حکمرانو۔۔۔ یہ ہے انصاف

تحریر عبدالستار سپرا

حج کے رش میں ایک غریب کا پاٶں کسی امیر کی چادر پر آگیا اس امیر نے اتنی بات پر اس غریب کے زورسے تھپڑ رسید کردیا۔ غریب جوابی تھپڑ تو نہ مار سکا البتہ لوگوں سے پوچھا کہ امیرالمومنین کہاں ملتے ہیں۔ ایڈریس لیکر وہ غریب اس وقت کے امیرالمومنین سیدنا عمرفاروقؓ کے پاس پہنچا۔ سارا ماجرا سُنا ڈالا۔ امیرالمومنین نے اس امیر شخص کو اپنے دربار میں بلایا اور عرض کیا کہ آدھی زمین پر تم چلتے ہو اور آدھی زمین پرتمہاری چادریں چلتی ہیں مجھے بتاٶ میرے نبی کاغریب اُمتی کہاں جاٸے۔ پھر اس غریب شخص سے کہا کہ اس امیر شخص کو تھپڑ مار کر بدلہ لے لے۔ جب وہ شخص بدلہ لینے کے لیے آگے بڑھا تو امیرالمومنین نے فرمایا۔ اے بدلہ لینے والے ایک بات یاد رکھنا اگر تم نے تھپڑ تم نے اتنے زور سے لگایا جتنا اس نے تمہیں لگایا تو کل قیامت کے دن تم سے پوچھ گچھ نہ ہوگی اور اگر جتنا زورسے اس نے تمہیں مارا تھا اس سے زیادہ زور سے تم نے تھپڑ مار دیا تو کل قیامت کے دن تم جوابدہ ہوگے۔ جب اس غریب نے یہ سُنا تو کہنے لگا کہ اگر یہ بات ہے تو میں نے اسکو معاف کیا۔ دو چادروں میں ملبوس جب وقت کے خلیفہ کو عوام نے دیکھا تو مجمع عام میں بول اُٹھے امیرالمومنین سب کو ایک ایک چادر ملی آپ نے خود دو چادریں کیوں رکھی۔ امیرالمومنین کا بیٹا وہاں موجود تھا کہنے لگا دوسری چادر میں نے اپنی اپنے ابو کو دی ہے۔ کسی ملک کا سفیر مدینہ آیا اور امیرالمومنین عمرفاروقؓ سے ملاقات کرنے کاخواہشمند تھا۔ لوگوں سے پوچھاکہ امیرالمومنین کہاں ملیں گے۔ لوگوں نے بتایا کہ مسجد میں ملیں گے ۔ جب وہ سفیرمسجد پہنچتاہے تو کیا دیکھتاہے امیرالمومنین مسجد کی تعمیر کیلیے خود گارا بنارہاہے۔ ایک دن رات کو گشت کے دوران امیرالمومنین نے ایک خیمہ سے رونے کی آواز سنی۔ قریب جاکر معلوم ہوا کہ ڈیلیوری کیس ہے فوری واپس ہوٸے گھر آکر اپنی بیوی کو ساتھ لیا کچھ کھانے کا سامان اُٹھایا اوروہاں جاکر بیوی کو اندر بھیجا اور خود باہر بیٹھ کر تنکے اکٹھے کرکے آگ جلاتاہے انکے کھانے کاانتظام کرتاہے جب اندر بچے کی پیداٸش ہوجاتی ہے تو امیرالمومنین کی گھروالی آواز دیتی ہے یاامیرالمومنین آپکے دوست کے ہاں بچہ ہواہے اس وقت گھروالوں کو پتہ چلتاہے کہ یہ خدمت کرنے والا کوٸی عام نہیں امیرالمومنین ہیں۔ پاکستان کے عوام صوم وصلواة کے پابند ہوجاٸیں اپنے معاملات کو درست کرلیں تو وہ وقت دور نہیں کہ اللہ ہمیں بھی ایسا ہی حکمران عطا فرماٸے گا