کیا ہم اس ہجوم کو قوم بنا سکتے ہیں؟

تحریر طاہرعباس

سینئر نائب صدر تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا
03038558512
بھیڑیوں نے ایک دن بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ ان کو جنگل میں بلا خوف و خطر پھرنے کی آزادی دی جائے،جنگل سب کا ہے اس پر کسی ایک کا حق نہیں،جب بکریوں نے دیکھا کے بھیڑیے ہمارے حق میں ہماری آزادی کے لئے جلوس نکال رہے ہیں وہ بہت خوش ہوئیں اور انہوں نے آپس میں اجلاس کیا کہ اب ہمیں کوئی خطرہ نہیں اب ہم آزاد ہیں بھیڑے بھی ہمارے ساتھ ہیں ،ان میں سے ایک بوڑھی بکری تھی وہ بہت سیانی تھی اس نے ان سے کہا کے آپ خوش نہ ہوں یہ آپ کے حق میں نہیں اصل میں یہ آپ کے خلاف ہیں مگر سب جوان بکریوں نے اس سیانی بکری کی بات نہ مانی اور دوسرے دن بے خوف و خطر جنگل میں نکل گئی،بھیڑیوں نے جب دیکھا کہ بکریاں پورے جنگل میں نکل گئی ہیں اب ان کا شکار کرنا بہت آسان ہے تو انہوں نے ایک ایک کر کے اپنی مرضی کے شکار کئے اور جی بھر کے اپنے پیٹ کی پوجا کی۔بھیڑیوں کا وہ جلوس اصل میں بکریوں کی آزادی کے لئے نہیں تھا بلکہ اپنی حکمت عملی تھی جس سے وہ آسانی سے ان کا شکار کر سکیں۔اکثر ہم غریب عوام کے لئے ایک مثال دیتے رہتے ہیں کہ سیاست دان،امیر اور با اثر لوگ غریبوں کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں،اور یہ بات اکثر ہوتی بھی سچ ہے کیونکہ عام حالات میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے سیاست دان اور اسمبلیوں تک پہنچنے والے عوامی منتخب لوگ ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتے،ان کو لفٹ تک نہیں کرواتے،مگر جب وہ کسی مشکل میں پھنستے ہیں یا ان پر کوئی ازامائش آتی ہے تو یہ پھر عوام سے نہ صرف ہاتھ ملاتے ہیں بلکہ ان سے گلے ملتے ہوئے ان کو اپنا بھائی کہتے ہیں،جب کہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہمارے معیار کہ نہیں ہیں مگر ان کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تو یہ پہلے ان کے حق میں نکلتے ہیں بیان دیتے ہیں کہ یہ ظلم ہو گیا یہ مشکل ہو گئی،غریب عوام پس گئی،ان کی زندگیاں اجیراَ ہو گئی غریب کے منہ سے نوالہ چھین لیا گیا
تازہ صورتِ حال 8فروری 2024 الیکشن کے انتخاب پر پیدا ہوئی ہے۔ سیاست ایک کھیل ہے، شطرنج کی چالیں ہیں جو سیاستدان چلتے ہیں، جس کی چال کامیاب ٹھہرتی ہے وہ جشن مناتا ہے، جو پیچھے رہ جاتا ہے وہ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ پھر عدالت کے دروازے پر دستک ہوتی ہے، ہمارے سیاستدانوں نے اپنے مسائل خود حل کرنے کی بجائے اپنی داڑھی عدالت کے ہاتھوں میں دے رکھی ہے۔ ان معزز و محترم منتخب نمائندوں کا انتخاب تو اس لیے کیا جاتا ہے کہ اسمبلی میں جاکر قانون سازی کریں، ملک و ملت کے لیے بہتری کی منصوبہ بندی کریں، اپنے حلقے ، علاقے بلکہ پورے ملک کے لیے بہتر سوچیں، مگر اِن کی نگاہ تو پیٹ سے آگے تک بھی نہیں جاتی۔ جن گلیوں اور گٹروں کی تعمیر و مرمت کاکام کارپوریشن کے کونسلروں کا ہے، وہ یہ معززین اپنے ذمہ لے لیتے ہیں۔ ترقیاتی کاموں سے کمیشن کھاتے ہیں، اسمبلی جائیں یا نہ جائیں تنخواہ اور مراعات وصول کرتے ہیں، اسمبلی میں نہ سہی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی اپنے قائد کے سامنے سچی بات کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔
’’جو تم کو ہو پسند وہی بات کہیں گے‘‘کے مصداق صرف ہاتھ کھڑا کرنا ہے، اگر کبھی اختلاف کی کوشش کی تو اگلی مرتبہ ٹکٹ بھی نہیں ملے گا۔ تمام تر خوشامدی صورت حال کے باوجود یہ نمائندے اپنے قائدین کے سامنے اس قدر اعتماد بھی بحال نہیں کر سکے کہ کسی بھی بڑے عہدہ کے الیکشن کے موقع پر یہ لوٹ پوٹ تو نہیں ہو جائیں گے؟ کوئی انہیں خرید تو نہیں لے گا؟انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہوٹلوں میں قید رکھا جاتا ہے، رَا طوطوں کی طرح پنجروں میں ان کی خدمت کی جاتی ہے۔ خود پارٹی سربراہ دوسروں پر الزام لگانے میں عار محسوس نہیں کرتے کہ ہمارے لوگوں کی پچاس پچاس کروڑ قیمت لگائی جارہی ہے۔ کیا یہ نمائندے اس قدر بے وزن ، ہلکے اور بکائو مال ہیں، کہ کوئی بھی راہ چلتا انہیں خرید سکتا ہے۔اور پھر یہ بھی سیاست کا عجیب فارمولا ہے کہ جو فرد پارٹی چھوڑ جائے وہ لوٹا اور جو دوسری پارٹی چھوڑ کر اِدھر آجا ئے تو اُس کا ضمیر جاگ جاتا ہے۔
یہ حکمران، سیاسی قائدین، منتخب نمائندے ملک وقوم کے اس قدر مخلص ہیں کہ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے، مجال ہے جو کسی نے اپنی مراعات اور عیاشیوں میں ایک روپیہ کمی کی بات کی ہو۔ تھوڑی سی تحریک سوشل میڈیا پر چلی تھی کہ یہ سرکاری پٹرول ہی کم کر دیا جائے، مگر وہ تحریک بھی دم توڑ گئی۔ کون مفت کا مال چھوڑتا ہے؟ کیسا غیر فطری نظام ہے، کہ سرکاری تنخواہ بھی لینی ہے اور مفت پٹرول بھی۔ دیگر بے شمار مراعات بھی۔ اِن سیاستدانوں میں کون ہے جواَرب پتی نہیں،(شاید آٹے میں نمک کے برابر)۔ انہوں نے اگر عوام کی خدمت کرنی ہے تو کریں، قومی خزانے کی لوٹ مار سے تو خدمت کے دعوے نہ کریں۔ بجائے اِن سبز نمبر پلیٹ گاڑیوں کی عیاشیوں کو روکنے کے، عوام نے آپس میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے، دوسروں کودُھول چٹوانا، ذلیل کرنا، بے عزت کرنا، الزام تراشی کرنااور دوسروں کی ہر بات کو ہر صورت میں رد کرنا، نام بگاڑنا، مغلظات بکنا اپنا فرضِ اولین جانا ہوا ہے۔ مخالفین کو گھیرنے اور آوازے کسنے کا کام تو شروع ہے، مگر یہ حکمران اور بیوروکریسی کی ظالمانہ عیاشیوں کو روکنے کا کسی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ سیاسی کارکنوں نے مہنگائی، سرکاری عیاشیوں اور دیگر مسائل کو خیر باد کہہ دیا ہے، اب لڑائی صرف قائدین کے بیانیہ کی ہے۔