانوادہ جس کی مسلسل چار پشتیں صحابی ہیں !*

تحریر : نثار مصباحی
رکن : روشن مستقبل

سيدنا ابو بكر صديقِ اَكبر، رضی اللہ تعالی عنہ اکیلے ایسے صحابی ہیں جن کے نسب و نسل میں مسلسل چار پشتیں “صحابی” ہیں۔
ان چاروں حضرات کے نام ایک ساتھ اس طرح ہیں:
“محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق بن أبی قحافہ عثمان” (رضی اللہ تعالی عنہم)

اس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کہ :
۱- سیدنا صدیقِ اکبر کے والد گرامی : سیدنا ابو قُحافَہ عثمان رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔
۲- سیدنا ابو بکر خود صحابی، بلکہ علی الاِطلاق “أفضل الصحابۃ”، اور انبیاء و مرسلین(رُسُلِ بشر و رُسُلِ ملائکہ) کے بعد مطلقاً تمام انس و جن اور فرشتوں سے “اَفضَل” ہیں۔
۳- سیدنا ابو بکر کے بیٹے سیدنا “عبد الرحمن” بھی صحابی ہیں۔
اور
۴- سیدنا عبد الرحمن بن أبی بکر کے بیٹے سیدنا “محمد بن عبدالرحمن” بھی صحابی ہیں۔
یعنی حضرت ابو بکر صدیق کے والد صحابی، وہ خود صحابی، ان کے بیٹے صحابی، اور ان کے ایک پوتے بھی صحابی ہین۔ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین۔

⬅️ امام حافظ ابن حِبان (متوفی 354ھ) “کتاب الثقات” میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
“هَؤُلَاء الْأَرْبَعَة فِي نسق وَاحِد لَهُم من النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَة : أَبُو قُحَافَة، وَابْنه أَبُو بكر، وَابْنه عَبْد الرَّحْمَن بْن أبي بكر، وَابْنه أَبُو عَتيق مُحَمَّد بْن عَبْد الرَّحْمَن۔ وَلَيْسَ هَذَا لأحد من هَذِه الْأمة غَيرهم” (کتاب الثقات، ابن حِبّان)
ترجمہ :
ایک ہی ترتیب میں یہ چار حضرات ایسے ہیں جنھیں دیدارِ رسول(صحابیت) کا شرف ملا ہے :
۱-ابو قُحافَہ، ۲-ان کے بیٹے ابو بکر، ۳-ان کے بیٹے عبد الرحمن بن ابی بکر، اور پھر ۴-ان کے بیٹے ابوعتیق محمد بن عبد الرحمن۔
یہ شرف اس امت میں ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ (کتاب الثقات)

⬅️ امام ابن عبد البر القرطبي رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 463ھ) تذکارِ صحابہ کی اپنی معروف کتاب “الاستیعاب” میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر کے تعارف میں لکھتے ہیں:
“أدرك النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه وجده وأبو جده أَبُو قحافة أربعتهم، وليست هَذِهِ المنقبة لغيرهم، ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: مَا نَعْلَمُ أَحَدًا فِي الإِسْلامِ أَدْرَكُوا هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ إِلا هَؤُلاءِ الأَرْبَعَةُ: أَبُو قحافة، وابنه أبو بكر، وابنه عبد الرحمن بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُهُ أَبُو عَتِيقِ بْنُ عبد الرحمن بن أبي بكر بن أبي قُحَافَةَ. قال عَبْد الرَّحْمَنِ بْن شيبة: واسم أبى عتيق محمد.”
ترجمہ :
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پانے کا شرف ملا ہے انھیں، ان کے والد، ان کے دادا، اور ان کے دادا(ابوبکر) کے والد ابوقُحافہ، اِن چاروں کو۔ یہ فضیلت ان حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ یہ امام بخاری نے ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں: مجھ سے عبد الرحمن بن شیبہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن قاسم سے روایت کرتے ہیں کہ موسی بن عقبہ(امامِ مغازی) نے کہا : اسلام میں ہمیں کسی اور کے بارے میں یہ علم نہیں کہ انھوں نے اور ان کی اولادوں نے (مسلسل) چار لوگوں تک صحابیت کا شرف پایا ہو سواے اِن چار حضرات کے :
ابو قُحافہ، ان کے بیٹے ابو بکر، ان کے بیٹے عبد الرحمن بن أبی بکر، اور ان کے بیٹے ابو عتیق بن عبد الرحمن بن أبی بکر بن ابی قُحافَہ۔
عبد الرحمن بن شیبہ کہتے ہیں کہ ابو عتیق کا نام محمد ہے۔ (الاستیعاب)

