خان محمد کمتر ___ایک عظیم سخنور !

تحریر معروف لکھاری ثنا اللہ سعد شجاع آبادی

جن احباب کی عمریں 50 سال سےاوپرہیں انہوں نے وہ دور ضروردیکھاہوگاجب خطہء پو ٹھوہارسےلےکرصادق آبادکے پرلےکنارےپرکوٹ سبزل کی آخری پگڈنڈی تک جناب کمتر کا نام گونجتا تھا___
جناب خان محمد کمتراپنےدور میں سرائیکی کےایک عظیم شاعر’گلشن رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کےایک بلبل نغمہ ساز اور طوطیء نوا سنج تھے’ایک منفرد انداز کے حامل مداح آل واصحاب رسول تھے’

کمترایک پرانی وضع کاانسان’ نعت گوئی کامردمیدان’بلند فکر وبلند شان’وقت کاحسان’ہروقت ہرآن’عاشق نبیآخرالزمان’علماء حق کاترجمان’آل واصحاب نبی پرہروقت قربان’آپکی رنگت بلا لی’فطرت جلالی’اخلاق عالی ‘ کلام مثالی’ تصنع سےخالی تھا __
آپ نے اپنے زمانے کے بے شمار لوگوں سےبرتر و بہتر و بلند تر سخنور ہونے کے باوجود کمتر کہلوانا پسند کیا تواللہ نے آپ کی عاجزی و انکساری کی لاج رکھی بےپناہ عزت بخشی اور آپ کو سر بلند کیا__
اپنی ایک مشہور منقبت کے مقطع میں فرماتے ہیں :

صفت صحابہ ورد بنڑایم
وچ تنظیم دے نام لکھایم
نام دا کمتر سخن دا برتر __ لڑ پھڑیم لجداراں دا’ ____ بنڑ یار نبی دے یاراں دا!

اللہ نےآپ کو فکر رسااور تخیل کی بلندپروازی کےساتھ ساتھ لحن داؤدی سےنوازاتھا’عموما” سرائیکی میں کلام پڑھتے اور سامعین کے قلوب و اذہان میں اپنی شیرینیءگفتار سےحب رسول واصحاب رسول کا امرت ٹپکاتے تھے’آپ کی ایک مشہور نعت کا مطلع دیکھیے!
“جگ سارے دا محبوب مدنی مٹھا ساری دھرتی تے رحمت ونڈیندا گیا
جہڑے آندے گٸے نیڑے باہندے گٸے سینے لاکے محمد رنگیندا گیا”

آپ اپنےفن کےبادشاہ تھے’آپ کانام سن کر دور دراز سےخلق خدا دینی جلسوں میں امڈتی چلی آتی تھی اور آپکےبلند بانگ طرزکلام پرزمانہ سر دھنتا تھا’ آپ جب نغمہ سراہوتےتو ہزاروں کامجمع دم بخودہوکر آپ کے والہانہ انداز پر جھومنے لگتااور لوگوں کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں’آج آپ کودنیا سے رخصت ہوئے44 برس کاعرصہ بیت گیا
کمتر مرحوم رح کا مشہور سلام !
—————————————————–
سیدِ کونین تیرے جانثاروں کو سلام
یعنی گردونِ نبوت کے ستاروں کو سلام

انبیاء کے بعد شہرہ ہے اُنہی کے نام کا
جنکی ہمت سے پَھلا پُھولا چمن اسلام کا
اُن حجازی غازیوں کو شہ سواروں کو سلام
سید کونین تیرے جانثاروں کو سلام

جن کی ہئیبت سے لرزتے کفر کے ایوان تھے
جن سے لرزاں شام و روم و فارس و ایران تھے
اُن خلافت راشدہ کےتاجداروں کو سلام
سید کونین تیرے جانثاروں کو سلام

