فرقہ وررانہ سازش اور کچھ حقائق 110 + 108
تحریر عسکری جٹ
مولانا آصف معاویہ سیال مخدوم سید فیصل اور امیر عباس کا پینل بنتے ہی جہاں پر بہت سے لوگ یہ توقع کررہے تھے کہ ضلع کیلئے یہ ایک اچھا سیٹ اپ ہوگا اور اعوان گروپ اگلے پانچ سال کیلئے آؤٹ ہوجائے گا کیونکہ اسی فیصد عوام انسے ناخوش ہے
مگر اس کے ساتھ کچھ فرقہ وررانہ سوچ بھی یکدم ابھری لیکن ابھی تک اہلسنت کی طرف سے بالکل نہیں ،
آئیں کچھ حقائق دیکھتے ہیں
نجف خان ایم پی اے اور ایم این اے بنا اسے اسی فیصد اہلسنت کے ووٹ ملے تھے کیونکہ احمد پور سیال شہر کا ووٹ اور اس کے پاس پاس علاقوں کا ووٹ نوے فیصد پیور اہلسنت ووٹ ہے اس کی مثال یہ دیکھ لیں کہ احمد پور سیال شہر کی تمام جامع مساجد اہلسنت دیوبندی ہیں جن کی تعداد شاید 10 ہے ایک مسجد درمیانی سی مکتب تشیع کی ہے
یہ صرف ایک علاقہ کی مثال ہے
یہ صرف بات سمجھانے کیلئے لکھی ہے
اب یہ پینل تقریباً 3 اہم لوگوں پر ہے جن میں ایک این پہ مخدوم فیصل ہے دوسرے پہ آصف معاویہ سیال
اور امیر عباس ایم پی اے ہے
اگر یہ پینل مضبوط رہتا ہے تو صاحبزادگان کی ہار یقینی ہے چاہے وہ پی ٹی آئی پہ ہی لڑیں اس بات کا اندازہ مخدوم فیصل اور امیر عباس سیال کو بخوبی ہے اسی لیے انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ راستہ اختیار کیا
لیکن اگر مخدوم صاحب اور امیر عباس اپنے مکتب کے چند افراد کو نہیں سنبھالتے تو وہ خود سمجھدار ہیں
۔۔۔۔
اگر یہ پینل نہ بنتا اور مولانا آصف معاویہ کسی دوسرے پینل سے لڑتے جس میں احمد پور سیال یا گڑھ مہاراجہ سے کوئی سیال پینل میں نہ ہوتا تو سب اہل قلم و نظر جانتے ہیں کہ پھر سیال گروپ تیسرے نمبر کا کھلاڑی ہوتا اور ہمیشہ ہی رہتا کیونکہ پھر الیکشن مسلکی رخ اختیار کرتا جس میں احمد پور سیال اور شورکوٹ کے تقریباً دونوں تحصیل کے شہری علاقہ جات ہی مسلکی طور پر بتاتے ہیں کہ یہ مقابلہ آصف معاویہ اور امیر سلطان کے درمیان ہونا تھا سیال گروپ تیسرے نمبر پہ ہوتا
کیونکہ آصف معاویہ کی سیاست میں انٹری سے بہت کچھ زمینی حقائق بدل گئے تھے
مگر مخدوم فیصل کیونکہ پرانے سیاست دان تھے اور حقائق سے آگاہ تھے انہوں نے مسلکی چقلش کو بہت جلد ختم کیا اور یہ پینل تشکیل دیا
کیونکہ اگر اس پینل میں آصف معاویہ نہ ہوں تو سیال گروپ کی طرح مخدوم کو بھی بہت زیادہ چپقلش کا سامنا کرنا پڑتا اور ایک کثیر تعداد ووٹوں سے محروم رہتا اور وہ ووٹ محبوب سلطان کو آنکھیں بند کر کے پڑ جاتے
اس کا اندازہ جذباتی بچوں کو تو شاید نہ ہو مگر اہل نظر خوب جانتے ہیں
۔۔۔
اب مذہبی منافرت کو جو چند لوگ ہوا دے رہے ہیں وہ ہماری نظر سے ان میں اہلسنت تو کوئی نہیں گزرا
بلکہ جو دے رہے وہ اپنے مسلک کے کینڈیٹ سے بھی بالکل مخلص نہیں کیونکہ زمینی حقائق میں اوپر لکھ دیے ہیں
اور نوازش خان کو بھی اپنے اردگرد دیکھنا ہوگا کہ آپ کے ارد گرد کیا ہورہا ہے آپ کا بھائی صرف ایک مسلک کے ووٹوں سے نہ بنا تھا اور نہ کبھی آپ بن سکتے ہیں
ہمیں امید ہے کہ تم ان چیزوں سے اعلان برات کرو گے اور اپنے اردگرد گرد نظر دوڑاو گے
میری اس پینل کے سرکردہ افراد سے درخواست ہے کہ اس فضا کو کنٹرول کریں
مسلک کی آڑ میں سیاسی مخالف بہت بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور خواص کر مخدوم فیصل اور امیر عباس اس بات کا نوٹس لیں کیونکہ فضا نتیجہ کے طور پر آپ لوگوں کے بہت خلاف اثر انداز ہوگی
ہاں پینل کو باقی اسی انداز میں رکھا جاسکتا ہے کہ ایک دوسرے سے دل و جان سے مخلص ہوا جائے یہ پینل ایک کامیاب پینل ہے
نوٹ ، مسلکی انتشار پہ مبنی کمنٹ سے پرہیز
عسکری جٹ
نوٹ کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں








