ماں عظمتوں کا مینار

تحریر متین قیصر ندیم احمد پور سیال

اک مدت سے میری ماں نہی سوئی
میں نے اک بار کہا تھا ڈر لگتا ہے

گارڈ آف آرنر کا معائنہ کرنے اور چبوترے پر چڑھ کر سلامی لینے میں وہ خمار کہاں جو جھولے میں لیٹ کر ماں کے ہاتھوں ہلکورے کھانے میں آتا ہے مخملیں مسہریوں پر لیٹ کر نیند کا وہ نشہ کہاں جو ماں کی گود میں حاصل ہوتا ہے ۔غزالی و رازی کے فلسفے ،رومی و جامی کے شعر و سخن میں وہ حسن کہاں جو ان پڑھ ماں کی سادہ لوحی میں ہے۔ نظم و نثر کے شہہ پاروں میں وہ حسن کہاں جو ماں کی لوری میں گھلا ہوتا ہےقوس و قزا کے رنگ ضرب المثل بن چکے ہیں مگر ماں کے بے لوث اوربے ساختہ پیار کا رنگ بہت دل آویز اور نظر نواز ہوتا ہے گلاب کی پنکھڑی لاکھ نازک سہی مگر ممتا کے آبگینے کی لطافت کی اور ہی بات ہے۔کنول کا پھول بہت شفاف ہے مگر ماں کاآئینہ دل اس سے کہیں زیادہ شفاف ہوتا ہے چاند کی چاندنی بڑی خنک ہے مگر ماں کے سائے کی ٹھنڈک کا جواب کہیں بھی نہی ۔نسیم سحر کا پر لطف جھو نکا اپنی جگہ مگر ماں کے دامن کی ہوا کا مقابلہ کون کرے؟صحرا کے ذروں سمندر کے قطروں اور جنگل کے پتوں کو کوئی گن نہی سکتا ایسے کمپیوٹڑ ایجاد ہو چکے ہیں جو کہ شاید ان چیزوں کا شمار کر سکیں لیکن ماں کا اچھوتا پیار حد شمار سے باہر ہے اس موقع پر میں قلمکار کی محفل سے نکل کر دنیا جہان کے بڑے لوگوں کی محفل میں لیے چلتا ہوں ماں کے بارے ان کے احساسات نظریات گزارشات کیا ہیں ماں کا وجود ایسی نعمت ہے متحدہ ہندوستان کے عظیم فرمانروا اورنگزیب کا یوں کہنا کہ ماں کے بنا گھر قبرستان ہے آخر اورنگزیب کے ہاں کس چیز کی کمی تھی وراثت میں بادشاہت ملی پچاس برس حکومت کی اورنگزیب لقب پایا عالمگیر کہلایاتاج مغلیہ زیب سر کر کے بھی ممتا سے بے نیاز نہ ہو سکا۔نادر شاہ درانی جیسا تیر و تفنگ سے کھیلنے والا ،تیغ و سناں کے سائے میں پلنے والا حکمران اپنی ساری سختی و صلاحیت کو بھول کر بول اٹھا ماں اور پھول میں مجھے کوئی فرق نظر نہی آتا۔مولانا محمد علی جوہر نے دنیا میں کیا کچھ نہی پایا اور زمانے میں کیا کچھ نہی دیکھا آکسفورڈ کی ڈگری ذوق شعر و سخن اقلیم صحافت کی تاجداری اور میدان صحافت کی شہسواری قیادت کی مسند بیت المقدس میں مرقد پھر بھی وہ کہتے ہیں دنیا کی سب سے حسین شئے ماں اور صرف ماں ہے
علامہ اقبال جو کہ حکیم الامت کہلائے دنیا نے ان کو فلسفی شاعرمشرق مانا اسلامیان ہند کے نزدیک مصور پاکستان ٹھہرے ماں کی عظمت کو یوں سلام پیش کرتے ہیں سخت سے سحت دل کو ماں کی پر نم آنکھوں سے نرم کیا جا سکتا ہے کائنات کی سب سے معتبر سب سے اعلی ہستی ہادی بر حق نبی اخرالزماں سرور کون و مکاں رحمت العالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ رسالت سے ارشاد لیتے ہیں آپ نے فرمایا جنت ماں کے قدموں تلے ہے ملک کی صدارت سب سے بڑا عہدہ ہے وزارت عظمی خوش بختی کی انتہا ہے۔