عوام اور مسائل

تحریر سید شبیر حسین شاہ

ایک طوطی اور طوطے کی
نئی نئی شادی ہوئی طوطا طوطی کا بڑا خیال رکھتا تھا ایک دن طوطا کہنے لگا آؤ سیر کو چلتے ہیں ایک دوسرے سے پیار کی باتیں کرتے کرتے دونوں ایک ایسے علاقے میں چلے گئے جہاں سر سبز وباغات ڈھیروں قسم قسم کےپھل موجود تھے مگر کھانے والا کوئی نظر نہیں آرہا تھا دونوں ایک شاخ پر بیٹھے باتیں بھی کر رہے تھے اور باغات پھل سر سبزوشاداب سنسان علاقے کو دیکھ کر حیران بھی ہو رہے تھے طوطی پوچھتی ہے کہ یہاں سب کچھ وافر مقدار میں موجود ہے اور کھانے والا کوئی نہیں اس کی کیا وجہ ہے طوطے نے بغیر دیکھے بغیر سوچے سمجھے کہا کہ اس چمن کو الوؤں نے اجاڑ دیا تھوڑے ہی فاصلے پر ایک الو بیٹھا سن رہا تھا طوطی نے طوطے کو عشارہ کیا کہ الو بیٹھا ہوا ہے اور اس نے آپ کی بات بھی سن لی ہے اتنے میں الو بولا لگتا ہے آپ کہیں دور سے اۓ ہیں آج رات آپ میرے مہمان ہو طوطا ڈر گیا اور ڈرتے ڈرتے انکار کرتے ہوۓ واپسی کی اجازت مانگنے لگا مگر الو نے کہا میں چاہوں تو زبردستی بھی کر سکتا ہوں مگر پیار سے کہہ رہا ہوں آج رات آپ میرے مہمان ہو طوطے اور طوطی کو مجبوری کے عالم میں الو کی بات ماننا پڑی اور آلو کے ساتھ چلے گئے الو نے دونوں کی بہت خدمت کی مگر ان دونوں کو ڈر کے مارے نیند نہ آے بے چینی سے صبح کا انتظار کرنے لگے اللہ اللہ کر کے صبح ہوئی اور دونو نے الو سے اجازت چاہی مگر الو نے کہا پہلے ناشتہ کرو پھیر دیکھتے ہیں ہلکا پھلکا ناشتہ کیا اور پھر اجازت مانگی جس پر الو نے طوطے سے کہا تم جاؤ طوطی تمہارے ساتھ نہیں جاۓ گی طوطا سوچنے لگا وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا اب طوطی کو چھوڑ کے بھی نہیں جا سکتا تھا طوطا الو کی منت سماجت کرنےلگا مگر الو بزد تھا طوطی میری ہے اور یہ آپ کے ساتھ نہیں جاۓ گی طوطا اپنا کیس قاضی صاحب کی عدالت میں لے گیا قاضی نے الو کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے طوطے کی طوطی پر قبضہ کر لیا ہے الو بولا نہیں قاضی صاحب طوطی میری بیوی ہے قاضی صاحب نے الو سے پوچھا کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے الو کہنے لگا طوطی کی چونچ بھی میری چونچ جیسی ہے یہ ہی ثبوت ہے اور طوطی میری ہے قاضی صاحب نے فیصلہ الو کے حق میں دے دیا جس پر طوطا تڑپ کر شاخ سے نیچے گر پڑا اور کانپنے لگا الو نے آگے بڑھ کر طوطے کو پانی پلایا اور کہا طوطی آپ ہی کی ہے اور آپ ہی کے ساتھ جائے گی طوطے نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے الو سے کہا پھر تم نے یہ سب کیوں کیا الو بولا صرف آپ کو دیکھا نے کے لیے کہ یہ چمن الووں نے نہی بلکہ قاضیوں کے غلط فیصلوں نے اجاڑا ہے پاکستانی عوام کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے فیصلہ ساز ارباب اختیار نے ہمیشہ اپنے مفادات میں فیصلے کیے ہیں کبھی غریب عوام کا نہیں سوچا پاکستان دن بدن مسائل کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے ملک قرضوں اور عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے غریب پریشان ہے بچوں کا پیٹ پالوں یا بجلی گیس پیٹرول پراپرٹی مکان دوکان پانی سیوریج گاڑی روپیہ پیسہ حتہ کے کھانے پینے پر ٹیکس دوں اب تو ڈر ہے کہیں سائنس لینے پر بھی ٹیکس نہ لگ جائے گھروں میں واٹر پمپس لگےجو زمین سے پانی لے رہے ہیں پینے کے لیے اس پے بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے آمد ن کے کوئی مواقع نہیں نہ کوئی کاروبار ہے ان پالیسی میکرز نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے دوسرے ملکوں میں اگر کوئی ٹیکس لگتا ہے تو اس کے متبادل سہولتیں بھی دی جاتی ہیں دوسرے ملکوں میں امیر سے ٹیکس لے کر غریب کی کفالت کی جاتی ہے یہاں غریب سے ٹیکس وصول کر کے امیروں کو پالا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک پاکستان وسائل اور انصاف فراہم کرنے میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گیا ہے نا جانے کب کوئی دلا بھٹی پیدا ہو گا جو امیروں سے لے کر غریبوں کو دے گا اس ملک میں اگر کوئی کسی بھی پوسٹ پے ہے وہ اور اس کے اردگرد کے لوگ رشتیدار بھی لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اس ملک میں فیصلے بھی پیسے والے یا طاقتور کے حق میں ہوتے ہیں غریب کا کوئی پرسانے حال نہیں غریب تو بس اشرافیہ کو پالنے کے لیے ٹیکس دینے یا سیسک سیسک کے مرنے کیلئے رہ گیا ہے پیسے والا اور طاقتور انسانی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے اور عیش و عشرت کیلے ہے مگر ناجانے انسان یہ کیوں بھول گیا ہے کہ یہاں ہر انسان آزمائش میں ہے اللہ تعالیٰ نے کسی کو دولت دے کے آزمایا کسی کو غربت اور کسی کو طاقت دے کر آزمایا کسی کو کمزوری دے کر اللہ تعالیٰ نےہر چیز کا حساب لینا ہے اور حقوق العباد کا تو بہت کڑا حساب ہونا ہے جس کی آج کے انسان کو فکر نہی