نگہبان رمضان پیکج
آپ کا حق،آپ کی دہلیز پر

جھنگ:وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر نگہبان رمضان پیکج پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے ڈپٹی کمشنر محمد عمیر کی زیر صدارت اجلاس۔

جھنگ:ضلع بھر میں 2 لاکھ 21 ہزار 982 مستحق گھرانوں کو ان کی دہلیز پر فوڈ ہمپرز پہنچائے جائیں گے

فوڈ ہمپرز کی پیکنگ کا عمل بھر پور انداز میں جاری ہے۔

محکمہ فوڈ اتھارٹی کے افسران کوالٹی کو چیک کرنے کیلئے خود موجود ہیں۔

10 کلو آٹا،2 کلو چینی،2 کلو گھی،2 کلو چاول اور 2 کلو بیسن کا فوڈ ہمپرز تیار کیا جا رہا ہے۔

ریونیو افسران و سٹاف مستحق گھرانوں کے ڈیٹا کے تصدیق کیلئے گھر گھر پہنچ رہا ہے۔

رپورٹ علی رحمان انصاری

مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ
نے سرکاری ملازمین کی کمر توڑدی ہے

خاص طبقے کی مراعات میں 150گنا اضافہ کر دیا گیا ہے

اور عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاونسسز میں اضافے کے لئے ہر وقت خزانے خالی

پٹرول بجلی گیس آٹا سبزیاں دالیں روز مرہ زندگی کی ضروریات کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کے اضافے نے زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی

یہ کہاں کا انصاف ہے

پاکستان کے تمام محکمہ جات کے تمام سرکاری ملازمین
جن کے سکیل مساوی ہیں

سب کو ایک جیسے تنخواہیں اور الاونسسز دئیے جائیں
تنخواہوں اور الاونسسز میں تفریق نے

سرکاری ملازمین کو دو گروپس میں تقسیم کردیا ہے

1- خاص طبقے کے سرکاری
2-عام طبقے کے سرکاری ملازمین

جب ملک ایک
صدر آیک
وزیر اعظم پاکستان ایک
قانون ایک
تو پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس وآلے فارمولے کے تحت خاص آور عام سرکاری ملازمین کی تفریق کیوں

کسی کو یوٹیلیٹی الاؤنس
کسی کو سول سیکرٹریٹ الاؤنس
کسی کو ایگزیکٹو الاؤنس
کسی کو ٹیکنیکل الاؤنس
کسی کو جوڈیشنل الاؤنس
کسی کو رسک الاؤنس
کسی کو تین تین اضافی تنخواہیں بونس

اس تفریق آور اضافی مراعات جن مخصوص طبقے کو دینے کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی ہے

پہلے صرف وفاق میں بجٹ میں ۔پاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کو بلاتفریق ایک جیسے ہے سکیل اور الاونسسز دیے جاتے تھے
اور اس پر تمام صوبے عمل درآمد کرتے تھے

آب ہر صوبے میں سول سیکرٹریٹ میں بیٹھے ہوئے اعلی آفیسران اور عدالتوں میں معزز جج صاحبان وغیرہ

جس کا دل کرتا ہے اپنی اپنی مراعات میں لآکھوں روپے کا آضافہ کرلیتے ہیں جس کے لئے بجٹ بھی موجود کسی قسم کی کوئی اعتراض نہیں ہوتا

جب کہ اسی ضلع میں سول سیکرٹریٹ کی چار دیواری کے بآہر جو محکمہ جات ہیں اور اس صوبے کے تمام اضلاع کے تمام سرکاری ملازمین اس سے محروم رہ جاتے ہیں

ان کی طرف سے آس پر احتجاجی مظاہرہ دھرنے کے بعد بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا

اور بجٹ نہ ہونے خزانہ خالی ہونے کا ہمیشہ رونا رہتا ہے

پورے ملک سے سرکاری ملازمین کے بار بار احتجاجی مظاہرہ دھرنے کے بعد

قومی اسمبلی میں اس تفریق کو ختم کرنے کے لئے بل پیش کیا گیا ہے

ہم وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ

پاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کو بلاتفریق ایک جیسے ہے سکیل اور الاونسسز دینے کا نظام جاری کیا جائے

اور تمام سرکاری ملازمین کو مساوی بنیادوں پر الاونسسز دئیے جائیں

ہآوس رینٹ نئے ہے سکیل پر 60فیصد پاکستان کے تمام سرکاری ملازمین کو بلاتفریق ایک جیسے دیا جائے آور جہاں سرکاری رہائش گاہ میسر نہیں ہیں وہاں ہاؤس ہائرنگ ریکوزیشن کی سہولت فراہم کی جائیں

میڈیکل الاؤنس کم از کم 15000روپے دیا جائے

صحت کارڈ کی سہولت فراہم کی جائیں جس میں
ڈاکٹر کی فیس چیک اپ ٹیسٹ میڈیسن آپریشن سب فری ہونے کی سہولت فراہم کی جائیں

کنوینس الاؤنس کم از کم دو لیٹر پٹرول روزانہ کے مساوی رقم فراہم کی جائے

اپگریڈ یشن سے رہ جانے والی تمام پوسٹوں کو بلاتفریق اپگریڈ کیا جائے اور سروس سٹرکچر تیار کیا جائے

کنٹریکٹ ملازمین کو بلاتفریق فوری طور پر ریگولر کیا جائے اور نئی بھرتیاں ریگولر کی بنیاد پر کی جائیں

حقدار ملازمین کو فوری طور پروموشن دینے کے لئے ہر تین ماہ بعد ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کے آجلاس منعقد کئے جائیں

ایک ملک میں ایک نظام

خاص طبقے اور عام سرکاری ملازمین کی تفریق کا خاتمہ
ہم امید کرتے ہیں کہ آس سلسلے میں قومی اسمبلی میں پیش کئےگئے بل کو پآس کرکے آس پر عمل درآمد کروایا جائے گا
تاکہ آس تفریق کا خاتمہ ہوسکے

آپنے حقوق کے حصول کے لیے
کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

آپ کی محبتوں کے طالب

سرپرست اعلیٰ
محکمہ زراعت صوبہ پنجاب
چوہدری فرمائش علی سندھو

صوبائی چیئرمین ایپکا زراعت صوبہ پنجاب
چوہدری عزیز الرحمن

صوبائی صدر
ایپکا زراعت صوبہ پنجاب
چوہدری محمد اعظم گجر

صوبائی جنرل سیکرٹری
ایپکا زراعت صوبہ پنجاب
ملک منور اقبال