جن کا حملہ دشمنوں کو موت کا پیغام تھا
اِس زمیں پر کفر جن سے لرزہ براندام تھا
حق کی خوشنودی کے مخلص خواستگاروں کو سلام
سید کونین تیرے جانثاروں کو سلام

جب کہیں باطل سے ٹکراتے تھے حق کے پاسباں
حق پرستوں کا تماشا دیکھتا تھا آسماں
اُن کی تیغوں کی چمکتی تیز دھاروں کو سلام
سید کونین تیرے جانثاروں کو سلام

اُن کی کوشش سے ہمیں قرآن کی دولت ملی
اُن کی ہمت سے رسول اللہ کی سنت ملی
اُن رسُــــــــولِ ہاشمی کے راز داروں کو سلام
سید کونین تیرےجانثاروں کو سلام

اُن میں صدیق و عمر کی امتیازی شان ہے
سو گئے اُس گھر میں جس پر خُلد بھی قربان ہے
گُنبدِ خضرا کی رونق کی بہاروں کو سلام
سید کونین تیرےجانثاروں کو سلام

ہر قدم اُن کا خدا کےحکم کی تعمیل تھی
انکے ہر قول و عمل میں دین کی تکمیل تھی
دعوتِ دینِ اِلہ کے شاہکاروں کو سلام
سید کونین تیرے جانثاروں کو سلام

دیں کی خاطر کی نہ کمتر فکر و مال و جان کی
اُن صحابہ کی محبت جزؤ ہے ایمان کی
رحمت للعالمیں کے پا سداروں کو سلام
سید کونین تیرے جانثاروں کو سلام!

(برادرعزیز سمیع اللہ عارفی کے شکریہ کےساتھ)
(برادرعزیز سمیع اللہ عارفی کے شکریہ کےساتھ)

مولاناثناءاللہ سعدکےقلم سےایک اورسدابہارشاہکارمنظرعام پر
ادیب ملت،وکیل ناموس صحابہ،مخدوم العلماء مصنف کتب کثیرہ برادرمکرم رفیقِ معظم حضرت مولانا ثناءاللہ سعد شجاع آبادی دامت برکاتہم وعمت فیوضھم کے سدابہارقلم سے نواسۂ رسول ﷺ جگرگوشۂ بتول حضرت سیدناحسن رضی اللہ عنہ کی سیرت پر اردوزبان میں ایک مکمل مدلل اورجامع شاہ کارکاتحفہ بدست مصنف موصول ہوا۔جزاہ اللہ الباری وزوجہ الحواری
راقم الحروف کامصنف زیدمجدھم کی پہلی تصنیف کے منظرعام پرآنےسےبھی پہلےکاتعلق ہےماشاءاللہ آج ان کی تصنیفات وتالیفات کےتعدادسینکڑوں کاعددکراس کرچکی ہےاللہ کرےزورقلم اورزیادہ
موصوف مرنجان مرنج اوریاروں کےیارہیں،ان کی محفل حاضرجوابی وبذلہ سنجی کی حلاوت لیئے ہوتی ہے،اکابر کی صحبت اوران سےاستفادےنےان کے قلم میں جولانیاں اور تحریرمیں تابانیاں پیداکردی ہیں،سیرت صحابہ انکاپسندیدہ موضوع ہے،عہد شباب سے تصنیف وتالیف کےمیدان میں قدم رکھنےاورپوری لگن اوریکسوئی کےساتھ اس میدان سے وابستہ رہنےقلم وقرطاس سےدائمی وانمٹ تعلق اورتصنیف وتالیف کی فیلڈکےلیئےخودکووقف کردینے نےان کی قلم میں استناد اور تحریرمیں اعتمادپیداکردیاہے،آپ فیس بک پربھی اپنی ادبی نگارشات سےحلقۂ ارباب ذوق کو مستفیدفرماتے رہتےہیں۔
آنجناب کےمبارک تحفےپربعدازمطالعہ تفصیلی تبصرہ کرنے کا بھی ارادہ ہے،اللہ تعالی اسے جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

—————————————————–