⬅️ امام ابو نُعَیم اصفہانی (متوفی 430ھ) اپنی کتاب “معرفۃ الصحابہ” میں لکھتے ہیں:
وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ: ” لَا نَعْلَمُ أَرْبَعَةً أَدْرَكُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةَ: أَبُو قُحَافَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَأَبُو عَتِيقِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَاسْمُ أَبِي عَتِيقٍ مُحَمَّدٌ ”
(نوٹ : اس عبارت کا بھی تقریبا وہی مفہوم ہے جو الاستیعاب والی عبارت کا ہے، اس لیے ترجمے کی ضرورت نہیں)

⬅️ امام ابن اثیر جزری “اُسْدُ الغابہ” میں لکھتے ہیں:
مُحَمَّد بْن عبد الرحمن بْن أَبِي بكر الصديق -واسمه عَبْد اللہ بْن عثمان- وهو المعروف بأبي عتيق القرشي التيمي، أدرك رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وأبوه: عبد الرحمن، وجده أَبُو بكر الصديق، وجد أبيه أَبُو قحافة لكلهم صحبة، وليست هَذِه المنقبة لغيرهم۔
ترجمہ :
محمد بن عبد الرحمن بن أبی بکر صدیق، قرشی تیمی۔ ابو بکر صدیق کا نام “عبد اللہ بن عثمان” ہے۔
یہ (یعنی محمد بن عبدالرحمن) “ابو عتیق”(کنیت) کے ساتھ مشہور ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ یہ خود، ان کے والد عبد الرحمن، ان کے دادا ابو بکر صدیق، اور ان کے والد کے دادا ابو قُحافَہ، یہ سب کے سب صحابی ہیں۔ یہ فضیلت اِن حضرات کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ)

خلاصۂ کلام یہ کہ مسلسل چار پشتوں کا مرتبۂ صحابیت پر فائز ہونا ایک ایسا وصفِ کمال ہے جو صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا خاصہ ہے۔ ان کے سوا کسی اور کو یہ فضیلت حاصل نہیں۔ (ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.)

((نوٹ : واضح رہے کہ محمد بن عبد الرحمن کی کنیت “ابو عتیق” ہے۔ یہ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے ہیں۔ یعنی عبد الرحمن بن ابی بکر کے بیٹے ہیں۔ جب کہ “محمد بن ابی بکر” بلاواسطہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے ہیں، جو سفرِ حجۃ الوداع کے موقعے پر ۲۵ ذی قعدہ ۱۰ھ کو ذوالحلیفہ کے پاس پیدا ہوئے۔ ان کا نام بھی “محمد” ہے، اس لیے بعض لوگوں کو دونوں میں اشتباہ ہو سکتا ہے۔))

بعض لوگوں نے خانوادۂ صدیقِ اکبر کی چار پشتوں کی صحابیت اِس طرح بھی بیان کی ہے:
۱- حضرت ابو بکر کے والد حضرت ابو قُحافَہ،
۲- حضرت ابو بکر صدیقِ اکبر،
۳- حضرت اَسما بنت ابو بکر
۴- حضرت اسما کے بیٹے اور صدیقِ اکبر کے نواسے : سیدنا عبد اللہ بن زُبیر رضی اللہ تعالی عنہما۔
یقینا یہ بیان بھی ایک حقیقت ہے اور یہ بھی خانوادۂ صدیقِ اکبر کی ایک خاصیت ہے۔ بلکہ یہ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک اہم خصوصیت ہے کہ جہاں ایک طرف آپ کے والد صحابی ہیں وہیں دوسری طرف آپ کے بیٹے اور پوتے کے صحابی ہونے کے ساتھ آپ کی بیٹی اور آپ کے نواسے بھی صحابیت کے درجے پر سرفراز ہیں۔ یعنی دو جہتوں سے اس خانوادے کی چار پشتیں شرفِ صحابیت رکھتی ہیں۔
یقینا یہ “آلِ ابو بکر” پر ربِ عظیم کا خاص فضل ہے۔