ہم درست ہیں، دوسرے غلط اور جھوٹے ہیں۔ کیا ہمارے جذباتی سیاسی کارکن یہ بتا سکتے ہیں کہ نواز حکومت ہو یا زرداری ، عمران حکومت ہو یا شہباز، کسی حکمران نے اپنی، اپنی کابینہ کی یا بیوروکریسی کی عیاشیوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی؟ جواب سو فیصد نفی میں ہے، بیوروکریسی اس قدر طاقتور ہے کہ کوئی بھی حکمران اُن کی عیاشیوں میں کمی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ سیاستدان جب حکومت میں آتے ہیں تو حکومتی عیاشیوں اضافہ ہی دیکھنے میں آتا ہے اور اِس ضمن میں یہ لوگ کبھی اختلاف بھی نہیں رکھتے، معاملات کو ملتوی بھی نہیں کرتے، فوری اور متفقہ طور پر تنخواہ وغیرہ میں اضافہ کر لیتے ہیں۔ جن کے کندھوں پر پائوں رکھ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں، انہی کو بے وقوف بنا کر اپنا کام چلاتے رہتے ہیں اور عوام ہیں کہ اپنے دشمنوں کو خود اپنے سروں پر مسلط کرتے ہیں، ستم یہ بھی کہ اُن کو دشمن سمجھنے کی بجائے الٹا عقیدت سے اُن کے لیے قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ جب ہم عوام ہی اپنے اندر سے اچھے لوگوں کو ہی آگے نہیں لانا چاہتے تو ہمارے معاملات بہتر کیسے ہو سکتے ہیں؟

انقلاب کیسے آئے گا سمجھ سے بالاتر ہے

انقلاب کیسے آئے گا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ازقلم: *چیئرمین ملک ظفرافضال حیدر تحصیل پریس کلب رجسٹرڈ کبیروالا & چیف ایڈیٹر روزنامہ جاگتی خبر ملتان*
03037967355
آپ اسے ازلی بدقسمتی کہیں یا سوچی سمجھی سازش کہ جمہوریت کے نام پر قائم ہونے والی پہلی اسلامی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان آج تک حقیقی جمہوریت اور آزادانہ حقوق کو ترس رہی ہے۔
یہ ہے ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان، جسے ہم لوگ تعویز، گنڈوں، پیروں، فقیروں اور روحانی سلسلوں سے چلا رہے ہیں۔ ملک کم لگتا ہے، پیری فقیری کا آستانہ زیادہ لگتا ہے، جہاں حکمران اپنی وزارتیں بچانے کے لیے پیروں، فقیروں کا سہارا لیتے ہیں۔ ہم نے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ان کمزور عقیدہ لوگوں کے حوالے کر رکھا ہے۔ اور ہم امید لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ یہ تو خود تماشہ بنے ہوئے ہیں۔ جادو ٹونے پر ملک چلایا جارہا ہے۔
اک طرف یہ تماشہ ہے، تو دوسری طرف ملک کو کوٹھا بنا کر رکھا ہوا ہے، جس میں روز ملک کے نامور شرفاء ننگے نظر آتے ہیں۔ یہ حکمران کہیں سے بھی نہیں لگتے، یہ سب عیاش ٹولہ ہے، انھیں عوام سے کوئی غرض نہیں، انھیں صرف اپنی عیاشیاں عزیز ہیں۔ عوام ان کے لیے بھیڑ بکریوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں، وہ چاہے ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے ہوں یا اللہ اکبر کا۔