فیکٹریوں و مربعوں کا مالک ہونا ترقی و خوشحالی کا افق ترین ستارہ ہے اصل بات یہ ہے کہ ملک کی صدارت وزرات عظمی اور فیکٹریوں کی بہتات ماں کی شفقت اور محبت آمیز لہجے کا نعم البدل نہی بن سکتی ۔ماں کا تعلق بڑے خاندان سے ہو وہ اعلی تعلیم یافتہ ہو دنیا کے جدید رجحانات سے آگاہ ہو آداب و اطوار میں ماڈرن ہو سیاسی و معاشی اعتبار سے اونچا مقام رکھتی ہوتب ہی اسکو سراہا جائے اس کے موضوع پر تقریر کی جائے اس کیلے مدر ڈے منایا جائے اس پر مضمون لکھا جائے بلکہ ماں فقط ماں ہوتی ہے جس طرح گلاب کا کوئی اور نام رکھ دیا جائے اسکی طراوت و لطافت میں کوئی فرق نہی آتا اسطرح ماں شاہی خاندان سے ہو معمولی محنت کش گھرانے سے ہو ماں ماں ہے ۔ماں لوری دے تو اسکی زبان سے نکلتی لوری میں فرشتے بولتے ہیں ماں روٹیاں پکا رہی ہو تو وقت کے بادشاہ اسکے آگے ایک ٹکرے کے لئے سوالی نظر أتے ہیں ماں دعا کیلۓ ہاتھ اٹھائے تو مالک کل جہاں عرش کے دو زینے نیچے اتر کر اس سے ہم کلام ہوتا ہے ماں اپنے بچے پر میلا آنچل ڈال دے تو رحمت خدا وندی گھٹا بن کر چھا جاتی ہےماں کی نگاہیں غضب آلود ہوں تو عرش الہی تھر تھر کانپنے لگتا ہے ماں کی ممتا کو حرف ولفظ سے بیان کرنے سے فاصر ہوں ممتا کی وضاحت صرف اور صرف اس سے واضح ہوتی ہے کہ خالق کائنات نے جب اپنی مخلوق کے ساتھ تعلق ظاہر کرنا چاہا کہ وہ اپنی مخلوق سے کس قدر محبت رکھتا ہے تو اس نے مثال ماں کے پیار سے تشبیہ دی اسکے اٹھے ہوۓ ہاتھوں سے راستوں کی رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اسکی پر نم آنکھیں ہمیں تلاش کرتی رہتی ہیں اس کے دھڑکتے دل کی ہر دھڑکن ہماری خیر و عافیت کی دعا ہوتی ہے اسکے سینے میں مچلتی آرزوئیں صرف اور صرف اولاد کیلے ہوتی ہیں حضرت موسی علیہ السلام ماں کی موت کے بعد کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے ملنے جاتے ہیں غائب سے آواز آتی ہے کہ موسی ذرا سنبھل کر آنا آج وہ ہاتھ نہی رہے جو تیری سلامتی کیلے اٹھے رہتے ہیں ماں تیری عظمت و عفت پر لکھتے میرے قلم سیاہی چھوڑ جائیں گے تیری محبت وفا ایثار کا پیمانہ نہ مل سکے گا محمد بن قاسم۔ٹیپو سلطان۔صلاح الدین ایوبی تیری لوریوں کے جھولے جھول کر مقام عروج کو پہنچے میں تو صرف ان الفاظ پر قلم روکتا ہوں ماں کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ دنیا میں نہ ہو ۔۔دولت سے علم وعقل سے ماں کو نہ تولو ۔۔پھر کیوں نہ آج سے ہم اپنی ماں کی قدر کریں اور اسکی عظمت و تقدس کو پہچانیں

**اے میری ماں تیرے ممتا کے تقدس کو سلام
بھوکی رہتی ہے مگر مجھ کو کھلا دیتی ہے
مرسلہ محمد متین قیصر ندیم احمد پور سیال