#نثارمصباحی (خلیل آباد)
۲۲ جمادی الآخرۃ ۱۴۴۲ھ

*مشہور صحابہ اکرامؓ کا محتصر تعارف:*

*( 1 ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:*

نام : عبداللہ
کنیت : ابو بکر
لقب : صدیق و عتیق
ولادت : 50 قبل ھجری
والد : عثمان
والدہ : سلمی
پیشہ : تجارت و سیاست
وفات : سن 13 ھجری
مرویات : 142

*( 2 ) حضرت عمر رضی الله عنہ:*

نام : عمر
کنیت : ابو عبداللہ
لقب : فاروق
ولادت : 40 قبل ھجری
والد : خطاب بن نفیل
والدہ : ختمہ بنت ہشام
پیشہ : جہاد و سیاست
وفات : 23 ھجری
مرویات : 537

*( 3 ) حضرت عثمان رضی الله عنہ:*

نام : عثمان
کنیت : ابو عمرو و ابو عبداللہ
لقب : ذوالنورین
ولادت : 47 قبل ھجری
والد : عفان
والدہ : اروی
پیشہ : تجارت
وفات : 35 ھجری
مرویات : 146

*( 4) حضرت علی رضی الله عنہ:*

نام : علی رضی الله عنہ
کنیت : ابوالحسن و ابواتراب
لقب : اسداللہ و مرتضی
ولادت : 23 قبل نبوت
والد : عمران , یعنی ابو طالب
والدہ : فاطمہ
پیشہ : جہاد
وفات : 40 ھجری
مرویات : 536

*( 5 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ:*

نام : عبداللہ
کنیت : ابو عبدالرحمان
لقب : خادم رسول
ولادت : 31 قبل ھجری
والد : مسعود
والدہ : ام عبد
پیشہ : درس تدریس
وفات : 32 ھجری
مرویات : 848

*( 6 )حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ:*

نام : عبداللہ
کنیت : ابوالعباس
لقب : حبرالامہ و ترجمان القرآن
ولادت : 3 قبل ھجری
والد : عباس
والدہ : ام الفضل
پیشہ : درس و تدریس
وفات : 67 یا 68 ھجری
مرویات : 1660

*( 7 ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ:*

نام : عبداللہ
کنیت : ابو عبدالرحمن
لقب : فقیہ امت
ولادت : 11 قبل ھجری
والد : عمر فاروق
والدہ : زینب بنت مظعون
پیشہ : تدریس و خطابت
وفات : 73 یا 74 ھجری
مرویات : 2630

*( 8 ) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ:*

نام : عبداللہ
کنیت : ابو محمد و ابو عبدالرحمان
لقب : کاتب حدیث و فاضل حدیث
ولادت : 7 قبل ھجری
والد : عمرو بن عاص
والدہ : ریطہ بنت منبہ
پیشہ : دعوت و تبلیغ
وفات : 63 یا 65 ھجری
مرویات : 760

*( 9 ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ:*

نام : جابر
کنیت : ابو عبداللہ
لقب : صاحب الشجرہ
ولادت : 19 یا 20 قبل ھجری
والد : عبداللہ بن عمرو
پیشہ : درس و تدریس
وفات : 74 ھجری
مرویات : 1540

*( 10 ) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ:*

نام : انس
کنیت : ابو حمزہ و ابو ثمامہ
لقب : خادم رسول
والد : عاءل بن نضر
والدہ : ام سلیم
پیشہ : فتوی نویسی
وفات : 93 ھجری
مرویات : 2286

*( 11 ) حضرت ابو ھریرہ رضی الله عنہ:*

نام : عبدالرحمان
کنیت : ابو ھریرہ
لقب : فقیہ امت و حافظ حدیث
ولادت : 19 قبل ھجری
وفات : 59 ھجری
والد : عامر بن عبدوی
پیشہ : اشاعت حدیث
مرویات : 5374

*( 12 ) ابو سعید خدری رضی الله عنہ:*

نام : سعد
کنیت : ابو سعید خدری
لقب : صاحب الشجرہ
ولادت : 12 قبل ھجری
والد : مالک بن سنان
والدہ : انیسہ بنت ابو حارثہ
پیشہ : درس و تدریس
وفات : 74 ھجری
مرویات : 1170

*( 13 ) حضرت عائشہ رضی الله عنہا:*

نام : عائشہ
کنیت : ام عبداللہ
لقب : صدیقہ
ولادت : 9 قبل ھجری
والد : ابو بکر صديق
والدہ : ام رومان بنت عامر
پیشہ : دعوت و تبلیغ
وفات : 58 ھجری
مرویات : 2210