غیرت و حمیت سے عاری سیاستدان جنھیں نہ ملک کی پرواہ نہ قوم کی۔ پوری دنیا میں اپنا تماشہ بنایا ہوا ہے۔ آئے دن ہمارے سیاستدانوں کا کوئی نہ کوئی اسکینڈل میڈیا کا زینت بنتا ہے جسے پوری دنیا دیکھتی ہے، لیکن مجال ہے ان کے سر پر جوں تک رینگتی ہو۔
یہ ملک انھیں عزیز ہو یا نہ ہو، لیکن ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگر خدا نہ کرے کبھی اس ملک پر برا وقت آیا تو ہم اگلی صف میں نظر آئیں گے، لیکن یہ ہمارے حکمران جنھیں بخار بھی آتا ہے تو باھر جا کر پیناڈول کھاتے ہیں۔ ان سے ملک بچانے کی امید سوائے خام خیالی کے کچھ بھی نہیں۔
ملک، قوم، معاشرے بننے سے بنتے ہیں۔ انھیں اک پلیٹ فارم پر جمع کرنا پڑتا ہے۔ ان میں یکسوئی پیدا کرنا پڑتی ہے۔ انھیں وطن کی مٹی سے محبت کرنا سکھایا جاتا ہے، قوم کو سکھایا جاتا ہیکہ کیسے اپنے خون سے وطن کو سینچا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی بتایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ ملک پر اگر کبھی دشمن میلی نگاہ ڈالے تو کیسے خود سے بڑھ کر اپنے وطن کا دفاع کیا جاتا ہے، لیکن افسوس اس قوم کو ان حکمرانوں نے بجائے اک کرنے کے الگ الگ ٹکڑیوں میں بانٹ دیا ہے۔ اور انھیں ملک سے وفاداری کا درس دینے کے بجائے اپنی پارٹی بچانے کا درس دیا جارہا ہے۔
قوم کو سبق پڑھایا جاتا ہیکہ جہالت ختم کریں شعور کو اجاگر کریں اور ملک کو روشن کریں، لیکن اگر حالت حکمرانوں کی دیکھی جائے، تو قوم کو خود سے زیادہ ان پر ترس آتا ہے۔
یہ ملک پاکستان ایسا تو نہ تھا اور نہ اس کے حکمران ایسے تھے۔ ہر طرف خوشحالی تھی، ہریالی ہی ہریالی تھی، شہر کے بابو خوش تھے، گاؤں کے مکین چست تھے، کھانے پینے کی ریل پیل تھی، ہر طرف خوشیوں کے گیت تھے، لوگوں میں محبتیں تھیں، اتحاد اور اتفاق اک دوسرے کے ساتھ نتھی تھے، محبتوں کو عروج تھا، نفرتوں کو زوال تھا۔
لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب ہر طرف نفرتوں کے بیج ہیں۔ عوام کی جان ومال محفوظ نہیں۔ ڈاکوؤں نے شہروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سیاستدانوں نے عوام کو اپنا پالتو سمجھ رکھا ہے۔ پیٹ سیاستدان بھرتے ہیں۔ خالی پیٹ نعرے ان بھوکی عوام سے لگواتے ہیں۔
یہ وہ عوام ہے جو اپنے لیڈر کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی، لیکن نعرے ان کی گھٹی میں پڑے ہیں۔ ہر پارٹی کو اپنا لیڈر عزیز ہے، لیکن کسی بھی لیڈر کو اپنے کارکن کی پرواہ نہیں کہ اس کے گھر کے حالات کیا ہیں؟
بدلاؤ کہاں سے آئے گا؟ عوام سے۔ لیکن عوام کو اپنی قسمت بدلنے کا خیال ہی نہیں، وہ آوارہ پنچھی کی طرح کبھی اک نگر کبھی اک ڈگر۔ نہ جانے وہ اپنے لیڈروں سے کونسی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ مہنگائی کا رونا بھی یہ عوام ہی روتی ہے، سیاستدانوں کو گالیاں بھی یہی عوام دیتی ہے، لیکن ووٹ بھی یہی عوام ان سیاستدانوں کو دیتی ہے۔
انقلاب کیسے آئے گا سمجھ سے بالاتر ہے۔