*( 14 ) حضرت ابو امامہ باھلی رضی الله عنہ:*

نام : صدی
کنیت : ابو امامہ
لقب : صاحب الشجرہ
ولادت : 21 قبل ھجری
والد : عجلان بن وھب
پیشہ : جہاد
وفات : 86 ھجری
مرویات : 250

*( 15 ) حضرت ابو موسی اشعری رضی الله عنہ:*

نام : عبداللہ
کنیت : ابو موسی
لقب : حافظ حدیث
والد : قیس بن مسلیم
والدہ : ظبیہ بنت وھب
پیشہ : تجارت و جہاد
وفات : 44 ھجری
مرویات : 360

*( 16 ) حضرت سعد بن ابو وقاص رضی الله عنہ:*

نام : سعد
کنیت : ابو اسحاق
لقب : فاتح عراق
ولادت : 25 قبل ھجری
والد : ابو وقاص
والدہ : حمنہ بنت سفیان
پیشہ: جہاد
وفات : 55 ھجری
مرویات : 271

*( 17 ) حضرت عقبہ بن عامر رضی الله عنہ:*

نام : عقبہ
کنیت : ابو حماد
لقب : شاعر اسلام
والد : عامر جھنی
پیشہ : خطابت و شاعری
وفات : 58 ھجری
مرویات : 55

*( 18 ) حضرت میمونہ بنت حارث رضی الله عنہ:*

نام : میمونہ
کنیت : ام عبداللہ
لقب : ام المومنین
ولادت : 23 یا 29 قبل ھجری
والد : حارث بن حزن
والدہ : ھندہ بنت حزف
پیشہ : دعوت و تبلیغ
وفات : 51 ھجری
مرویات : 10

*( 19 ) حضرت ابو قتادہ انصاری رضی الله عنہ:*

نام : حارث
کنیت : ابو قتادہ
لقب : فارس رسول الله
ولادت : 16 قبل ھجری
والد : ربعی بن سلامہ
والدہ : کبشہ بنت مظہر
پیشہ : جہاد
وفات : 54 ھجری
مرویات : 170

*( 20 ) حضرت حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ:*

نام : حذیفہ
کنیت : ابو عبداللہ
لقب : صاحب سر رسول الله
والد : حسیل یعنی یمان
والدہ : رباب بنت کعب
پیشہ : درس و تدریس
وفات : 36 ھجری
مرویات : 223

*( 21 ) حضرت سہل بن سعد رضی الله عنہ:*

نام : سہل
کنیت : ابو عباس
لقب : ساعدی
ولادت : 6 قبل ھجری تقریبا
والد : سعد بن مالک
پیشہ : درس و تدریس
وفات : 100 ھجری
مرویات : 10 تقریبا

*( 22 ) حضرت عبادہ بن صامت رضی الله عنہ:*

نام : عبادہ
کنیت : ابوالولید
لقب : قاری القرآن
ولادت : 39 قبل ھجری
والد : صامت انصاری
والدہ : قرةالعین بنت عبادہ
پیشہ : دعوت و کتابت
وفات : 34 ھجری
مرویات : 181

*( 23 ) حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ:*

کنیت : ابو سلیمان
لقب : بصری
ولادت : 8 قبل ھجری
والد : جندب بن ھلال
پیشہ : جہاد
وفات : 54 یا 58 ھجری
مرویات : 130

*( 24 ) حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ:*

نام : عباس
کنیت : ابو الفضل
لقب : ساقی حرمین
ولادت : 56 قبل ھجری
والد : عبدالمطلب
والدہ : نتیلہ بنت جناب
پیشہ : دعوت و تبلیغ
وفات : 32 ھجری
مرویات : 35

*( 25 ) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ:*

نام : زید
کنیت : ابو خارجہ
لقب : مفتی مدینہ
ولادت : 12 قبل ھجری
والد : ثابت بن ضحاک
والدہ : نوار بنت مالک
پیشہ : قضاء و فیصلہ
وفات : 45 ھجری
مرویات : 92

*( 26 ) حضرت معاذ بن جبل رضی الله عنہ:*

نام : معاذ
کنیت : ابو عبدالرحمان
لقب : امام الفقہاء
ولادت : 18 قبل ھجری
والد : جبل بن عمرو
والدہ : ھندہ بنت سہل
پیشہ : سیاست و یدرس و تدریس
وفات : 17 یا 18 ھجری
مرویات : 157*مشہور صحابہ
#GK202